کھیلتازہ ترین

براڈ پیک پر برفانی تودہ، نیپال کے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پُرجا سمیت 10 کوہ پیما لاپتا، سرچ آپریشن جاری، چار لاشیں برآمد

حکام کے مطابق پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز، مقامی ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز، ریسکیو اہلکار اور تجربہ کار کوہ پیما مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں

سید عاطف ندیم l فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے ساتھ

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے المناک واقعے نے عالمی کوہ پیمائی برادری کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ حادثے کے نتیجے میں نیپال کے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پُرجا (Nirmal Purja) سمیت 10 کوہ پیما لاپتا ہو گئے، جبکہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے ابتدائی کارروائی کے دوران چار کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کر لی ہیں۔ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے فضائی اور زمینی سطح پر بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق الپائن کلب آف پاکستان نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ کوہ پیماؤں کا ایک بین الاقوامی گروپ 8 ہزار 47 میٹر بلند براڈ پیک کو سر کرنے کے مشن پر تھا، تاہم جمعرات 30 جولائی کی دوپہر اچانک برفانی تودہ گرنے کے باعث پوری ٹیم حادثے کی زد میں آ گئی اور اس کے بعد سے ان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا۔

الپائن کلب کے مطابق مہم میں مجموعی طور پر 10 کوہ پیما شریک تھے، جن میں نیپال کے پانچ، پاکستان، عمان، امریکہ اور چین سے ایک ایک کوہ پیما شامل تھا۔ اس مہم کی قیادت دنیا کے معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پُرجا کر رہے تھے، جنہیں جدید دور کے عظیم ترین کوہ پیماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان پولیس نے تصدیق کی ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے حادثے کے مقام سے چار کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کر لی ہیں، تاہم خراب موسم، شدید برفباری، خطرناک ڈھلوانوں اور مسلسل برفانی تودے گرنے کے خدشات کے باعث امدادی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام کے مطابق پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز، مقامی ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز، ریسکیو اہلکار اور تجربہ کار کوہ پیما مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ موسم سازگار ہوتے ہی فضائی نگرانی کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ لاپتا افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔

براڈ پیک، جو قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کے قریب واقع ہے، دنیا کے خطرناک ترین پہاڑوں میں شمار ہوتی ہے۔ بلند ترین چوٹیوں کی فہرست میں اس کا بارہواں نمبر ہے، جبکہ شدید موسم، تیز ہوائیں، برفانی تودے اور دشوار گزار راستے ہر سال متعدد کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔

نرمل پُرجا کون ہیں؟

43 سالہ نرمل "نمز” پُرجا دنیا بھر میں اپنی غیر معمولی کوہ پیمائی کی کامیابیوں کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے کوہ پیمائی کو پیشہ بنانے سے قبل برطانیہ کی بریگیڈ آف گورکھاز میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں رائل میرینز کے اسپیشل بوٹ سروس (SBS) کا حصہ رہے، جہاں وہ انتہائی مشکل فوجی مشنز کا تجربہ رکھتے تھے۔

فوجی کیریئر چھوڑنے کے بعد نرمل پُرجا نے کوہ پیمائی میں ایسی کامیابیاں حاصل کیں جنہوں نے دنیا بھر میں انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

عالمی ریکارڈ جس نے تاریخ بدل دی

سال 2019 میں نرمل پُرجا نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جسے کوہ پیمائی کی تاریخ کا اہم ترین ریکارڈ قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے صرف چھ ماہ اور چھ دن کے مختصر عرصے میں دنیا کی آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیوں کو سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا، جبکہ اس سے قبل یہی کارنامہ مکمل کرنے میں کئی کوہ پیماؤں کو برسوں لگے تھے۔

ان کے اس تاریخی سفر پر مبنی دستاویزی فلم "14 Peaks: Nothing Is Impossible” بھی عالمی سطح پر بے حد مقبول ہوئی، جس نے انہیں بین الاقوامی شہرت عطا کی۔

کے ٹو کی تاریخ ساز مہم

سال 2021 میں نرمل پُرجا نے ایک اور ناقابلِ یقین کامیابی حاصل کی، جب انہوں نے نو دیگر نیپالی کوہ پیماؤں کے ساتھ مل کر دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو پہلی مرتبہ موسمِ سرما میں سر کیا۔ اس مہم کو کوہ پیمائی کی تاریخ کی مشکل ترین کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ موسمِ سرما میں کے ٹو کو سر کرنا کئی دہائیوں تک ناممکن سمجھا جاتا رہا تھا۔

عالمی کوہ پیمائی برادری میں تشویش

حادثے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کی کوہ پیمائی تنظیموں، مہم جو اداروں اور نرمل پُرجا کے مداحوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے لاپتا کوہ پیماؤں کی محفوظ بازیابی کے لیے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے، جبکہ مختلف بین الاقوامی ادارے بھی امدادی کارروائیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں کوہ پیمائی اور حفاظتی چیلنجز

پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلے ہر سال دنیا بھر سے سیکڑوں غیر ملکی کوہ پیماؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث برفانی تودے گرنے، گلیشیئرز کے عدم استحکام اور غیر متوقع موسمی تبدیلیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بلند چوٹیوں پر مہمات پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔

سرچ آپریشن جاری

حکام کا کہنا ہے کہ موسم کی سختیوں کے باوجود لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔ امدادی ٹیموں کو امید ہے کہ اگر کوئی کوہ پیما حادثے کے بعد محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے تو اسے جلد تلاش کر لیا جائے گا، تاہم دشوار گزار جغرافیہ اور خراب موسمی حالات اس آپریشن کو انتہائی پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

یہ حادثہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کوہ پیمائی کی تاریخ کے المناک واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں جدید دور کے ممتاز ترین کوہ پیماؤں میں سے ایک، نرمل پُرجا، بھی لاپتا ہیں، جن کی خدمات اور عالمی ریکارڈز کوہ پیمائی کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button