مشرق وسطیٰتازہ ترین

طالبان حکومت عالمی تنہائی کا شکار

امریکہ نے افغانستان کو ترجیحات سے خارج کر دیا، سفارتی تعلقات، امداد اور ویزا پروگرام معطل، عالمی برادری کی عدمِ تسلیم کا سلسلہ برقرار

سید عاطف ندیم-ادارت

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً پانچ برس بعد بھی طالبان حکومت کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی، سیاسی عدمِ قبولیت اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے تاحال طالبان حکومت کو افغانستان کی باضابطہ اور قانونی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا، جبکہ انسانی حقوق کی صورتحال، خواتین پر عائد پابندیوں، سیاسی شمولیت کے فقدان اور انتہاپسندانہ پالیسیوں کے باعث عالمی برادری کے تحفظات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے معروف جریدے دی ڈپلومیٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان اب امریکی خارجہ اور قومی سلامتی کی ترجیحات میں نمایاں مقام نہیں رکھتا، جبکہ واشنگٹن کی موجودہ حکمت عملی طالبان حکومت کے ساتھ محدود اور محتاط رابطوں تک محدود ہے۔

طالبان حکومت کو عالمی سطح پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا

رپورٹ کے مطابق اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے اب تک دنیا کے کسی بھی بڑے مغربی ملک نے طالبان حکومت کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔

عالمی برادری کا مؤقف ہے کہ طالبان کی جانب سے:

  • جامع اور نمائندہ حکومت قائم نہ کرنا،
  • خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم و ملازمت پر پابندیاں،
  • آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق پر قدغن،
  • سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں،
  • اور بین الاقوامی وعدوں پر مکمل عمل درآمد نہ کرنا

وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کے باعث طالبان حکومت کو سفارتی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔

امریکہ نے سفارتی سرگرمیاں معطل کر رکھی ہیں

دی ڈپلومیٹ کے مطابق 31 اگست 2021 کو افغانستان سے امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد کابل میں واقع امریکی سفارت خانے کی تمام سفارتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں، جو اب تک بحال نہیں ہو سکیں۔

امریکہ اس وقت افغانستان میں اپنا کوئی سفارتی مشن نہیں چلا رہا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات بھی محدود نوعیت کے ہیں۔

افغانستان امریکی ترجیحات سے باہر

رپورٹ کے مطابق امریکہ کی نئی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی 2025 اور نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی 2026 میں افغانستان کو اہم قومی سلامتی کے چیلنجز یا ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اب اپنی توجہ چین، روس، مشرق وسطیٰ، بحرالکاہل اور دیگر عالمی سکیورٹی چیلنجز پر مرکوز کر چکا ہے، جبکہ افغانستان امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی موضوع نہیں رہا۔

امریکی امداد معطل

دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2025 کے وسط سے افغانستان کے لیے تمام امریکی مالی امداد روک دی۔

رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے بعد مختلف ترقیاتی، معاشی اور انسانی امدادی پروگرام بھی متاثر ہوئے، جبکہ طالبان حکومت کو براہ راست کسی قسم کی امریکی مالی معاونت فراہم نہیں کی جا رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی کمزور معیشت، بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی اور انسانی بحران کے تناظر میں امداد کی معطلی نے ملک کو مزید معاشی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔

افغان شہریوں کے لیے ویزا پروگرام بھی معطل

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے افغان شہریوں کے لیے اسپیشل امیگرنٹ ویزا (SIV) سمیت مختلف اقسام کے ویزوں کا اجرا بھی معطل کر رکھا ہے۔

اس اقدام سے خصوصاً وہ افغان شہری متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے ماضی میں امریکی اداروں، فوج یا سفارتی مشنز کے ساتھ کام کیا تھا اور امریکہ منتقل ہونے کے منتظر تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ویزا پروگرام کی معطلی نے ہزاروں افغان خاندانوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

"یرغمال سفارت کاری” پر امریکی اعتراض

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے طالبان حکومت کی جانب سے بعض امریکی شہریوں کی گرفتاریوں کو "Hostage Diplomacy” (یرغمال سفارت کاری) قرار دیا ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے کر سفارتی یا سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کے منافی ہیں۔

امریکی سفیر کا مؤقف

اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر مائیک والٹز کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایسے گروہ کے ساتھ مکمل اعتماد پر مبنی تعلقات قائم نہیں کر سکتا:

  • جو امریکی شہریوں کو قید رکھے،
  • بنیادی انسانی حقوق کا احترام نہ کرے،
  • افغان عوام، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو نظر انداز کرے،
  • اور عالمی برادری کے تحفظات کا مؤثر جواب نہ دے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے امریکہ اپنی پالیسی میں انسانی حقوق، انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام کو بنیادی اہمیت دیتا رہے گا۔

عالمی سطح پر طالبان کو درپیش چیلنجز

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق طالبان حکومت کو اس وقت متعدد بڑے سفارتی اور داخلی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں:

  • بین الاقوامی سفارتی قبولیت کا فقدان،
  • غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی،
  • معاشی بحران،
  • بین الاقوامی پابندیاں،
  • خواتین کی تعلیم اور روزگار پر عالمی تنقید،
  • انسانی حقوق سے متعلق مسلسل تحفظات،
  • اور عالمی مالیاتی اداروں تک محدود رسائی

شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان حکومت عالمی برادری کے اہم مطالبات، خصوصاً جامع سیاسی نظام، خواتین کے حقوق، تعلیم، آزادی اظہار اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اقدامات کے حوالے سے پیش رفت نہیں کرتی، اس وقت تک افغانستان کی عالمی سطح پر مکمل سفارتی بحالی ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی۔

مستقبل کی صورتحال

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان محدود رابطے بعض عملی معاملات، قیدیوں کے تبادلے، انسداد دہشت گردی اور انسانی امداد تک محدود رہ سکتے ہیں، تاہم باضابطہ سفارتی تعلقات یا طالبان حکومت کی بین الاقوامی سطح پر مکمل قبولیت کا انحصار افغانستان میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی صورتحال میں ممکنہ تبدیلیوں پر ہوگا۔

افغانستان اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں داخلی استحکام، معاشی بحالی، عالمی اعتماد کی بحالی اور سفارتی قبولیت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم عوامل بن چکے ہیں، جبکہ عالمی برادری مستقبل میں طالبان حکومت کے عملی اقدامات کو ہی اس کے ساتھ تعلقات کے تعین کی بنیاد قرار دے رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button