صحتتازہ ترین

پاکستان میں نسوار کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے، تصویری انتباہ لازمی قرار دینے اور انسدادِ تمباکو قوانین کے دائرہ کار میں لانے کا مطالبہ

تمباکو نوشی اور بغیر دھوئیں والے تمباکو کی مصنوعات، خصوصاً نسوار، نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جس کے باعث صحت عامہ کو سنگین خطرات لاحق ہیں

لاہور: شاہ حسین ریجنل نیٹ ورک اور کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان (سی ٹی سی پاک) کے اشتراک سے لاہور میں تمباکو اور نکوٹین کے بڑھتے ہوئے استعمال، خصوصاً نوجوان نسل میں اس کے مضر اثرات، کے حوالے سے ایک اہم عوامی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں اراکینِ اسمبلی، ماہرینِ صحت، ماہرینِ تعلیم، وکلاء، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اساتذہ، طلبہ اور والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ تمباکو سے تیار ہونے والی تمام مصنوعات، بالخصوص نسوار، کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے، ان پر تصویری صحتی انتباہ (Pictorial Health Warnings) لازمی قرار دیا جائے اور انہیں انسدادِ تمباکو قوانین کے مکمل دائرہ کار میں لایا جائے۔

سیمینار کا مقصد عوام، بالخصوص نوجوانوں، کو تمباکو اور نکوٹین کے استعمال سے پیدا ہونے والے صحت، سماجی اور معاشی خطرات سے آگاہ کرنا، تمباکو انڈسٹری کی مارکیٹنگ حکمت عملیوں سے روشناس کرانا اور معاشرے میں اس بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کرنا تھا۔

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت

سیمینار میں رکن صوبائی اسمبلی پنجاب سمبل ملک، زیبا غفار، یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے ڈاکٹر عذیر احمد، ایڈووکیٹ فرحانہ الیاس، ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت، ڈاکٹر خالدہ، پی ایچ ڈی ایسوسی ایشن کے نمائندگان، صحت عامہ کے ماہرین، سول سوسائٹی کے ارکان، تعلیمی اداروں کے اساتذہ، طلبہ اور والدین نے شرکت کی۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمباکو نوشی اور بغیر دھوئیں والے تمباکو کی مصنوعات، خصوصاً نسوار، نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جس کے باعث صحت عامہ کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

نسوار کو قانون کے دائرہ کار میں لانے کا مطالبہ

مقررین نے زور دیا کہ نسوار سمیت تمام تمباکو مصنوعات پر یکساں قوانین کا اطلاق ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ:

  • نسوار کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔
  • تمام پیکنگ پر تصویری صحتی انتباہات لازمی کیے جائیں۔
  • فروخت، تشہیر اور تقسیم کو انسدادِ تمباکو قوانین کے تحت منظم کیا جائے۔
  • نوجوانوں اور کم عمر افراد کو تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مؤثر نگرانی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بعض تمباکو مصنوعات قانون اور ٹیکس نظام سے باہر ہونے کے باعث نہ صرف آسانی سے دستیاب ہیں بلکہ صحت عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی بن رہی ہیں۔

تمباکو اور نکوٹین نوجوان نسل کے لیے خاموش خطرہ

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تمباکو اور نکوٹین کا استعمال بظاہر معمولی یا پرکشش محسوس ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ متعدد جان لیوا بیماریوں، ذہنی دباؤ، تعلیمی کارکردگی میں کمی، معاشرتی مسائل اور معاشی بوجھ کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی کے ساتھ ساتھ بغیر دھوئیں والی تمباکو مصنوعات بھی منہ، گلے اور دیگر اعضاء کے سرطان، دل کی بیماریوں اور دیگر پیچیدہ طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔

نوجوانوں کو ٹوبیکو انڈسٹری کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت

سی ٹی سی پاک کے پراجیکٹ کوآرڈینیٹر ذیشان دانش نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات کو نوجوانوں کے لیے پرکشش انداز میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کے نقصانات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ:

"تمباکو اور نکوٹین کا استعمال بظاہر پرکشش دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے نقصانات انسانی صحت، ذہنی نشوونما، تعلیمی کارکردگی اور معاشرتی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو اس "پرکشش جال” سے بچانے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، والدین، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مشترکہ اور منظم حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

والدین اور اساتذہ کا کردار اہم قرار

سیمینار کے دوران مقررین نے اساتذہ اور والدین کے کردار پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی رہنمائی اور نگرانی ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بچوں اور نوجوانوں کو ابتدائی عمر ہی سے تمباکو کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تو انہیں اس خطرناک عادت سے بچایا جا سکتا ہے۔

صحت مند معاشرے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت

شاہ حسین ریجنل نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر ساجد حسین نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ تمباکو اور نکوٹین آج کی نوجوان نسل کے لیے ایک خاموش مگر انتہائی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا:

"ہمیں صرف آگاہی مہمات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند اور تمباکو سے پاک ماحول فراہم کر سکیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ شاہ حسین ریجنل نیٹ ورک اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر تمباکو کنٹرول کی مہم کو مزید مؤثر اور وسیع بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔

اجتماعی ذمہ داری پر زور

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنماؤں، میڈیا، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی تنظیموں کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا، کھیلوں، تعلیم اور مثبت سماجی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا تمباکو کے استعمال میں کمی لانے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اختتامی عزم

سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور کمیونٹیز میں تمباکو کنٹرول کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمباکو مصنوعات، خصوصاً نسوار، کے حوالے سے قوانین کو مزید مؤثر بنایا جائے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے، تصویری انتباہات لازمی قرار دیے جائیں اور نوجوان نسل کو تمباکو اور نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنے کے لیے قومی سطح پر جامع پالیسی اختیار کی جائے، تاکہ مستقبل میں ایک صحت مند، محفوظ اور تمباکو سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button