مشرق وسطیٰتازہ ترین

محسن رضائی کے تقرر سے خبر حذف ہونے تک، ایرانی سکیورٹی فیصلے کے مرکز میں ابہام

رضائی اس وقت سپریم لیڈر کے عسکری مشیر کا منصب سنبھال رہے ہیں اور وہ عراق ۔ ایران جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کی کمان بھی سنبھال چکے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں نمائندے کے طور پر محسن رضائی کی تقرری کا معاملہ ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے جب کہ "ایسنا” نیوز ایجنسی نے ان کی تقرری کی خبر نشر کرنے کے بعد اسے بعد میں ہٹا دیا۔

اسی طرح تسنیم اور مہر سمیت دیگر ایرانی خبر رساں اداروں نے بھی یہی خبر شائع کرنے کے بعد واپس لے لی۔

رضائی اس وقت سپریم لیڈر کے عسکری مشیر کا منصب سنبھال رہے ہیں اور وہ عراق ۔ ایران جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کی کمان بھی سنبھال چکے ہیں۔

ادھر اتوار کے روز کئی ایرانی میڈیا ذرائع سے اس خبر کے حذف کیے جانے نے اس تقرر کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ سرکاری اعلان واپس لیے جانے کی وجہ سے اس اقدام کو حتمی فیصلہ قرار دینا مشکل ہے جبکہ اس سے کئی طرح کے احتمالات کا دروازہ کھلتا ہے جن میں فیصلے کی تاخیر، اس میں ترمیم یا حتمی طریقہ کار مکمل ہونے سے پہلے اس کا شائع ہونا شامل ہے۔

اس طرح اب تک جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ ایرانی میڈیا نے محسن رضائی کی تقرری کا اعلان کیا اور پھر اس پر یوٹرن لے لیا جبکہ اس منصب کے حوالے سے کوئی حتمی اور فیصلہ کن اعلان سامنے نہیں آیا۔

ذو القدر کا برقرار رہنا ابہام میں اضافے کا باعث

دوسری طرف محمد باقر ذو القدر کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھنے سے منظر نامہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے خاص طور پر علاقائی سکیورٹی اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور میں یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے۔

اسی طرح کونسل کے اندر سپریم لیڈر کے نمائندے کا منصب کونسل کے سیکرٹری کے منصب سے مختلف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ محسن رضائی کے نام کی گردش لازمی طور پر ذو القدر کی برطرفی کو ثابت نہیں کرتی اور یہ سکیورٹی ادارے کے اندر سپریم لیڈر کی نمائندگی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی ترکیب تاحال غیر واضح ہے خواہ وہ سیکرٹریٹ کی سطح پر ہو یا اس کے اندر سپریم لیڈر کے نمائندے کی سطح پر ہو۔

حساس وقت میں پزشکیان اور مجتبیٰ خامنہ ای کی ملاقات

اس تمام ابہام کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر مجتبی خامنہ کی ملاقات نے ایک خاص اہمیت اختیار کر لی ہے۔ ایرانی ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں اقتصادی، معاشی اور عسکری امور کے علاوہ وسائل کے انتظام، توانائی، اخراجات اور بیرونی فریقوں کے ساتھ اقتصادی تعامل سے جڑے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات کی اہمیت اس کے وقت کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مستقبل کے بارے میں متضاد خبروں کے تناظر میں اور رضائی کی تقرری کی خبر سامنے آنے اور پھر اسے ہٹائے جانے کے بعد عمل میں آئی۔

اسی طرح پزشکیان بطور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے صدر کونسل کی ترکیب یا اس کے کام کرنے کے طریقوں میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی میں ایک بنیادی فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مجتبی خامنہ ای کی پرانی ویڈیو

اس ملاقات کے اعلان کے ساتھ ہی مہر نیوز ایجنسی نے گذشتہ روز ایک ویڈیو کلپ نشر کیا تھا جس میں سپریم لیڈر کو چند افراد کے درمیان بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اگرچہ تیرہ سیکنڈ کے اس کلپ میں اس کے فلمائے جانے کی تاریخ یا مقام کا تعین نہیں کیا گیا ہے لیکن اس کی اشاعت کے وقت نے اس اقدام کو ایک سیاسی اور معلوماتی پس منظر عطا کیا ہے خصوصاً اس لیے کہ یہ پزشکیان اور خامنہ ای کی ملاقات کے اعلان اور حساس امور پر ان کے مباحثے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

ادھر مبصرین کا ماننا ہے کہ اس ویڈیو کی اشاعت اگرچہ تازہ ترین نہیں ہے لیکن اسے سپریم لیڈر کے اقتدار کے ہرم میں موجودگی کو اجاگر کرنے اور اب تک ان کی عوامی سطح پر عدم موجودگی کے باوجود فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی شرکت کی تائید کے زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔

رضائی بحث کے مرکز میں

ایسی کوئی مستند معلومات موجود نہیں ہیں جو اس بات کی نشان دہی کریں کہ پزشکیان نے رضائی کی تقرری پر اعتراض کیا تھا اور نہ ہی ایسے شواہد موجود ہیں جو اس فیصلے پر کسی قسم کے اختلاف کی تصدیق کرتے ہوں۔

تاہم صدر کی سپریم لیڈر سے ملاقات کا تقرری کی خبر کی اشاعت اور پھر اس کے حذف کیے جانے کے ساتھ بیک وقت پیش آنا تجزیاتی نقطہ نظر سے اس بات کے لیے گنجائش پیدا کرتا ہے کہ شاید سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مستقبل اور اس کے اندر کرداروں کی ازسرنو تقسیم پر بحث کی گئی ہو۔

سامنے آنے والے منظر ناموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شاید رضائی کے بارے میں کوئی ابتدائی فیصلہ پیش کیا گیا ہو ،اس کے اعلان میں تاخیر کا کوئی سبب ہو یا اس پر نظر ثانی کی جائے تاہم اس کی تصدیق کے لیے کوئی حتمی شواہد موجود نہیں ہیں۔

اقتدار کی رسہ کشی ابھی طے نہیں ہوئی

یہ بحث پچھلی ان رپورٹس کا تسلسل ہے جن میں ذو القدر کو ہٹانے اور کونسل کے اندر رضائی کو نیا کردار سونپنے کے امکان کا ذکر کیا گیا تھا تاہم ذو القدر کا اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھنا ان روایات کو حقیقت میں تبدیل ہونے سے روکتا رہا ہے۔

تقرری کی خبر سامنے آنے اور پھر اس کے واپس لیے جانے کے ساتھ ہی یہ فائل ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے جبکہ کونسل کے مستقبل یا اس کے اندر متوقع تبدیلیوں کی نوعیت کے بارے میں حتمی تصویر ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔

اس وقت جب سپریم لیڈر نئی قیادت کے منصب میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں پزشکیان سے ان کی ملاقات، ان کی شائع ہونے والی ویڈیو اور محسن رضائی کے بارے میں بحث اپنے پروٹوکول سے ہٹ گئی ہے۔

اس کے باوجود ان میں سے کوئی بھی پیش رفت رضائی کی تقرری یا اس کے منسوخ ہونے کی حتمی تصدیق نہیں کرتی۔ اور جو چیز اب تک یقینی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا معاملہ ابھی تک کھلا ہوا ہے اور محسن رضائی کا نام ایران میں سکیورٹی فیصلے کے نظام کے اندر اثر و رسوخ کے مراکز کی ازسرنو ترتیب کے نمایاں عنوانات میں شامل ہو چکا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button