تازہ ترینکاروبار

ایران کی مدد کرنے پر’ دبئی کرپٹو کرنسی ایکسچینج کمپنی شیل بٹ’ پر امریکی پابندیاں

امریکی محکمہ خزانہ نے نوبی ٹیکس نامی کمپنی کو 2 جون کو پابندیوں کی زد میں لیا تھا کیونکہ یہ کمپنی ایران حکومت کی مغربی پابندیوں کے باوجود مدد کر رہی تھی

رائٹرز کے ساتھ
امریکہ نے ایران کے گرد معاشی گھیرا تنگ کرنے کی مہم جاری رکھنے کےلیے کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنے والی کثیر ملکی مگر دبئی میں قائم کمپنی پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ اس پر الزام ہے کہ یہ کمپنی ایرانی پاسدران انقلاب کور کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ پہنچا رہی تھی۔
یہ پابندیاں 31 جولائی کو سامنے آنے والی ایک رپورٹ کی بنیاد پر لگائی گئی ہے جو ‘ خبر رساں ادارے’ روئٹرز کے توسط سے سامنے آئی تھی۔ رپورٹ میں ‘ روئٹرز ‘ نے نشاندہی کی تھی دبئی میں قائم کرپٹو کمپنی ‘شیل بٹ’ نے ایران کو 4 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچایا ہے۔ ھالانکہ ایران پر پابندیاں عاید ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے پابندیاں لگنے کے بعد اس بارے میں کچھ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
تحقیقات سے یہ سامنے آیا ہے کہ ‘ شیل بٹ’ نے ایران کے مرکزی بنک کی طرف سے رقم بھجوائی۔ یہ رقم دنیا میں جوئے کے ایک بہت بڑے غیر قانونی آن لائن نیٹ ورک کے ذریعے بھیجی گئی۔ جس سے اس معاملےکا ایران اور پاسداران کے ساتھ تعلق ہونے کا پتہ چلا۔
معلوم ہوا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے یہ پابندیاں جمعہ کے روز لگائیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اس سلسلے میں ایرانی تارکین وطن کو بھی پابندیوں کی زد میں لیاہے۔ جو پاسدران کو مدد دینے والا مواد مہیا کرنے میں ملوث تھا۔ یہ مواد پاسداران انقلاب کے علاوہ نوبی ٹیکس نامی کرپٹو کرنسی ایکسچینج کو بھی جارہا تھا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے نوبی ٹیکس نامی کمپنی کو 2 جون کو پابندیوں کی زد میں لیا تھا کیونکہ یہ کمپنی ایران حکومت کی مغربی پابندیوں کے باوجود مدد کر رہی تھی۔ امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے انتباہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کو تباہ کرتی رہے گی۔ جن کی مدد سے ایرانی رجیم ابھی تک چل رہی ہے۔
‘ شیل بٹ’ کمپنی کی ویب سائٹ کئی مہینوں سے بند ہے۔ اس کے گاہک بھی کسی صورت بھی اس کے توسط سے کاروبار کرنے سے قاصرہیں۔ لیکن کرپٹو کرنسی کے ذریع رقوم کی ترسیل کا کام یہ کمپنی کر رہی ہے۔ حتیٰ کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دنوں میں بھی کمپنی کی سرگرمیاں جاری رہیں۔’ روئٹرز ‘ کی اس رپورٹ کے سامنے آنے کے کچھ ہی دن بعد یہ کمپنی دوبارہ سرگرم ہو گئی۔
‘شیل بٹ ایل ایل سی’ ان الزامات کو دوٹوک انداز میں رد کیا ہے۔ کمپنی نے کہا ہے وہ سی منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں ہے۔ نہ ہی دہشت گردی کو مدد دیتی ہے اور ہی کسی جوئے کے نیٹ ورک کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے۔ نیز یہ کہ شیل بٹ نے کہا ہے کہ اس نے اپنی ویب سائٹ کو بھی یکم اگست سے فعال کردیا تھا۔ البتہ یہ درست ہے کہ اس نے جنوری 2026 میں اپنے آپریشنز روک دیے تھے۔ ان پابندیوں کے بعد ‘ شیل بٹ’ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
‘روئٹرز ‘ کا کہنا ہے کہ ‘شیل بیٹ’ سے موصول ہونےوالی رقوم ایران میں بٹ کوائن مائننگ آپریشن میں استعمال ہوئی۔ جبکہ جوئے کے نیٹ ورک سے رابطہ ایرانی انفلوئنسرز کے ذریعے تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو جوئے کے کاروبار کے ساتھ جڑنے پر دوہرے معیار کا طعنہ دیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button