یورپ

ایران جنگ میں امریکا کو ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا بڑا نقصان، 45 ڈرونز ضائع ہونے کا دعویٰ

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے نقصان کی مجموعی مالیت تقریباً 1.3 ارب ڈالر بنتی ہے۔

سید عاطف ندیم- ادارت

امریکی بیڑے کا تقریباً ایک چوتھائی ایم کیو 9 ریپر ڈرونز سے محروم

واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکا کو اپنے جدید اور مہنگے ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکا کے تقریباً 45 ایم کیو 9 ریپر ڈرونز ضائع ہوچکے ہیں، جو امریکی بیڑے میں موجود ان ڈرونز کی مجموعی تعداد کا تقریباً ایک چوتھائی بنتے ہیں۔

رپورٹ میں امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی ڈرونز کو مختلف واقعات میں نقصان پہنچا، جن میں بعض واقعات آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی کارروائیوں سے منسلک بتائے گئے ہیں، جبکہ کچھ ڈرونز اس وقت تباہ ہوئے جب امریکی آپریٹرز کا ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ نقصان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا جدید فضائی نگرانی، انٹیلی جنس اور بغیر پائلٹ کے جنگی نظام کو ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔

45 ڈرونز کا نقصان، مالی قدر تقریباً 1.3 ارب ڈالر

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے نقصان کی مجموعی مالیت تقریباً 1.3 ارب ڈالر بنتی ہے۔

یہ رقم صرف تباہ ہونے والے ڈرونز کی براہِ راست مالی قدر کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ جنگی آپریشنز، متبادل ڈرونز کی تیاری، مرمت، لاجسٹکس، آپریٹرز کی تربیت اور دیگر متعلقہ اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔

امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے اس نقصان کا بالواسطہ مالی بوجھ بھی پیدا ہوگا، کیونکہ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے جدید فوجی سازوسامان کی جگہ نئے نظام کی خریداری اور تعیناتی کے لیے اضافی وسائل درکار ہوں گے۔

آبنائے ہرمز کے قریب متعدد ڈرونز ایرانی کارروائیوں کا نشانہ

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متعدد ایم کیو 9 ریپر ڈرونز آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔

آبنائے ہرمز خطے کی اہم ترین تزویراتی آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران یہ علاقہ شدید فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اس حساس علاقے میں ڈرونز کی تعیناتی امریکا کے لیے نگرانی اور انٹیلی جنس کے اعتبار سے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، تاہم ایرانی دفاعی کارروائیوں کے باعث امریکی بغیر پائلٹ طیاروں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بعض ڈرونز سے امریکی آپریٹرز کا رابطہ منقطع ہوا

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق تمام ایم کیو 9 ریپر ڈرونز براہِ راست دشمن کی کارروائی سے تباہ نہیں ہوئے۔

ذرائع کے مطابق بعض ڈرونز اس وقت گر کر تباہ ہوئے جب امریکی آپریٹرز کا ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ جدید ڈرونز کے لیے آپریٹر اور طیارے کے درمیان مسلسل اور محفوظ رابطہ انتہائی اہم ہوتا ہے، خصوصاً ایسے جنگی ماحول میں جہاں دشمن الیکٹرانک جنگ، سگنل میں خلل یا دیگر طریقوں سے مواصلاتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

رابطہ منقطع ہونے کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ جنگ میں صرف روایتی فضائی دفاع ہی نہیں بلکہ الیکٹرانک اور سائبر نوعیت کے خطرات بھی بغیر پائلٹ طیاروں کے لیے اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔

ایم کیو 9 ریپر کیا ہے؟

ایم کیو 9 ریپر امریکا کا معروف بغیر پائلٹ جنگی اور نگرانی کا طیارہ ہے، جسے طویل فاصلے تک نگرانی، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور مخصوص اہداف کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ ڈرون جدید سینسرز، کیمروں اور دیگر نگرانی کے نظام سے لیس کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسے مختلف ہتھیاروں سے بھی مسلح کیا جا سکتا ہے۔

ریپر کی سب سے نمایاں خصوصیات میں طویل وقت تک فضا میں رہنے کی صلاحیت شامل ہے، جس کی وجہ سے یہ مسلسل نگرانی اور جنگی آپریشنز میں امریکی فوج کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

طویل پرواز کی صلاحیت ریپر کی اہم طاقت

ایم کیو 9 ریپر کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ طویل عرصے تک فضا میں رہ کر کسی مخصوص علاقے کی نگرانی کر سکے۔

یہ صلاحیت انٹیلی جنس، نگرانی اور ہدف کی شناخت کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ روایتی جنگی طیاروں کے مقابلے میں بغیر پائلٹ نظام کا استعمال امریکی فوج کو بعض حالات میں انسانی پائلٹ کو براہِ راست خطرے میں ڈالے بغیر آپریشنز انجام دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

ریپر ڈرونز کے ذریعے امریکی افواج زمینی اور بحری سرگرمیوں کی نگرانی، ممکنہ اہداف کی نشاندہی اور جنگی صورتحال کے بارے میں مسلسل معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔

جدید نظام کے باوجود فضائی دفاع کا خطرہ

اگرچہ ایم کیو 9 ریپر جدید سینسرز اور طویل پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کے ڈیزائن میں کچھ ایسی خصوصیات بھی ہیں جو شدید فضائی دفاع کے ماحول میں اسے خطرے سے دوچار کر سکتی ہیں۔

یہ نسبتاً کم رفتار سے پرواز کرتا ہے اور عام طور پر کم یا درمیانی بلندی پر مشن انجام دے سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں دشمن کے پاس مؤثر فضائی دفاع، ریڈار اور دیگر نگرانی کے نظام موجود ہوں، ڈرون کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ایران کے پاس مختلف اقسام کے فضائی دفاعی نظام موجود ہونے کے باعث امریکی ڈرونز کے لیے ایرانی حدود کے قریب آپریشن کرنا ایک پیچیدہ فوجی چیلنج بن سکتا ہے۔

ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کا امتحان

ایم کیو 9 ریپرز کے بڑے نقصان کی اطلاعات ایران کے فضائی دفاعی نظام کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھاتی ہیں۔

اگر رپورٹ میں بیان کردہ نقصانات میں نمایاں تعداد براہِ راست ایرانی کارروائیوں سے منسلک ثابت ہوتی ہے تو یہ ایران کی فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں کے لیے اہم پیش رفت تصور کی جا سکتی ہے۔

تاہم ڈرونز کے نقصان کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں دشمن کی کارروائی، تکنیکی خرابی، رابطے میں خلل، موسم یا دیگر آپریشنل عوامل شامل ہیں۔ اس لیے ہر نقصان کو براہِ راست فضائی دفاعی کارروائی کا نتیجہ قرار دینا محتاط تجزیے کے بغیر درست نہیں ہوگا۔

امریکا کے لیے انٹیلی جنس صلاحیت کا مسئلہ

ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا نقصان صرف مالی نقصان نہیں بلکہ امریکی انٹیلی جنس اور نگرانی کی صلاحیت کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔

جنگی ماحول میں ڈرونز مسلسل نگرانی کے ذریعے زمینی اور بحری سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اگر بڑی تعداد میں ایسے پلیٹ فارم ضائع ہوجائیں تو کسی مخصوص علاقے میں مسلسل نگرانی برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

اس صورت میں امریکا کو متبادل ڈرونز، طیاروں، سیٹلائٹ نگرانی اور دیگر انٹیلی جنس ذرائع پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنگ میں بغیر پائلٹ طیاروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت

ایران امریکا جنگ میں ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا نقصان جدید جنگ کے ایک اہم رجحان کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

دنیا بھر میں عسکری طاقتیں بغیر پائلٹ فضائی نظام کو نگرانی، انٹیلی جنس اور حملہ آور کارروائیوں کے لیے تیزی سے استعمال کر رہی ہیں۔ ڈرونز کا فائدہ یہ ہے کہ انہیں انسانی پائلٹ کو براہِ راست خطرے میں ڈالے بغیر دور دراز علاقوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم جدید فضائی دفاعی نظام، الیکٹرانک جنگ اور سگنل جیمنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بڑے اور نسبتاً سست رفتار ڈرونز کے لیے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں۔

جدید جنگ میں الیکٹرانک وارفیئر کا کردار

امریکی ڈرونز سے رابطے کے منقطع ہونے کی اطلاعات نے الیکٹرانک وارفیئر کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔

بغیر پائلٹ طیاروں کے آپریشن میں محفوظ مواصلاتی رابطہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر دشمن کسی ڈرون اور اس کے کنٹرول اسٹیشن کے درمیان رابطے میں خلل ڈالنے میں کامیاب ہوجائے تو ڈرون کا مشن متاثر ہوسکتا ہے۔

اسی وجہ سے جدید جنگ میں ریڈار اور میزائل دفاع کے ساتھ ساتھ مواصلاتی نظام، جیمنگ اور دیگر الیکٹرانک صلاحیتیں بھی انتہائی اہم ہوگئی ہیں۔

ایران جنگ میں امریکی فوجی حکمت عملی کے لیے چیلنج

ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا بڑے پیمانے پر نقصان امریکی فوجی حکمت عملی کے لیے بھی ایک چیلنج قرار دیا جا سکتا ہے۔

امریکا کو ایک طرف ایران کے خلاف مسلسل نگرانی اور انٹیلی جنس کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف ایرانی دفاعی نظام کے باعث ڈرونز کو نسبتاً زیادہ خطرناک ماحول میں آپریٹ کرنا پڑ رہا ہے۔

اگر نقصانات کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو امریکی فوج کو اپنے ڈرون آپریشنز کے طریقہ کار، پرواز کی بلندی، تعیناتی کے علاقوں اور انٹیلی جنس جمع کرنے کے متبادل ذرائع پر نظر ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

1.3 ارب ڈالر کا نقصان امریکی دفاعی اخراجات پر سوال

تقریباً 1.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈرونز کا نقصان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ پر بھاری دفاعی وسائل خرچ کر رہا ہے۔

اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو تباہ ہونے والے ڈرونز اور دیگر فوجی سازوسامان کی جگہ نئے نظام کی خریداری امریکی دفاعی بجٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

اس کے علاوہ جنگی سازوسامان کے نقصانات کے باعث مستقبل میں فوجی منصوبہ بندی، ذخائر اور متبادل پلیٹ فارم کی دستیابی بھی اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔

واشنگٹن کے لیے بڑا سوال: ڈرونز کی تعیناتی کیسے کی جائے؟

ایم کیو 9 ریپرز کے نقصانات کے بعد امریکی حکمت عملی کے سامنے ایک بنیادی سوال یہ ہوگا کہ ان ڈرونز کو ایسے جنگی ماحول میں کس طرح استعمال کیا جائے جہاں دشمن کے پاس مؤثر فضائی دفاع اور الیکٹرانک جنگ کی صلاحیت موجود ہو۔

امریکا کو اپنی انٹیلی جنس ضروریات اور ڈرونز کے نقصان کے خطرے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ واشنگٹن زیادہ جدید، تیز رفتار یا کم قابلِ شناخت بغیر پائلٹ نظاموں پر توجہ بڑھائے، جبکہ موجودہ ریپر ڈرونز کو نسبتاً محفوظ علاقوں میں نگرانی کے لیے استعمال کیا جائے۔

ایران امریکا جنگ میں فضائی محاذ مزید اہم

ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے نقصان کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران امریکا جنگ میں فضائی اور الیکٹرانک محاذ کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ایران اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے امریکی نگرانی اور جنگی پلیٹ فارم کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکا جدید فضائی اور انٹیلی جنس نظام کے ذریعے ایرانی عسکری سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ مقابلہ مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی کے لیے بھی اہم مثال بن سکتا ہے کہ جدید ترین بغیر پائلٹ نظام کس حد تک ایسے دشمن کے خلاف مؤثر رہ سکتے ہیں جس کے پاس مضبوط فضائی دفاع موجود ہو۔

نتیجہ: جدید ڈرونز بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں

ایران کے ساتھ جاری جنگ میں تقریباً 45 ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کے نقصان کی رپورٹ نے امریکی جدید جنگی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ ڈرون طویل پرواز، جدید سینسرز، نگرانی اور ہدف بندی کی صلاحیتوں کے باعث امریکی فوج کے اہم ترین بغیر پائلٹ فضائی پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے، تاہم شدید فضائی دفاع اور پیچیدہ الیکٹرانک جنگ کے ماحول میں اس کی کم رفتار اور محدود دفاعی صلاحیتیں اسے خطرے سے دوچار کر سکتی ہیں۔

اگر واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں بیان کردہ نقصانات کی تعداد درست ثابت ہوتی ہے تو یہ امریکی ڈرون بیڑے کے لیے ایک غیر معمولی نقصان ہوگا، جس کی مالی قیمت تقریباً 1.3 ارب ڈالر بنتی ہے۔

ایران جنگ نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے لائی ہے کہ جدید جنگ میں مہنگے اور جدید ترین ڈرونز بھی مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں۔ مضبوط فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگ، مواصلاتی خلل اور بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی ایسے عوامل ہیں جو مستقبل کے فضائی اور ڈرون آپریشنز کی کامیابی یا ناکامی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button