
پاکستانی ٹِک ٹاک سٹار شمسو بی بی اسلام آباد کے قریب فائرنگ سے ہلاک
انہوں نے بتایا کہ بی بی جو کہ عائشہ گیلامنہ کے نام سے بھی مشہور تھیں، ان کے فون پر ایک شخص کی کال آئی جس کی شناخت کاشف عرف کاشی کے نام سے ہوئی ہے۔
ایک پاکستانی ٹک ٹاک سٹار شمشو بی بی اس ہفتے ٹیکسلا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئیں، یہ بات پولیس کو درج کروائی گئی ایف آئی آر سے معلوم ہوئی۔اٹھائیس سالہ شمسو بی بی کے والد فضل صاحبزادہ نے شکایت میں کہا کہ یہ واقعہ 14 اگست کو پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی بی جو کہ عائشہ گیلامنہ کے نام سے بھی مشہور تھیں، ان کے فون پر ایک شخص کی کال آئی جس کی شناخت کاشف عرف کاشی کے نام سے ہوئی ہے۔ اس نے انہیں فوراً گھر سے باہر آنے کو کہا۔بی بی، ان کی 15 سالہ بہن اور بھائی نعمت اللہ اپنی گاڑی میں گھر سے نکلے۔ تھوڑی دیر بعد صاحبزادہ نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا کہ بی بی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ ان کی دوسری بیٹی شدید زخمی ہو گئی۔صاحبزادہ نے بتایا کہ وہ ٹی ایچ کیو ہسپتال ٹیکسلا پہنچے اور مردہ خانے میں بی بی کی لاش کی شناخت کی۔ وہاں نعمت اللہ نے انہیں بتایا کہ 30 سے 35 سال کی عمر کے دو نامعلوم افراد نے پٹرول پمپ کے قریب موٹر سائیکل سے ان کی گاڑی پر گولیاں چلائیں۔ گولیاں بی بی کی گردن پر لگیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ فائرنگ کی وجہ سے گاڑی بھی بے قابو ہو کر دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی جس سے ان کی چھوٹی بہن زخمی ہو گئیں۔صاحبزادہ نے شکایت میں کہا، "میری بیٹی شمسو بی بی ٹک ٹاک [ویڈیوز] بناتی تھی اور تقریباً تین سے چار سال سے بنا رہی تھی۔ اس کے تقریباً 1.3 ملین فالوورز ہو چکے تھے۔” بی بی کے آفیشل ٹِک ٹاک اکاؤنٹ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مل سکا۔ مقتول کے بھائی رحمت اللہ نے کہا کہ خاندان نے بی بی کے قتل کے بعد ان کا اکاؤنٹ غیر فعال کر دیا تھا۔”اس کے 30-35 ملین سے زیادہ لائکس اور ایک ملین سے زیادہ فالوورز تھے،” انہوں نے کہا۔انہوں نے کہا کہ بی بی کے کوثر اور جاوید عرف شاہین نامی افراد سے مالی معاملات تھے۔ انہوں نے کہا کہ رقم کی واپسی کے مطالبے پر مقتولہ کو کوثر اور جاوید نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں اور اس حوالے سے اسلام آباد میں ان کے خلاف شکایت بھی درج کروائی گئی تھی۔صاحبزادہ نے کہا، "میرے پاس یہ یقین کرنے کی معقول وجہ ہے کہ میری بیٹی کو یا تو کوثر اور جاوید (عرف شاہین) نے خود یا نامعلوم افراد کے ذریعے قتل کیا ہے تاکہ وہ اس کی رقم کا غلط استعمال کر سکیں۔ اس میں کاشف عرف کاشی کی قتل میں اعانت بھی شامل ہے۔”انہوں نے مذکورہ ملزمان اور دو نامعلوم افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ صاحبزادہ نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا نعمت اللہ گاڑی پر فائرنگ کرنے والے ملزمان کی شناخت کر سکتا ہے اگر انہیں اس کے سامنے پیش کیا جائے۔پولیس نے صاحبزادہ کی جانب سے شناخت کردہ مشتبہ افراد اور نامعلوم افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (منصوبہ بندی سے قتل)، 324 (اقدامِ قتل)، 109 (قتل میں اعانت) اور 34 (متعدد افراد کی جانب سے مشترکہ ارادے سے کیا گیا فعل) کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔



