کاروبارتازہ ترین

امریکی میزبانی میں جی 20 اقتصادی اجلاس، ایران، عالمی تجارت اور نئے امریکی ٹیرفس سمیت اہم معاملات ایجنڈے پر

یکم اور دو ستمبر کو نارتھ کیرولائنا میں دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے نمائندے جمع ہوں گے، عالمی تجارتی عدم توازن، ایران سے کاروباری روابط، توانائی کی قیمتیں اور بڑھتا امریکی قرض اہم موضوعات ہوں گے

مدثر احمد-ادارت

واشنگٹن/نارتھ کیرولائنا: دنیا کی بیس بڑی معیشتوں پر مشتمل تنظیم جی 20 کا ایک اہم اقتصادی اجلاس یکم اور دو ستمبر کو امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، بین الاقوامی تجارت، امریکی ٹیرفس، ایران کے ساتھ کاروباری روابط اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت متعدد اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔

اس اجلاس کو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے لیے بھی ایک اہم سفارتی امتحان قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ امریکہ ایک ایسے وقت میں جی 20 ممالک کو اپنی معاشی اور سفارتی ترجیحات کے حوالے سے اعتماد میں لینے کی کوشش کرے گا جب عالمی معیشت متعدد بحرانوں اور تجارتی تنازعات کی زد میں ہے۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اجلاس کے دوران عالمی تجارتی عدم توازن کم کرنے، اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور ایران کے ساتھ کاروباری اور مالی روابط محدود کرنے پر زور دے گا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جی 20 کے تمام رکن ممالک ضروری نہیں کہ امریکی ترجیحات سے مکمل طور پر اتفاق کریں، کیونکہ متعدد ممالک کی بنیادی تشویش امریکہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے نئے ٹیرفس اور عالمی تجارت پر ان کے ممکنہ اثرات ہیں۔

عالمی معیشت کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا

پیر اور منگل کو ہونے والا یہ اجلاس ایک ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب عالمی معیشت بیک وقت متعدد غیر معمولی چیلنجز سے گزر رہی ہے۔

ان چیلنجز میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ نئے ٹیرفس، امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازعہ، ایران جنگ کے باعث توانائی اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی سرکاری قرض میں تیز رفتار بڑھوتری شامل ہیں۔

عالمی اقتصادی ماہرین کے مطابق ان تمام عوامل نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جبکہ بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

جی 20 اجلاس میں شریک ممالک کو اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ بڑھتی ہوئی تجارتی پابندیاں اور تحفظ پسند اقتصادی پالیسیاں عالمی ترقی کی رفتار کو کس حد تک متاثر کر رہی ہیں۔

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش اہم موضوع

اجلاس کے دوران ایران سے متعلق جاری تنازعہ بھی ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آنے کا امکان ہے۔

ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش نے تیل اور دیگر توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ تصور کی جاتی ہے، اور اس راستے میں طویل تعطل کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ پیدا ہوا ہے۔

توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث نہ صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک متاثر ہوئے ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعتی پیداوار اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق توانائی اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے تقریباً تمام بڑی معیشتوں کی اقتصادی ترقی پر دباؤ ڈالا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران جنگ اور اس کے عالمی اقتصادی اثرات نارتھ کیرولائنا میں ہونے والے جی 20 اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔

امریکہ کا ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عندیہ

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ وہ ممالک جو ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھیں گے یا ایران کے ساتھ مالی لین دین میں سہولت فراہم کریں گے، انہیں ثانوی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروباری اور مالی روابط رکھنے والے اداروں پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کو اجلاس کے دوران مزید نمایاں کیے جانے کا امکان ہے۔

واشنگٹن کی کوشش ہوگی کہ جی 20 کے رکن ممالک ایران کے ساتھ مالیاتی اور تجارتی روابط محدود کرنے کے حوالے سے امریکی موقف کو زیادہ سنجیدگی سے لیں۔

امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایران سے مبینہ مالی روابط رکھنے والے اداروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہے۔

جمعے کو امریکہ نے مصر کے ایک بینک پر بھی پابندیاں عائد کیں۔ امریکی موقف کے مطابق اس بینک کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں کے ذریعے ایران سے روابط موجود تھے۔

اس اقدام کو ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے امریکہ کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

جی 20 ممالک کی ترجیحات امریکہ سے مختلف

اگرچہ واشنگٹن ایران پر اقتصادی پابندیوں اور تجارتی دباؤ کو اجلاس کے مرکزی موضوعات میں شامل کرنا چاہتا ہے، تاہم جی 20 کے کئی ممالک کی ترجیحات مختلف ہیں۔

ماہرین کے مطابق متعدد ممالک کی توجہ بنیادی طور پر امریکی ٹیرفس، عالمی تجارت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور تحفظ پسند معاشی پالیسیوں کے اثرات پر مرکوز ہوگی۔

کئی معیشتوں کو خدشہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے درآمدات پر مزید ٹیرفس عائد کیے جانے سے عالمی تجارت میں کشیدگی بڑھے گی۔

اسی لیے اجلاس میں ایران اور پابندیوں کے معاملے کے ساتھ ساتھ امریکی تجارتی پالیسیوں پر بھی تفصیلی بحث متوقع ہے۔

یہ اختلاف رائے اجلاس کے دوران سفارتی مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ امریکہ ایک طرف ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسرے ممالک واشنگٹن کی اپنی تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹیرف پالیسی میں تبدیلی

امریکی ٹیرف پالیسی بھی اجلاس کے دوران خصوصی توجہ کا مرکز بننے کی توقع ہے۔

فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے قومی ایمرجنسی قانون کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے وسیع عالمی ٹیرفس کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے مختلف قانونی اختیارات کے تحت نئے ٹیرفس متعارف کرانے کا عمل شروع کیا۔

جولائی میں جی 20 ممالک اور یورپی یونین سمیت تقریباً 60 معیشتوں پر 10 سے ساڑھے 12 فیصد تک امریکی ٹیرفس عائد کیے گئے۔

اس اقدام نے امریکہ کے تجارتی شراکت داروں میں تشویش پیدا کی، کیونکہ نئے ٹیرفس کا براہ راست اثر درآمدات، برآمدات اور صنعتی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔

16 بڑے تجارتی شراکت دار مزید ٹیرفس کی زد میں آ سکتے ہیں

رپورٹس کے مطابق امریکہ کے 16 بڑے تجارتی شراکت داروں کو بھی مزید امریکی ٹیرفس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان ممکنہ اقدامات کا تعلق صنعتی پیداوار کی مبینہ اضافی صلاحیت سے جوڑا جا رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ بعض ممالک میں صنعتی پیداوار کی اضافی صلاحیت عالمی منڈیوں میں تجارتی عدم توازن پیدا کر رہی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک اس طرح کے اقدامات کو عالمی تجارت اور آزاد منڈی کے اصولوں کے لیے نقصان دہ قرار دے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں کے خلاف مزید ٹیرفس عائد کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں جوابی اقدامات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ایسی صورتحال عالمی تجارتی کشیدگی کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ کے لیے اہم سفارتی امتحان

نارتھ کیرولائنا میں ہونے والا اجلاس امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے لیے ایک اہم سفارتی امتحان بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

انہیں ایک طرف جی 20 ممالک کو عالمی تجارتی عدم توازن اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے امریکی ترجیحات سے آگاہ کرنا ہوگا جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مالی اور تجارتی روابط محدود کرنے کے لیے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔

تاہم اجلاس میں شریک ممالک ممکنہ طور پر امریکی ٹیرفس اور عالمی تجارت پر ان کے اثرات کے حوالے سے بھی واشنگٹن سے وضاحت اور یقین دہانیاں طلب کریں گے۔

ماہرین کے مطابق اجلاس کی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ امریکہ اپنے اقتصادی اور سفارتی اہداف کے لیے دیگر بڑی معیشتوں کے ساتھ کس حد تک اتفاق رائے پیدا کر سکتا ہے۔

عالمی اقتصادی مستقبل کے لیے اہم اجلاس

جی 20 اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب دنیا کی بڑی معیشتیں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور توانائی کے بحران کے خطرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی صورتحال، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ کی ٹیرف پالیسی اور عالمی تجارتی عدم توازن جیسے معاملات براہ راست دنیا کی بڑی معیشتوں کی ترقی اور مالی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

نارتھ کیرولائنا میں ہونے والے دو روزہ اجلاس میں ان معاملات پر ہونے والی بات چیت کو عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کی کوشش ہوگی کہ وہ ایران پر اقتصادی دباؤ اور عالمی تجارتی اصلاحات کے حوالے سے اپنی ترجیحات کو آگے بڑھائے، تاہم دیگر جی 20 ممالک کی جانب سے امریکی ٹیرفس اور تجارتی پالیسیوں پر تحفظات اجلاس کے مذاکرات کو اہم اور ممکنہ طور پر مشکل سفارتی مرحلے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

یکم اور دو ستمبر کو ہونے والا جی 20 اقتصادی اجلاس اس بات کا اہم اشارہ دے سکتا ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتیں بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، ایران تنازعے اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مستقبل میں کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button