کالمزسید عاطف ندیم

پاکستان کی ریاستی طاقت کی نئی تنظیمِ نو….سید عاطف ندیم

کیا ملک ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں جمہوری ادارے برقرار رہیں، انتخابات ہوں، پارلیمان اور حکومت موجود ہو، لیکن ریاست کی مجموعی سمت اور اہم قومی پالیسیوں میں عسکری ادارے پہلے سے زیادہ مرکزی کردار ادا کریں؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سول اور فوجی تعلقات ہمیشہ سے ریاستی نظام کی تشکیل اور سمت کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ کبھی فوج نے براہِ راست اقتدار سنبھالا، آئین معطل کیا اور مارشل لا نافذ کیا، جبکہ بعض ادوار میں منتخب حکومتیں موجود رہیں مگر ریاست کے اہم فیصلوں میں عسکری اداروں کا اثر و رسوخ نمایاں رہا۔ تاہم پاکستان کے موجودہ سیاسی و ریاستی منظرنامے میں جو تبدیلی رونما ہو رہی ہے، اسے محض سول ملٹری تعلقات کے روایتی تناظر میں سمجھنا شاید کافی نہیں۔
یہ تبدیلی ایک ایسے نظام کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں فوج براہِ راست حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالنے کے بجائے جمہوری اور آئینی ڈھانچے کے اندر اپنی موجودگی اور اثر کو زیادہ نمایاں، منظم اور ادارہ جاتی شکل دے رہی ہے۔ 2008 میں براہِ راست فوجی حکمرانی کے خاتمے کے بعد پاکستان کی ریاستی ساخت میں شاید اتنی وسیع اور تیز تنظیم نو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
ماضی میں پاکستان میں فوجی اثر و رسوخ کو اکثر ’’پردے کے پیچھے طاقت‘‘ کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔ یہ تصور عام تھا کہ بظاہر سول حکومت فیصلے کر رہی ہے، مگر ریاستی طاقت کے بعض اہم مراکز میں اصل اثر و رسوخ کہیں اور موجود ہے۔ آج صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اب طاقت کے مراکز کو مکمل طور پر پردے کے پیچھے رکھنا آسان نہیں رہا۔ فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ سفارت کاری، معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور ریاستی انتظام کے کئی اہم شعبوں میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔
یہی پاکستان کی ریاستی سیاست کا شاید سب سے اہم سوال ہے: کیا ملک ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں جمہوری ادارے برقرار رہیں، انتخابات ہوں، پارلیمان اور حکومت موجود ہو، لیکن ریاست کی مجموعی سمت اور اہم قومی پالیسیوں میں عسکری ادارے پہلے سے زیادہ مرکزی کردار ادا کریں؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کے پاکستان کے سیاسی مستقبل، جمہوری ارتقا اور ریاستی جوابدہی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان میں فوجی کردار کوئی نئی بات نہیں۔ ملک کی تاریخ کے بڑے حصے میں فوج نے یا تو براہِ راست حکومت کی ہے یا پھر ریاستی فیصلوں پر غیر معمولی اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال کا بنیادی فرق یہ ہے کہ عسکری کردار کو مکمل طور پر غیر اعلانیہ یا پوشیدہ رکھنے کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے۔قومی سلامتی کے معاملات میں فوج کا مرکزی کردار ہمیشہ واضح رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات، افغانستان، دہشت گردی کے خلاف جنگ، سرحدی سلامتی اور جوہری پالیسی جیسے معاملات میں عسکری ادارے طویل عرصے سے بنیادی فیصلہ ساز قوت رہے ہیں۔لیکن اب دائرہ وسیع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
معاشی سفارت کاری، غیر ملکی سرمایہ کاری، علاقائی روابط، خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون اور ریاستی سطح کے بڑے منصوبوں میں عسکری قیادت یا عسکری حمایت یافتہ ادارہ جاتی ڈھانچے کی موجودگی زیادہ نمایاں ہے۔ اس تبدیلی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان جیسے معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں سے دوچار ملک کو تیز رفتار فیصلوں، ادارہ جاتی تسلسل اور مضبوط عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ان کے نزدیک سول حکومتوں کی سیاسی کمزوری، حکومتوں کی بار بار تبدیلی، بیوروکریسی کی سست رفتاری اور سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید کشمکش نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے پر کرنے کے لیے ریاست کے منظم ترین ادارے کو آگے آنا پڑا۔
لیکن ناقدین اس عمل کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ان کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ فوج سیاست یا پالیسی میں اثر رکھتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر ریاست کے زیادہ سے زیادہ شعبوں میں عسکری اداروں کا کردار بڑھتا ہے تو پھر منتخب سیاسی قیادت اور سویلین اداروں کی خودمختاری بتدریج کمزور ہو سکتی ہے۔
یہ ممکن ہے کہ کسی ملک میں انتخابات ہوں، پارلیمان موجود ہو، آئین نافذ ہو اور سیاسی جماعتیں سرگرم ہوں، لیکن ریاستی طاقت کا اصل توازن منتخب اداروں کے حق میں نہ ہو۔پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوری نظام کی اصل روح یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے پالیسی بنائیں، ریاستی اداروں کو جوابدہ رکھیں اور قومی وسائل کے استعمال پر فیصلہ سازی کا اختیار عوامی نمائندوں کے ذریعے استعمال ہو۔اگر پالیسی سازی کے بڑے فیصلے، خارجہ تعلقات کی اہم سمتیں، اقتصادی ترجیحات اور ریاستی منصوبہ بندی کے بنیادی خدوخال ایسے اداروں کے زیر اثر ہوں جو براہِ راست عوامی ووٹ سے منتخب نہیں ہوتے تو جمہوری نظام کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے، چاہے اس کے ظاہری ادارے برقرار ہی کیوں نہ رہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین پاکستان کے موجودہ ماڈل کو روایتی مارشل لا قرار نہیں دیتے۔یہ ٹینکوں کے ذریعے اقتدار پر قبضہ نہیں ہے۔یہ آئین کی مکمل معطلی بھی نہیں۔یہ سیاسی جماعتوں پر مکمل پابندی بھی نہیں۔بلکہ یہ ایک ایسا انتظام ہو سکتا ہے جس میں جمہوری نظام کے ظاہری ڈھانچے کے اندر ریاستی طاقت کی نئی تقسیم وجود میں آ رہی ہو۔اس نظام میں سول حکومت حکومت کرتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کتنی خودمختاری کے ساتھ حکومت کرتی ہے؟یہی سوال پاکستان کی آنے والی سیاست کا سب سے بڑا سوال بن سکتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ ریاستی تنظیم نو میں معیشت شاید سب سے اہم میدان بن کر سامنے آئی ہے۔ماضی میں فوجی اثر و رسوخ کا سب سے زیادہ تعلق قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے جوڑا جاتا تھا۔ لیکن اب معیشت بھی قومی سلامتی کے تصور کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔پاکستان کو گزشتہ چند برسوں میں شدید معاشی مشکلات کا سامنا رہا۔ مہنگائی، قرضوں، زرمبادلہ کے ذخائر، توانائی کے بحران، سرمایہ کاری کی کمی اور سیاسی عدم استحکام نے ریاست کے لیے غیر معمولی چیلنج پیدا کیے۔ایسی صورتحال میں اقتصادی استحکام صرف وزارتِ خزانہ یا مرکزی بینک کا مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔اسی سوچ نے ریاست کے اندر ایسے نئے انتظامی اور اقتصادی ڈھانچوں کی ضرورت پیدا کی جن کا مقصد بڑے سرمایہ کاروں کے لیے فیصلوں کو تیز کرنا، بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنا اور ریاستی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ پیدا کرنا ہے۔
اس ماڈل کے حامی کہتے ہیں کہ فوج کی تنظیمی صلاحیت، منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور فیصلہ سازی کی رفتار پاکستان کی معاشی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔لیکن یہاں ایک بنیادی خطرہ بھی موجود ہے۔فوج ایک سیکیورٹی ادارہ ہے، معاشی حکومت نہیں۔معیشت کو صرف نظم و ضبط سے نہیں چلایا جا سکتا۔ سرمایہ کاروں کو ادارہ جاتی استحکام، قانونی تحفظ، آزاد عدالتیں، قابلِ پیش گوئی پالیسیاں اور سیاسی تسلسل بھی چاہیے۔اگر معیشت میں عسکری کردار بڑھتا ہے مگر ساتھ ہی سویلین اقتصادی ادارے کمزور ہوتے ہیں تو طویل المدت استحکام پیدا کرنے کے بجائے ایک نئی قسم کا ادارہ جاتی انحصار پیدا ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی اس نئی ریاستی تنظیم نو کا اہم حصہ ہے۔روایتی طور پر وزارتِ خارجہ اور سول حکومت خارجہ پالیسی کی ذمہ دار ہوتی ہے، لیکن پاکستان کی جغرافیائی اور سیکیورٹی صورتحال نے ہمیشہ فوج کو اس شعبے میں اہم کردار دیا ہے۔بھارت کے ساتھ تعلقات، کشمیر، افغانستان، چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات ایسے معاملات ہیں جہاں عسکری قیادت کی رائے ہمیشہ اہم رہی ہے۔
لیکن اگر عسکری قیادت کی براہِ راست سفارتی مصروفیات اور معاشی سفارت کاری میں کردار بڑھتا ہے تو خارجہ پالیسی کی روایتی ساخت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔اس کے فوائد بھی ہو سکتے ہیں۔
بعض ممالک میں طاقت کے مراکز کے درمیان براہِ راست رابطہ مذاکرات کو تیز اور مؤثر بنا سکتا ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ دفاعی و اقتصادی تعلقات میں عسکری روابط سفارتی پیش رفت کو آسان بنا سکتے ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی اصول بھی اہم ہے: خارجہ پالیسی میں ایک ریاست کی آواز جتنی زیادہ مربوط ہو گی، اتنا ہی اس کی ساکھ مضبوط ہو گی۔
اگر دنیا یہ سمجھنے لگے کہ پاکستان میں مختلف اداروں کے پاس مختلف سطحوں پر خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار ہے تو سوال پیدا ہوگا کہ ملک کی حتمی پالیسی کس کے ہاتھ میں ہے؟
یہ سوال صرف آئینی نہیں بلکہ سفارتی بھی ہے۔طاقت کے ساتھ جوابدہی بھی آتی ہے.یہاں اس پوری بحث کا شاید سب سے اہم پہلو سامنے آتا ہے۔
ماضی میں پاکستان کے طاقت کے ڈھانچے میں ایک بنیادی خصوصیت یہ رہی کہ حکومت کی ناکامیوں کا سیاسی بوجھ زیادہ تر منتخب حکومتوں پر پڑتا رہا۔مہنگائی ہوئی تو حکومت ذمہ دار،معیشت خراب ہوئی تو حکومت ذمہ دار، سفارتی ناکامی ہوئی تو وزیرِ خارجہ یا وزیراعظم تنقید کا نشانہ بنے۔لیکن اگر ریاستی فیصلہ سازی میں غیر منتخب طاقت کے مراکز کا کردار زیادہ نمایاں ہو جائے تو پھر جوابدہی کا اصول بھی تبدیل ہونا چاہیے۔
طاقت اور ذمہ داری کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔اگر کسی ادارے کو پالیسی پر اثر انداز ہونے کا اختیار حاصل ہے تو پالیسی کی ناکامی کی ذمہ داری سے اسے مکمل طور پر الگ نہیں رکھا جا سکتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے موجودہ طاقت کے ماڈل کو ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔اب اگر فوج ریاستی معاملات میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرتی ہے تو اس کے لیے ’’پسِ پردہ اثر و رسوخ‘‘ کا تصور کمزور ہو جائے گا۔
جب آپ سامنے آتے ہیں تو آپ کو کامیابیوں کے ساتھ ناکامیوں کا حساب بھی دینا پڑتا ہے۔اگر سرمایہ کاری آتی ہے تو اس کا کریڈٹ۔اگر معیشت بہتر ہوتی ہے تو اس کی کامیابی۔
لیکن اگر منصوبے ناکام ہوتے ہیں؟،اگر سرمایہ کاری نہیں آتی؟،اگر بیوروکریسی اور اداروں کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں؟،اگر خارجہ پالیسی میں مشکلات آتی ہیں؟،اگر عوام کی معاشی زندگی بہتر نہیں ہوتی؟،پھر ذمہ داری کس کی ہو گی؟
یہ سوال آنے والے برسوں میں پاکستان کی ریاستی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔
پاکستان کی فوج نے طویل عرصے تک خود کو قومی سلامتی اور ریاستی استحکام کے بنیادی محافظ کے طور پر پیش کیا ہے۔یہ کردار پاکستان کے جغرافیائی حالات، داخلی سلامتی کے مسائل اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔لیکن جوں جوں فوج کا کردار سیکیورٹی سے آگے بڑھ کر معیشت، سفارت کاری اور پالیسی سازی میں وسیع ہوگا، اس کے لیے خطرات بھی بڑھیں گے۔
سیکیورٹی ادارے کی کامیابی کا پیمانہ نسبتاً واضح ہوتا ہے۔سرحد محفوظ ہے یا نہیں؟،دہشت گردی کم ہوئی یا نہیں؟،دفاعی صلاحیت بہتر ہوئی یا نہیں؟
لیکن معیشت میں کامیابی کا پیمانہ بہت پیچیدہ ہے۔مہنگائی کم ہوئی یا نہیں؟،روزگار بڑھا یا نہیں؟،سرمایہ کاری آئی یا نہیں؟،غریب کی زندگی بہتر ہوئی یا نہیں؟،تعلیم اور صحت کا معیار بہتر ہوا یا نہیں؟
یہ سوال عوام براہِ راست اپنی روزمرہ زندگی سے جوڑتے ہیں۔یہاں ناکامی کو چھپانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔اسی لیے اگر فوج ریاستی پالیسی سازی کے مرکز میں آتی ہے تو وہ عوامی توقعات کے ایک نئے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔اب اسے صرف قومی سلامتی کے ادارے کے طور پر نہیں بلکہ ریاستی کارکردگی کے ایک اہم حصہ دار کے طور پر دیکھا جائے گا۔اور جب عوام کسی ادارے کو ریاستی طاقت کا حصہ دار سمجھنا شروع کر دیں تو پھر وہ اس سے نتائج بھی مانگتے ہیں۔
پاکستان میں عسکری کردار کے بڑھنے کی بحث کو صرف فوج کے فیصلوں تک محدود رکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔اس کے لیے سیاسی جماعتوں اور سول اداروں کی کمزوریوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے شدید باہمی محاذ آرائی کا شکار ہیں۔ ایک حکومت جاتی ہے تو دوسری حکومت کے خلاف نظام کو مفلوج کرنے کی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ پارلیمانی مکالمہ کمزور ہوتا ہے اور سیاسی مسائل کا حل اکثر ادارہ جاتی مذاکرات کے بجائے سڑکوں، عدالتوں یا طاقت کے دوسرے مراکز میں تلاش کیا جاتا ہے۔ایسے ماحول میں ریاستی خلا پیدا ہوتا ہےاور ریاستی خلا کبھی خالی نہیں رہتاکوئی نہ کوئی ادارہ اسے بھر دیتا ہے۔
پاکستان میں فوج سب سے منظم اور طاقتور قومی ادارہ ہونے کی وجہ سے اس خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔لیکن اس کا مستقل حل عسکری اداروں کا سیاسی اور معاشی کردار بڑھانا نہیں بلکہ سویلین اداروں کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔
مضبوط پارلیمان، پیشہ ورانہ بیوروکریسی، قابلِ اعتماد عدالتی نظام، مستقل معاشی پالیسی اور ذمہ دار سیاسی قیادت ہی وہ بنیادیں ہیں جو کسی بھی جمہوری ریاست کو طویل المدت استحکام فراہم کرتی ہیں۔
کیا یہ ماڈل کامیاب ہو سکتا ہے؟
یہ سوال آسان نہیں۔مختصر مدت میں مرکزی فیصلہ سازی، مضبوط ادارہ جاتی رابطہ اور تیز عمل درآمد بعض اہم نتائج دے سکتے ہیں۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ریاستی منصوبے اکثر سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہوتے رہے ہیں، وہاں ادارہ جاتی تسلسل ایک بڑی طاقت بن سکتا ہے۔
لیکن طویل المدت کامیابی کے لیے صرف طاقت کا ارتکاز کافی نہیں۔ہر مضبوط ریاست میں طاقت کے ساتھ جوابدہی کا نظام بھی موجود ہوتا ہے۔فیصلہ سازی کے ساتھ نگرانی بھی ضروری ہوتی ہے۔اختیار کے ساتھ قانونی حدود بھی ضروری ہوتی ہیں۔اور سب سے بڑھ کر، ریاستی اداروں کے درمیان واضح تقسیمِ کار ضروری ہوتی ہے۔
اگر فوج ریاست کے ہر مسئلے کا حل بننے کی کوشش کرے گی تو ایک مرحلے پر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ پھر سویلین اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت کیوں باقی رہ گئی؟
اور اگر سول ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے تو پھر جمہوری نظام کے حقیقی استحکام کا خواب کیسے پورا ہوگا؟
پاکستان کا اصل مسئلہ صرف سول یا فوجی حکمرانی نہیں۔اصل مسئلہ ایک ایسا ریاستی نظام پیدا کرنا ہے جہاں تمام ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر مؤثر انداز میں کام کریں۔فوج مضبوط ہو، لیکن قومی سلامتی کے دائرے میں۔پارلیمان مضبوط ہو، کیونکہ وہ عوام کی نمائندہ ہے۔حکومت مضبوط ہو، کیونکہ اسے ریاستی پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہے۔عدلیہ مضبوط ہو، کیونکہ اسے قانون کی بالادستی یقینی بنانی ہے۔اور بیوروکریسی مضبوط ہو، کیونکہ ریاست کی روزمرہ مشینری اسی کے ذریعے چلتی ہے۔
کسی ایک ادارے کا دوسرے اداروں کی کمزوریوں کی وجہ سے غیر معمولی طور پر طاقتور ہونا بظاہر استحکام پیدا کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں ادارہ جاتی عدم توازن پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
پاکستان آج شاید اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔
پاکستان کی ریاستی سیاست میں سب سے بڑی تبدیلی شاید یہی ہے کہ طاقت کے روایتی مراکز اب پہلے کی نسبت زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔ماضی میں یہ کہنا آسان تھا کہ اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔
لیکن جب کوئی ادارہ خود ریاستی پالیسی، معاشی سمت اور سفارتی روابط میں زیادہ نمایاں کردار اختیار کرتا ہے تو پھر اس کے لیے پسِ پردہ رہنا ممکن نہیں رہتااور شاید یہی اس نئے ماڈل کا سب سے بڑا امتحان ہے۔
طاقت ہمیشہ ذمہ داری کے بغیر زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔اگر پاکستان کی ریاستی تنظیم نو کامیاب ہوتی ہے، معیشت بہتر ہوتی ہے، سرمایہ کاری آتی ہے، سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے اور عوام کی زندگی میں بہتری آتی ہے تو اس کامیابی کا کریڈٹ بھی ان تمام اداروں کو ملے گا جو اس عمل کا حصہ ہیں۔لیکن اگر نتائج توقعات کے مطابق نہ آئے تو پھر ذمہ داری بھی تقسیم ہوگی۔اور یہی اصل تبدیلی ہے۔
جب جرنیل سائے سے نکل کر ریاستی منظرنامے کے نمایاں کردار بن جاتے ہیں تو وہ صرف طاقت کے مالک نہیں رہتے، بلکہ نتائج کے بھی ذمہ دار بن جاتے ہیں۔
جمہوریت کے اندر فوجی کنٹرول کا یہ ماڈل پاکستان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کی کامیابی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آیا یہ ریاستی اداروں کو مضبوط کرتا ہے یا انہیں ایک دوسرے پر مزید منحصر بنا دیتا ہے۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ مضبوط ریاست صرف طاقتور اداروں سے نہیں بنتی۔مضبوط ریاست اس وقت بنتی ہے جب طاقت، اختیار اور جوابدہی کے درمیان توازن موجود ہو۔
کیا یہ نئی ریاستی تنظیم نو ملک کو زیادہ مستحکم، زیادہ خوشحال اور زیادہ منظم بنائے گی، یا طاقت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کے ساتھ جوابدہی کے ایک نئے بحران کو جنم دے گی؟
اس سوال کا جواب صرف جرنیلوں، سیاست دانوں یا بیوروکریسی کے پاس نہیں۔
آخرکار اس کا جواب پاکستان کے عوام کی زندگی میں نظر آئے گا۔
کیونکہ ریاستی طاقت کا حقیقی امتحان پریس کانفرنسوں، اجلاسوں اور معاہدوں میں نہیں ہوتا۔
اس کا اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ کیا عام شہری کی زندگی زیادہ محفوظ، زیادہ باوقار اور زیادہ خوشحال ہوئی یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button