
ایس سی او سربراہی اجلاس اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا؟
تنظیم پر چین کا نمایاں اثر و رسوخ ہے جبکہ اس میں پاکستان بھی رکن کی حیثیت سے شامل ہے، اور دونوں ممالک بھارت کے علاقائی حریف ہیں۔
اے پی، اے ایف پی کے ساتھ
شنگھائی تعاون تنظیم کو عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم ایس سی او کوئی متحد سیاسی یا فوجی اتحاد نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے رکن ممالک کے درمیان اہم اختلافات موجود ہیں اور ہر ملک کے اپنے الگ الگ مفادات بھی ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں چین، روس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک نے ایک سکیورٹی فورم کے طور پر کیا تھا۔ گزشتہ تقریباً 25 برسوں میں تنظیم کے حجم اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے مقاصد اور پروگرام اب بھی بڑی حد تک غیر واضح ہیں اور عالمی سطح پر اس کی شناخت بھی نسبتاً محدود ہے۔
اس وقت تنظیم میں 10 ممالک شامل ہیں، جن میں روس، چین، بھارت، ایران، پاکستان، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد دیگر ممالک کو ”ڈائیلاگ پارٹنر‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔
اجلاس کے موقع پر متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ ان میں پیر کے روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات شامل ہے جبکہ منگل کو روسی صدر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی بات چیت متوقع ہے۔ منگل ہی کو شنگھائی تعاون تنظیم کے باضابطہ اجلاس ہوں گے۔
روس، جو یوکرین پر اپنی مکمل جنگ کے آغاز کے ساڑھے چار سال کے قریب پہنچ چکا ہے، اور ایران، جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے چھ ماہ مکمل کر چکا ہے، اس سربراہی اجلاس کو غیر مغربی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنانے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایران نے اس گروپ میں 2023 میں شمولیت اختیار کی تھی۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر محمد حسن نجمی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران کا خیال ہے کہ ”ان اتحادوں میں رکنیت اور فعال شرکت اسے امریکی اور یورپی پابندیوں سے بچنے یا ان سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔‘‘
تاہم ان کے مطابق اس گروپ سے ایران کو حاصل ہونے والے ٹھوس فوائد اب بھی غیر یقینی ہیں، کیونکہ ”بحران کے وقت ان اتحادوں نے شاذ و نادر ہی ایران کو اپنی مشکلات حل کرنے میں مدد دی ہے۔‘‘
روس کے ساتھ مل کر چین شنگھائی تعاون تنظیم کو مغرب کے ساتھ منسلک تنظیموں، بالخصوص جی سیون کے متبادل کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بیجنگ نے اس تنظیم کے دائرہ کار اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی ہے اور ترقیاتی و مالی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ تنظیم نے کامیابی کے ساتھ ”علاقائی تعاون کے لیے ایک نیا راستہ تلاش کیا ہے۔‘‘ بیجنگ روس کی حمایت کے ساتھ ایک ایسے متبادل عالمی نظام کے تصور کو مسلسل فروغ دیتا رہا ہے، جو موجودہ مغربی بالادستی کے مقابلے میں ایک مختلف راستہ پیش کرے۔

رکن ممالک کے لے اپنا ایجنڈا پیش کرنے کا موقع
بہت سے رکن ممالک کے لیے یہ سربراہی اجلاس اس بات کا اظہار کرنے کا ایک موقع ہو گا کہ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں خرابی کے باوجود وہ عالمی سطح پر مضبوط سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے ممالک کے لیے یہ اجلاس ٹھوس نتائج کے بجائے سفارتی تاثر اوراسٹریٹیجک پیغام رسانی کے حوالے سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔
تنظیم پر چین کا نمایاں اثر و رسوخ ہے جبکہ اس میں پاکستان بھی رکن کی حیثیت سے شامل ہے، اور دونوں ممالک بھارت کے علاقائی حریف ہیں۔
تھنک ٹینک کارنیگی انڈیا کے سکیورٹی اسٹڈیز کے ماہر دیناکر پیری نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم بھارت کو ایسے خطے میں فیصلہ سازی کی میز پر نشست فراہم کرتی ہے، جو بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت سے تشکیل پا رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم بھارت کو اپنے مفادات کے تحفظ، بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی رجحانات پر نظر رکھنے اور خود کو ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کا موقع دیتا ہے۔
پیری نے کہا، ”اگرچہ یہ تنظیم مکمل طور پر ایجنڈا تشکیل دینے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو لیکن یہ نئی دہلی کو خطے کے حالات کا براہِ راست جائزہ لینے اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی پوزیشن میں توازن پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

ترکی بھی خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا خواہاں
ترکی، جسے شنگھائی تعاون تنظیم میں شراکت دار کا درجہ حاصل ہے، بھی اس پلیٹ فارم کو خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
ترکی شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ اپنے روابط کو ایک متوازن خارجہ پالیسی کا حصہ سمجھتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت وہ نیٹو کے رکن کی حیثیت سے مغربی ممالک کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ یوریشیا کے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بھی بڑھانا چاہتا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے 2012 میں اپنے ملک کو شنگھائی تعاون تنظیم میں ”ڈائیلاگ پارٹنر‘‘ کا درجہ دلایا تھا اور وہ متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ترکی کو تنظیم کا مستقل رکن بننا چاہیے۔



