کاروبارتازہ ترین

پاکستان میں مالی شمولیت اور معاشی استحکام کی نئی پیش رفت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے مواقع میں اضافہ

ماہرین کے مطابق ہاؤسنگ سیکٹر میں مالیاتی سہولیات کی توسیع کے ملکی معیشت پر کئی سطحوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

سید عاطف ندیم-ادارت

پاکستان میں مالی شمولیت کے فروغ، معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے اقدامات کے نتیجے میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور پائیدار معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ فنانس، زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، الیکٹرک وہیکلز اور برآمدی شعبوں کے لیے مالی سہولیات میں توسیع کو ملکی معیشت کے مختلف پیداواری شعبوں کو فعال بنانے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان میں مالیاتی شمولیت کو محض بینکنگ خدمات تک رسائی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے براہِ راست سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرنے کی پالیسی پر کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جامع مالیاتی نظام کے ذریعے دستیاب سرمایہ کو زیادہ پیداواری شعبوں کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ معاشی ترقی کا دائرہ وسیع ہو اور روزگار و کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت اور مالیاتی اداروں کی کوشش ہے کہ ملک کے ایسے شعبوں کو مالی وسائل تک آسان رسائی فراہم کی جائے جو معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان شعبوں میں ہاؤسنگ، زراعت، ایس ایم ایز، گرین فنانس، الیکٹرک وہیکلز اور برآمدات سے وابستہ صنعتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

ہاؤسنگ فنانس میں نمایاں پیش رفت

مشیر وزیر خزانہ کے مطابق ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنا گھر پروگرام کے تحت مالی سہولیات حاصل کرنے کے لیے درخواستوں میں 84 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ منظور شدہ فنانسنگ کا حجم تقریباً 280 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہاؤسنگ سیکٹر میں مالیاتی سہولیات کی توسیع کے ملکی معیشت پر کئی سطحوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے سے نہ صرف گھروں کی تعمیر ممکن ہوتی ہے بلکہ سیمنٹ، سریا، بجلی کے سامان، لکڑی، ٹائلز، رنگ و روغن اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی کاروباری سرگرمیاں بڑھتی ہیں۔

ہاؤسنگ سیکٹر کو معیشت کا ایک اہم محرک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے متعدد چھوٹی اور بڑی صنعتیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری اور قرضوں کی فراہمی میں اضافے سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ شہری ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

زرعی شعبے اور دیہی معیشت کے لیے مالی رسائی

خرم شہزاد نے کہا کہ زرعی مالیاتی رسائی میں بہتری پاکستان کی وسیع دیہی آبادی اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق مالی سہولیات تک بہتر رسائی سے کسانوں کو فصلوں کی پیداوار، جدید زرعی آلات کی خریداری، بیج، کھاد اور دیگر ضروری زرعی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کی معیشت میں زراعت کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ اس شعبے سے وابستہ ہے۔ ایسے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو رسمی مالیاتی نظام میں شامل کرنا دیہی معیشت کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر زرعی قرضوں اور مالی سہولیات کی رسائی شفاف اور آسان بنائی جائے تو چھوٹے کاشتکار غیر رسمی قرضوں پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار، کسانوں کی آمدنی اور دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

تین لاکھ تیس ہزار ایس ایم ایز کے لیے 1.5 ٹریلین روپے کی رسمی فنانسنگ

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق ملک میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، یعنی ایس ایم ایز، کو 1.5 ٹریلین روپے کی رسمی فنانسنگ دستیاب ہونے سے کاروباری سرگرمیوں میں توسیع کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پاکستان کی معیشت میں روزگار، مقامی پیداوار اور کاروباری جدت کے حوالے سے اہم کردار رکھتے ہیں۔ تاہم، طویل عرصے سے ایس ایم ایز کو مالی وسائل، بینک قرضوں اور سرمایہ کاری تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق مالیاتی شعبے میں نئے اقدامات کے ذریعے کاروباری اداروں کو روایتی مالیاتی رکاوٹوں سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے کریڈٹ اسکورنگ ماڈلز متعارف کرانے کے ذریعے صرف روایتی ضمانتوں اور جائیداد پر انحصار کم کیا جا رہا ہے۔

اس نئی سوچ کے تحت کاروبار کی مالی کارکردگی، لین دین، کاروباری صلاحیت اور دیگر دستیاب مالیاتی معلومات کی بنیاد پر کریڈٹ کی اہلیت کا جائزہ لینے کے امکانات بڑھائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر جدید کریڈٹ اسکورنگ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوتا ہے تو ایسے کاروبار بھی رسمی مالیاتی نظام تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جو ماضی میں روایتی ضمانتیں فراہم نہ کر سکنے کی وجہ سے بینک قرضوں سے محروم رہتے تھے۔

گرین فنانس اور الیکٹرک وہیکلز کے شعبے میں سرگرمی

پاکستان میں گرین فنانس کے اقدامات کو بھی مالیاتی شمولیت اور پائیدار معاشی ترقی کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مشیر وزیر خزانہ کے مطابق الیکٹرک وہیکلز کے شعبے میں قرضوں کی فراہمی اور گاڑیوں کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

گرین فنانس کا بنیادی مقصد ایسے منصوبوں اور شعبوں کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے جو توانائی کے مؤثر استعمال، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور کم کاربن معیشت کی جانب پیش رفت میں مددگار ثابت ہوں۔

الیکٹرک وہیکلز کی مارکیٹ میں مالیاتی سہولیات کی دستیابی سے صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے نئی ٹیکنالوجی تک رسائی آسان ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں اور متعلقہ ٹیکنالوجی سے وابستہ صنعتوں کے فروغ کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق گرین فنانس کو صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا طویل المدتی اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔

ترسیلات زر میں اضافہ، بیرونی شعبے کے لیے مثبت اشارے

دوسری جانب جولائی 2026 کے معاشی اعداد و شمار میں ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ اور ٹیکس وصولیوں کے شعبوں میں بھی مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

جولائی کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر بڑھ کر 3 ارب 63 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی مالیاتی شعبے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں خاندانوں کی معاشی معاونت کا بھی ذریعہ بنتی ہیں۔

بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے مسلسل ترسیلات ملک کے مالیاتی نظام اور زرمبادلہ مارکیٹ کے لیے ایک اہم سہارا سمجھی جاتی ہیں۔

زرمبادلہ ذخائر 17 ارب 8 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے

جولائی کے معاشی اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17 ارب 8 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔ زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کو بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات اور مالیاتی استحکام کے حوالے سے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مضبوط زرمبادلہ ذخائر کسی بھی ملک کی بیرونی معاشی پوزیشن کے لیے اہم ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے بیرونی قرضوں کی ادائیگی، درآمدات اور دیگر بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ذخائر میں بہتری سرمایہ کاروں اور مالیاتی منڈیوں کے اعتماد کے لیے بھی مثبت اشارہ ہو سکتی ہے، تاہم اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے برآمدات، ترسیلات زر اور بیرونی سرمایہ کاری میں مسلسل بہتری ضروری ہو گی۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 38 فیصد کمی

جولائی میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہو کر 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گیا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کو بیرونی شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کسی ملک کی برآمدات، درآمدات، خدمات، آمدنی اور ترسیلات سمیت بیرونی مالیاتی لین دین کی مجموعی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات میں اضافہ، درآمدات میں توازن اور ترسیلات زر میں بہتری کا رجحان برقرار رہتا ہے تو پاکستان کے بیرونی مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

روپے میں نسبتاً استحکام

جولائی کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں بھی نسبتاً استحکام دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا رجحان برقرار رہا۔

کرنسی مارکیٹ میں استحکام کو ملکی معیشت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ روپے کی شدید قدر میں کمی درآمدی اشیا کی قیمتوں، مہنگائی اور کاروباری لاگت پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

روپے میں استحکام سے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں آسانی ہوتی ہے، جبکہ بیرونی ادائیگیوں اور درآمدی لاگت کے حوالے سے بھی نسبتاً بہتر صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں بہتری

مالی نظم و ضبط کے شعبے میں بھی جولائی کے دوران مثبت اعداد و شمار سامنے آئے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ایف بی آر، نے جولائی میں 810 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، جو مقررہ ماہانہ ہدف سے زائد بتایا گیا ہے۔

ٹیکس وصولیوں میں اضافہ حکومتی مالیاتی صلاحیت کے لیے اہم ہے کیونکہ محصولات میں بہتری سے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں، سماجی شعبے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری اخراجات کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق مالی نظم و ضبط اور ٹیکس نیٹ میں بہتری پاکستان کی طویل المدتی معاشی استحکام کی حکمت عملی کے بنیادی عناصر ہیں۔ تاہم، اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نظام کو وسیع، منصفانہ اور کاروبار دوست بنایا جائے تاکہ معاشی سرگرمیوں پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔

سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی امید

معاشی ماہرین کے مطابق جولائی 2026 کے مجموعی اعداد و شمار مالی نظم و ضبط، بیرونی مالیاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترسیلات زر میں اضافہ، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کو مجموعی طور پر معاشی استحکام کے لیے مثبت عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے اگلا اہم مرحلہ ان مالیاتی اور معاشی اشاریوں کو حقیقی اقتصادی ترقی سے منسلک کرنا ہے۔ اگر مالیاتی شمولیت کے ذریعے سرمایہ ہاؤسنگ، زراعت، صنعت، چھوٹے کاروبار، جدید ٹیکنالوجی اور برآمدی شعبوں کی طرف مؤثر انداز میں منتقل ہوتا ہے تو اس سے معیشت میں پائیدار ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

پائیدار معاشی استحکام کی جانب سفر

خرم شہزاد کے مطابق حکومت کی پالیسی کا بنیادی مقصد مالیاتی شمولیت کو محض بینک اکاؤنٹس اور قرضوں کی تعداد بڑھانے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قومی معیشت کی پیداواری صلاحیت سے جوڑنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب مالی وسائل زراعت، صنعت، چھوٹے کاروبار، برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوں گے تو اس سے معاشی مسابقت میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستان اس وقت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی شعبے کو مضبوط بنانے کے ذریعے پائیدار معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق طویل المدتی کامیابی کے لیے اصلاحات کے تسلسل، سیاسی و پالیسی استحکام، برآمدات میں اضافے، نجی سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری ماحول میں مزید بہتری ضروری ہو گی۔

جولائی 2026 کے معاشی اعداد و شمار کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مالیاتی شمولیت کے بڑھتے ہوئے اقدامات سے یہ توقع پیدا ہو رہی ہے کہ معیشت کے زیادہ سے زیادہ طبقات کو رسمی مالیاتی نظام سے جوڑ کر سرمایہ کاری، کاروبار اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button