
سید عاطف ندیم-ادارت
وزیراعظم محمد شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر جمہوریہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
بشکیک پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادلبیک قاسمالییف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی پاکستانی وفد میں شامل ہیں۔
دورۂ کرغزستان کے دوران وزیراعظم نے ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے اہم دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔
دونوں ملاقاتوں میں پاکستان کے علاقائی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط، امن و سلامتی اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بشکیک میں ہونے والی یہ ملاقاتیں پاکستان کی علاقائی سفارت کاری اور وسطی ایشیا و ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم قرار دی جا رہی ہیں۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات، علاقائی امن اور سفارتی روابط پر گفتگو
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔
پرتپاک اور دوستانہ ماحول میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی، دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی تعاون کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے رواں سال جون میں ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران کیے گئے فیصلوں پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کو عملی اقتصادی اور عوامی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے باہمی فیصلوں پر عملدرآمد ضروری ہے۔
ملاقات میں علاقائی روابط کے فروغ اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے جاری کوششوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان جغرافیائی قربت، تاریخی تعلقات اور ثقافتی و مذہبی روابط کو دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے اہم بنیاد قرار دیا گیا۔
علاقائی صورتحال اور امن کی کوششیں
ملاقات کے دوران خطے کی تازہ صورتحال اور علاقائی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران اور ان کے تعمیری روابط سے علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے مثبت نتائج کی امید ہے۔

انہوں نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے تحمل، ضبط و برداشت اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات اور سفارتی روابط کو مسلسل جاری رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ پیچیدہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری، باہمی اعتماد اور مستقل سیاسی رابطے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
صدر پزشکیان کا پاکستان کی سفارت کاری کو خراجِ تحسین
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی رشتوں کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تہران کی بھرپور خواہش کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایرانی صدر نے عصرِ حاضر کے مختلف چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی رابطوں میں تسلسل اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں عملی تعاون پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
ایک دوسرے کو دوروں کی دعوت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ان کی سہولت کے مطابق جلد از جلد پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔

دوسری جانب صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026 میں تہران میں منعقد ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے آئندہ سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔
ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ شریک ہوئے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے اہم ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کے موقع پر جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے بھی اہم ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے صدر شوکت مرزیایوف اور برادر ملک ازبکستان کے عوام کو ازبکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے فروری 2026 میں صدر مرزیایوف کے دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے اور اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے پہلے اجلاس نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار فراہم کی۔
وزیراعظم نے قیادت کی سطح پر کیے گئے فیصلوں، بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون سے متعلق منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات کو عوام کے لیے عملی اور ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کرنا پاکستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
2029 تک تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان 2029 تک دوطرفہ تجارت کا حجم 2 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ کیا۔
انہوں نے اس مقصد کے لیے توسیع شدہ ترجیحی تجارتی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد، دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط میں اضافے اور باہمی مفادات پر مبنی مشترکہ منصوبوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ نجی شعبے کے درمیان تعاون کو وسعت دے کر تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے کو دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے اہم ستونوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبہ
علاقائی روابط کو دونوں ممالک کی مشترکہ اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ملانے والے ریلوے منصوبے کی اہمیت اجاگر کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ وسطی اور جنوبی ایشیا کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ازبکستان کو پاکستان کی سمندری بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر جلد پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا اور موجودہ کثیرالجہتی ٹرانسپورٹ راہداریوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
وزیراعظم نے ازبکستان کی تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں اور ملکی ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے ذریعے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
علاقائی رابطوں میں بہتری کو وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
مختلف شعبوں میں تعاون اور فضائی روابط پر بات چیت
دونوں رہنماؤں نے صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان فضائی رابطوں میں اضافے، بالخصوص تاشقند اور کراچی کے درمیان براہِ راست پروازوں کے حوالے سے پیش رفت کی حمایت کی۔
فضائی روابط میں اضافے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیمی تبادلوں اور عوامی روابط کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی آئندہ پاکستانی صدارت کے لیے ازبکستان کی حمایت کو بھی سراہا۔
انہوں نے علاقائی سلامتی، رابطوں، تجارت اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں ازبکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور اقتصادی تعاون تنظیم سمیت دیگر کثیرالجہتی فورمز میں مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان اور ازبکستان کی اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا عزم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ازبکستان کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہترین سیاسی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے ذریعے عوام کے لیے عملی معاشی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔
بشکیک ملاقاتوں کی مجموعی سفارتی اہمیت
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ازبک صدر شوکت مرزیایوف سے ملاقاتیں پاکستان کی علاقائی سفارت کاری کے دو اہم پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایران کے ساتھ ملاقات میں بنیادی توجہ علاقائی امن، سفارتی روابط، باہمی تعاون اور پاکستان کی امن کے لیے کوششوں پر رہی، جبکہ ازبکستان کے ساتھ مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور وسطی و جنوبی ایشیا کو جوڑنے والے اقتصادی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
دونوں ملاقاتوں سے پاکستان کی یہ کوشش نمایاں ہوتی ہے کہ علاقائی ممالک کے ساتھ مضبوط سیاسی روابط کو اقتصادی تعاون، بہتر علاقائی رابطوں اور عوامی سطح پر عملی فوائد میں تبدیل کیا جائے۔
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والے یہ اعلیٰ سطحی رابطے پاکستان کے لیے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور امن، استحکام، تجارت اور پائیدار اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کا اہم موقع فراہم کر رہے ہیں۔



