یورپتازہ ترین

روسی گولہ باری سے ایک اور یوکرینی شہر کھنڈر بن گیا

 روسی فوجی اب اس شہر سے صرف 15 کلومیٹر کی دوری پر ہیں اور بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔

روئٹرز کے ساتھ

مشرقی یوکرین کے شہر دروژکیوکا کے رہائشی گزشتہ چار سال سے جاری روسی گولہ باری میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ روسی فوجی اب اس شہر سے صرف 15 کلومیٹر کی دوری پر ہیں اور بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔

یہ مشرقی یوکرین کے شہر دروژکیوکا میں آج کی حقیقت ہے، جہاں روسی فوجیوں کے شہر کے قریب پہنچ جانے کے باوجود، چند ایک شہری اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روسی فوجی اب اس شہر سے صرف 15 کلومیٹر کی دوری پر ہیں اور بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔

تباہی کے ایسے مناظر ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل محاذ کے ساتھ اکثر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ روسی فوج کی پیش قدمی کے ساتھ رہائشی عمارتیں، بازار اور دکانیں تباہ ہو رہی ہیں جبکہ شہر اور دیہات تقریباً ناقابلِ رہائش بنتے جا رہے ہیں۔

یہاں رہ جانے والے چند شہریوں میں شامل ارینا لیٹوچینکو نے کہا، ”میں سو نہیں سکتی۔‘‘

56 سالہ ارینا ٹوٹی ہوئی عمارتوں کے قریب شیشوں اور ملبے کے درمیان چلتے ہوئے بتاتی ہیں، ”کچھ لوگوں نے ہمیں اپنے ہاں پناہ دی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ”میرا گھر ختم ہو گیا، جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ وہاں بہت سی اچھی چیزیں تھیں، بہت کچھ تھا۔ ایک دھماکا ہوا اور کچھ بھی باقی نہیں رہا۔‘‘

دروژکیوکا ان اہم شہروں اور قصبوں کو ملانے والی شاہراہ پر واقع ہے، جنہیں ”فورٹریس بیلٹ‘‘ یعنی ”قلعہ بند پٹی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ شہری آبادیاں یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس پر مکمل قبضہ کرنے کی روسی کوششوں میں اہم رکاوٹ سمجھی جاتی ہیں۔

یہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے جنگی اہداف میں بدستور شامل ہے۔ تاہم فوجی حملے کے آغاز کے چار سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود روسی افواج یوکرینی دفاعی لائنوں کو توڑنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

یوکرین کے شہر دروژکیوکا میں میزائل حملے کے بعد مقامی شہری نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں (فائل فوٹو)
تباہی کے ایسے مناظر ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل محاذ کے ساتھ اکثر دیکھنے کو مل رہے ہیںتصویر: Diego Herrera Carcedo/Anadolu/picture alliance

’ہمارا شہر ختم ہو گیا‘

قریب موجود توپ خانے کی زوردار گھن گرج پر ارینا لیٹوچینکو گھبراتی نہیں ہیں۔ لیکن جب انہیں اوپر سے ڈرون کی ہلکی سی بھنبھناہٹ سنائی دیتی ہے تو وہ رک جاتی ہیں اور درخت کی شاخوں کے نیچے پناہ لینے کی کوشش کرتی ہیں۔

محاذ کے قریب روسی اور یوکرینی افواج کے ہزاروں ڈرونز آسمان پر موجود رہتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو دور بیٹھے پائلٹ کنٹرول کرتے ہیں اور اپنے اہداف تلاش کرتے ہیں تاکہ انہیں ختم کر دیا جائے۔

دروژکیوکا اور ”فورٹریس بیلٹ‘‘ کے دیگر علاقوں میں کئی سڑکوں پر حفاظتی جال بچھائے گئے ہیں تاکہ ان سے گزرنے والے افراد اور گاڑیوں کو ڈرون حملوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

63 سالہ زویا ایک جلے ہوئے بازار کے اسٹال کے باہر بنیادی غذائی اشیا فروخت کر رہی ہیں۔ خطرات کے باوجود وہ اپنا آبائی شہر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا، ”میں جانتی ہوں کہ کوئی بم آ سکتا ہے اور میں مر سکتی ہوں۔ میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہوں۔‘‘

اپنے اردگرد پھیلی تباہی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زویا نے کہا، ”یہ دل توڑ دینے والا منظر ہے۔ اسے دیکھ کر میرا رونے کو دل کرتا ہے۔ میں یہیں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا۔ ہمارا شہر ختم ہو گیا۔‘‘

روسی حملوں میں تباہ ایک مکان کی تصویر (فائل فوٹو)
روسی فوج کی پیش قدمی کے ساتھ رہائشی عمارتیں، بازار اور دکانیں تباہ ہو رہی ہیں جبکہ شہر اور دیہات تقریباً ناقابلِ رہائش بنتے جا رہے ہیںتصویر: Andriy Andriyenko/AP/picture alliance

کییف پر روسی ڈرون حملوں کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری

نیو‍ز ایجنسی روئٹرز نے کییف سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ یوکرین کے دارالحکومت اور اس کے گردونواح پر روسی ڈرون حملوں کا سلسلہ پیر کے روز پانچویں دن بھی جاری رہا، جبکہ تقریباً دن رات بجنے والے فضائی حملوں کے سائرن نے لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران ڈرونز کے جھنڈ، جن میں بہت سے جیٹ انجنوں سے چلنے والے ڈرون بھی شامل ہیں، کییف اور اس کے قریبی علاقوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حملوں میں شہری ہلاک  ہوئے جبکہ گھروں اور گوداموں کو بھی نقصان پہنچا۔

جمعہ کے روز روسی ڈرون حملے میں گولہ بارود کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ہونے والے دھماکوں میں 38 افراد ہلاک ہوئے۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو کہا تھا کہ مسلسل ڈرون حملوں کا مقصد یوکرینی عوام کو تھکا دینا اور ان کے حوصلے پست کرنا ہے۔

ان کے مطابق روس نے صرف چار دن کے دوران یوکرین پر تقریباً 1,500 ڈرونز داغے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button