پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

محکمہ خصوصی تعلیم کے زیر اہتمام سپیشل ایجوکیشن پر پالیسی ڈائیلاگ، "لاہور ڈکلیریشن” بھی پیش کر دیا

"لاہور ڈکلیریشن" نہایت عرق ریزی سے تیار کیا گیا، اس میں سپیشل بچوں کے مسائل کا حل موجود ہے۔ سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن

ناصف اعوان-ادارت
محکمہ سپیشل ایجوکیشن کے زیر اہتمام خصوصی تعلیم کے شعبے میں ریفارمز کی ضرورت و اہمیت کے حوالے سے پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے، خصوصی طلباء کے لیے نصابی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ اور شمولیتی تعلیمی خدمات کو مزید مؤثر بنانے پر مشاورت ہوئی۔ یونیسیف کے تعاون سے منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ میں یونیسیف کے چیف آفیسر رمیز بہبودوف، محکمہ سکول ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن اور خصوصی تعلیم کے سیکرٹریز، سپیشل ایجوکیشن کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کے نمائندگان اور مختلف جامعات کے وائس چانسلرز نے شرکت کی۔ مقررین نے خصوصی تعلیم کے موجودہ نظام کو دورِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر سیکریٹری سپیشل ایجوکیشن شعیب اقبال نے خصوصی بچوں کی تعلیم، مشکلات کے تدارک، باہمی ذمہ داریوں، کوالٹی تدریس و تعلیم، چیلنجز کے احاطے، پروفیشنل ڈیویلپمنٹ، مواقعوں کی فراہمی، فرینڈلی ماحول اور ان کے خود مختار مستقبل کیلئے تجاویز و آراء اور سفارشات پر مبنی "لاہور ڈکلیریشن” بھی پیش کیا۔ سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ "لاہور ڈکلیریشن” بہت عرق ریزی سے تیار کیا گیا ہے جس میں سپیشل بچوں کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ تقریب میں خصوصی طلباء کو جدید ٹیکنالوجی سے مؤثر طور پر منسلک کرنے، سپیشل ایجوکیشن سے متعلق پالیسی فیصلوں پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد یقینی اور دستیاب سہولیات کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ تمام سٹیک ہولڈرز نے سکیم آف اسٹڈیز میں خصوصی بچوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر تبدیلیوں پر زور دیا اور تعلیمی نظام میں شمولیت پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ پالیسی ڈائیلاگ میں خصوصی بچوں کے لیے دوستانہ، محفوظ اور معاون تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر اشتراکِ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان کو درپیش تعلیمی، سماجی اور انتظامی مشکلات کے تدارک کے لیے حکمت عملیوں کو مزید مؤثر بنانے اور عملی اقدامات کے حوالے سے مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ شرکاء نے خصوصی بچوں اور ان کے والدین کو درپیش مشکلات میں کمی لانے کے لیے تعلیمی و معاون خدمات تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے مؤثر اقدامات پر اتفاق کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button