یورپتازہ ترین

روس کا جرمن ثقافتی مراکز بند کرنے کا اعلان، ماسکو اور برلن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

روس اور جرمنی کے درمیان تازہ تنازع کی بنیادی وجہ چار اگست کو لائپزگ ہالے ایئرپورٹ کے قریب پیش آنے والا واقعہ ہے، جہاں دھماکا خیز مواد سے لیس ایک ڈرون برآمد ہوا۔

روسی ایجنسی کے ساتھ

ماسکو/برلن — روس اور جرمنی کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ روس نے ملک میں قائم جرمن ثقافتی مراکز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام جرمنی کی جانب سے برلن میں قائم روسی ثقافتی مرکز ’’رشین ہاؤس‘‘ اور بون میں روسی قونصل خانے کو بند کرنے کے فیصلے کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے روس کے شہر ولادی ووستوک میں منعقدہ ایسٹرن اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور یکاترنبرگ میں قائم گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے ثقافتی مراکز بند کیے جائیں گے۔

لاوروف کے مطابق جرمنی کو پہلے ہی اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ روسی ثقافتی اداروں کے خلاف کارروائی کا ردعمل روس میں جرمن ثقافتی موجودگی کے خاتمے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برلن کے اقدامات کا جواب دینا ماسکو کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔

یہ پیش رفت اس بات کی ایک اور علامت سمجھی جا رہی ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد روس اور جرمنی کے درمیان تعلقات صرف دفاعی اور اقتصادی شعبوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب ثقافت، تعلیم، سفارت کاری اور عوامی رابطوں کے شعبے بھی براہِ راست متاثر ہورہے ہیں۔

لائپزگ ہالے واقعہ کشیدگی کا نیا مرکز

روس اور جرمنی کے درمیان تازہ تنازع کی بنیادی وجہ چار اگست کو لائپزگ ہالے ایئرپورٹ کے قریب پیش آنے والا واقعہ ہے، جہاں دھماکا خیز مواد سے لیس ایک ڈرون برآمد ہوا۔

رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون ایک یوکرینی طیارے کے قریب پایا گیا تھا، جس کے بعد اسے ناکارہ بنا دیا گیا۔ لائپزگ ہالے ایئرپورٹ جرمنی کے اہم ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور بین الاقوامی کارگو کی نقل و حمل کے علاوہ یوکرین کے لیے فراہم کی جانے والی امداد کی ترسیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

واقعے کے بعد جرمن حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ڈرون کسی وسیع تر تخریبی کارروائی کا حصہ ہوسکتا ہے۔ برلن نے اس واقعے کی ذمہ داری روس پر عائد کرتے ہوئے ماسکو کے خلاف سخت ردعمل کا اعلان کیا۔

اسی سلسلے میں جرمنی نے بون میں قائم روسی قونصل خانے اور برلن میں موجود رشین ہاؤس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

جرمنی کا روس پر تخریبی کارروائیوں کا الزام

جرمن حکام اور بعض دیگر مغربی ممالک پہلے ہی روس پر یورپ میں تخریب کاری، سائبر حملوں، جاسوسی اور دیگر ہائبرڈ کارروائیوں کے ذریعے یوکرین کے لیے مغربی حمایت کو کمزور کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

مغربی حکومتوں کے مطابق روس روایتی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایسی غیر روایتی سرگرمیوں کو بھی استعمال کر رہا ہے جن کا مقصد یورپی ممالک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا، حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا اور عوامی رائے کو متاثر کرنا ہے۔

لائپزگ ہالے کا واقعہ اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم روس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

ماسکو نے الزامات مسترد کردیئے

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے روس پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جرمن حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی داخلی مشکلات اور عوامی عدم اطمینان سے توجہ ہٹانے کے لیے ماسکو کو ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔

پوٹن نے روس کے خلاف پیش کیے جانے والے شواہد پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض شواہد ’’پلانٹ کیے گئے‘‘ ہیں۔

ماسکو کا مؤقف ہے کہ مغربی ممالک یوکرین جنگ کے بعد روس کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کے لیے مختلف واقعات کو روس کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے مسلسل پابندیوں اور سفارتی اقدامات نے پہلے ہی دوطرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب ثقافتی اداروں کو بھی سیاسی تنازع کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی بندش کا فیصلہ کیوں اہم ہے؟

روس میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے مراکز جرمن زبان، ثقافت، تعلیم اور جرمنی و روس کے درمیان عوامی سطح پر رابطوں کے لیے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور یکاترنبرگ میں ان مراکز کی بندش سے روس میں جرمن ثقافتی سرگرمیوں کا دائرہ نمایاں طور پر محدود ہوسکتا ہے۔

ثقافتی ادارے عام طور پر براہِ راست سفارتی ادارے نہیں ہوتے، لیکن ان کے ذریعے زبان سیکھنے، تعلیمی تبادلوں، فنون، ادب اور شہری روابط کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے اداروں کی بندش کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں موجود گہری بداعتمادی کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

روس اور جرمنی کے درمیان ثقافتی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط رہے ہیں، لیکن یوکرین جنگ نے ان تعلقات کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے۔

روسی ثقافتی اداروں کے خلاف جرمن اقدامات

برلن میں روسی ثقافتی مرکز رشین ہاؤس کو بند کرنے کا جرمن فیصلہ بھی ماسکو کے لیے ایک اہم سفارتی اور علامتی دھچکا سمجھا گیا۔

رشین ہاؤس روسی زبان، ثقافت اور تعلیم سے متعلق سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ روس اور جرمنی کے درمیان عوامی روابط کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔

جرمنی کی جانب سے اس ادارے کے خلاف کارروائی نے روسی حکومت کو سخت ردعمل پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں اب روس میں جرمن ثقافتی مراکز بھی بند کیے جانے کا اعلان سامنے آیا ہے۔

یوں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اب ’’جوابی اقدامات‘‘ کے ایک ایسے سلسلے میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس میں ہر فریق دوسرے کے سفارتی، ثقافتی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یورپی یونین بھی ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے

لائپزگ ہالے واقعے کے بعد معاملہ صرف جرمنی اور روس تک محدود نہیں رہا بلکہ یورپی یونین بھی روس کے خلاف مزید اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے اس واقعے کو ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی علامات رکھنے والا واقعہ قرار دیا ہے۔

یورپی وزرائے خارجہ کی سطح پر روس کے خلاف مزید پابندیوں، ویزا پابندیوں اور روسی قونصل خانوں کی بندش جیسے اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔

اگر یورپی یونین مزید سخت اقدامات نافذ کرتی ہے تو روس اور یورپ کے درمیان پہلے سے خراب تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

روس کے خلاف پابندیوں کا بڑھتا ہوا دائرہ

یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے یورپی یونین روس کے خلاف متعدد پابندیوں کے پیکیجز نافذ کر چکی ہے۔

ان پابندیوں کے تحت روسی حکام، کاروباری شخصیات، مالیاتی اداروں، کمپنیوں اور دیگر اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہزاروں افراد اور اداروں کے خلاف سفری پابندیاں، اثاثے منجمد کرنے اور دیگر اقتصادی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت کو محدود کرنا اور ماسکو پر سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔

دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیاں خود یورپی معیشتوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور عالمی تجارت میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں۔

مزید افراد پر پابندیوں کی تیاری

یورپی یونین کی جانب سے تقریباً 1,600 مزید افراد کے خلاف سفری پابندیوں اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات کی تیاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اگر یہ اقدامات نافذ کیے جاتے ہیں تو روسی اشرافیہ، حکومتی اہلکاروں اور مختلف اداروں پر یورپی دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔

ماسکو کی جانب سے ماضی میں بھی یورپی پابندیوں کے جواب میں جوابی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، اس لیے نئے یورپی اقدامات کے بعد روس کی جانب سے مزید جوابی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔

یوکرین جنگ نے روس جرمنی تعلقات کیسے بدلے؟

یوکرین جنگ سے پہلے روس اور جرمنی کے درمیان مضبوط اقتصادی، توانائی، صنعتی اور تجارتی روابط موجود تھے۔ جرمنی روسی توانائی کا ایک بڑا خریدار تھا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں کاروباری اور عوامی روابط بھی قائم تھے۔

جنگ کے بعد جرمنی نے روس کے حوالے سے اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی۔ برلن نے یوکرین کی سیاسی، مالی اور فوجی حمایت میں اضافہ کیا اور روس کے خلاف یورپی پابندیوں کی حمایت کی۔

ماسکو نے جرمنی کو ان یورپی ممالک میں شمار کرنا شروع کردیا جو روس کے خلاف مغربی پالیسی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

ثقافتی جنگ کا نیا مرحلہ

تجزیہ کاروں کے مطابق روس میں جرمن ثقافتی مراکز اور جرمنی میں روسی ثقافتی اداروں کی بندش محض انتظامی فیصلے نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی لڑائی کی علامت ہے۔

یوکرین جنگ کے بعد روس اور مغرب کے درمیان مقابلہ اب میدان جنگ سے آگے بڑھ کر میڈیا، سائبر اسپیس، ثقافت، تعلیم، سفارت کاری اور عوامی رابطوں تک پہنچ چکا ہے۔

دونوں فریق ایک دوسرے پر ’’ہائبرڈ وار‘‘ کا الزام لگاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اقدامات کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

ایسے ماحول میں ثقافتی ادارے بھی سیاسی کشمکش سے محفوظ نہیں رہے۔

یورپ میں روسی سفارتی موجودگی کا مستقبل

اگر یورپی ممالک روسی قونصل خانوں اور ثقافتی اداروں کی بندش کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو روس کی یورپ میں سفارتی موجودگی مزید محدود ہوسکتی ہے۔

اسی طرح روس بھی یورپی ممالک کے سفارتی و ثقافتی اداروں کے خلاف جوابی اقدامات کرسکتا ہے۔

اس صورتحال سے دونوں ممالک کے عام شہری بھی متاثر ہوسکتے ہیں، کیونکہ قونصلر خدمات، ویزا، تعلیمی روابط، ثقافتی پروگرام اور عوامی سطح پر رابطوں کے مواقع محدود ہونے کا امکان ہے۔

کیا کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے؟

روس اور جرمنی کے درمیان موجودہ صورتحال میں فوری طور پر کشیدگی کم ہونے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بنیادی مسئلے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں شدید اختلاف موجود ہے۔

برلن یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے، جبکہ ماسکو مغربی ممالک پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ روس کے خلاف وسیع تر سیاسی اور اقتصادی جنگ لڑ رہے ہیں۔

لائپزگ ہالے واقعے جیسے واقعات اس کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً اگر کسی واقعے میں براہِ راست جانی نقصان ہو یا کسی فریق کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا جائے۔

عالمی سیاست پر ممکنہ اثرات

روس اور جرمنی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات یورپ کی مجموعی سلامتی اور عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور یورپی یونین کی خارجہ، دفاعی اور اقتصادی پالیسی میں اس کا اہم کردار ہے۔ اگر برلن روس کے خلاف مزید سخت اقدامات کی قیادت کرتا ہے تو یورپی یونین کی اجتماعی پالیسی بھی مزید سخت ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ماسکو بھی چین، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ساتھ اپنے اقتصادی و سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یوں روس اور مغرب کے درمیان جاری کشمکش عالمی سیاست میں ایک نئی صف بندی کو مزید تیز کرسکتی ہے۔

نتیجہ

روس کی جانب سے ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور یکاترنبرگ میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے ثقافتی مراکز بند کرنے کا اعلان روس اور جرمنی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک نئی اور اہم کڑی ہے۔

جرمنی کی جانب سے برلن میں رشین ہاؤس اور بون میں روسی قونصل خانے کی بندش کے جواب میں ماسکو کا یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع اب صرف یوکرین جنگ یا اقتصادی پابندیوں تک محدود نہیں رہا۔

لائپزگ ہالے ایئرپورٹ کے قریب دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرون کی دریافت نے ایک بار پھر یورپ میں روسی مبینہ تخریبی سرگرمیوں کے سوال کو مرکزی بحث بنا دیا ہے، جبکہ ماسکو ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی مہم قرار دے رہا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین مزید پابندیوں، ویزا پابندیوں اور روسی سفارتی مراکز کے خلاف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو روس اور یورپ کے درمیان سفارتی تعلقات مزید محدود، اقتصادی روابط مزید کمزور اور عوامی و ثقافتی رابطے مزید متاثر ہوسکتے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد پیدا ہونے والی خلیج اب ایک ایسے مرحلے میں پہنچتی دکھائی دے رہی ہے جہاں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ ثقافت بھی بڑی طاقتوں کی جغرافیائی سیاسی کشمکش کا میدان بن چکی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button