
روئٹرز کے ساتھ
ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ جولائی میں مراکش سے ہسپانوی علاقے سیوتا میں مہاجرین کی اجتماعی آمد کے بارے میں اب تک ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکے کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی یا اس پر عمل درآمد مراکشی حکام نے کیا تھا۔
سانچیز نے جمعرات کو ہسپانوی پارلیمان کے ایوان زیریں میں یہ بیان ایک ایسی پولیس رپورٹ سامنے آنے کے بعد دیا، جس کے مطابق سیوتا میں بڑی تعداد میں لوگوں کا داخلہ محض اچانک پیدا ہونے والی مہاجرت کی لہر نہیں تھا بلکہ بظاہر منصوبہ بند اور مختلف مراحل میں کی جانے والی کارروائی تھی، جس کا مقصد سرحدی نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈالنا تھا۔
سانچیز کے مطابق ہسپانوی سفارتی اداروں، یورپی کمیشن یا کسی دوسرے بین الاقوامی ادارے نے حکومت کو ایسا کوئی قابل اعتماد ثبوت فراہم نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ مراکشی ریاست نے اس واقعے کی منصوبہ بندی کی یا اسے انجام دیا۔
تاہم ہسپانوی وزیر اعظم نے ایک اہم نکتہ تسلیم کیا۔ ان کے مطابق 30 جولائی کو تقریباً دس گھنٹے کے دورانیے میں مراکش کی سرحدی فورس نے سرحد پار کرنے والوں کو نہیں روکا اور اسی دوران سیوتا پہنچنے والے افراد کی تعداد عروج پر تھی۔
سانچیز کا کہنا تھا کہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ مراکشی فورسز نے جان بوجھ کر کارروائی نہیں کی یا وہ اتنے بڑے ہجوم کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھیں۔
روئٹرز کی جانب سے دیکھی گئی ہسپانوی پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیوتا اور مراکش کو الگ کرنے والے تاراخال بریک واٹر کے قریب ابتدائی طور پر مراکشی سکیورٹی اہلکار معمول کے مقابلے میں کم تعداد میں تعینات تھے اور انہوں نے جمع ہونے والے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مراکشی وردی میں موجود بعض اہلکار لوگوں کو سرحدی گزرگاہ کی سمت بتا رہے تھے جبکہ کچھ نامعلوم افراد لوگوں کے بہاؤ کی رہنمائی یا نگرانی کرتے دکھائی دیے۔
تاہم رپورٹ میں کسی مخصوص مراکشی اہلکار کی شناخت نہیں کی گئی اور نہ ہی اس میں ایسا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ثبوت پیش کیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ مراکشی حکومت یا اعلیٰ حکام نے لوگوں کو سرحد پار کرانے کے احکامات جاری کیے تھے۔



