پاکستاناہم خبریں

شنگھائی تعاون تنظیم کی 2027 کی سربراہی کانفرنس: پاکستان کا 6 ارب 60 کروڑ روپے سے 30 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

ایسے بڑے بین الاقوامی اجلاس کے دوران مہمانوں کی نقل و حرکت، قیام، سکیورٹی اور پروٹوکول کے لیے خصوصی انتظامات کرنا میزبان ملک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان نے 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کے لیے انتظامات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومت نے اہم غیر ملکی مہمانوں اور سربراہانِ مملکت و حکومت کی سکیورٹی اور آمد و رفت کے لیے 30 نئی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی منظوری دے دی ہے، جن پر 6 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

یہ فیصلہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں کابینہ ڈویژن کی جانب سے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے پیش کی گئی سمری پر تفصیلی غور کیا گیا۔

12 ارب 60 کروڑ روپے کی درخواست، 6.6 ارب کی منظوری

کابینہ ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجی گئی سمری میں 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر 12 ارب 60 کروڑ روپے کے فنڈز مانگے تھے۔

تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سمری کا جائزہ لینے کے بعد مطلوبہ رقم میں نمایاں کمی کرتے ہوئے 6 ارب 60 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ یوں کابینہ ڈویژن کی جانب سے طلب کی گئی رقم کے مقابلے میں تقریباً 6 ارب روپے کم منظور کیے گئے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کو یہ بھی ہدایت کی کہ گاڑیوں کی خریداری کی ضرورت، تعداد اور دیگر متعلقہ معاملات کا مزید گہرائی سے جائزہ لیا جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر بعد میں مزید فنڈز یا کسی اضافی اقدام کی ضرورت محسوس ہو تو کابینہ ڈویژن دوبارہ متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔

2027 میں پاکستان ایس سی او سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا

پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ سربراہی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ستمبر 2027 میں ایس سی او سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرنا ہوگی۔ حکومت نے اسی تناظر میں کانفرنس کے انتظامی، سفارتی اور سکیورٹی انتظامات کئی ماہ قبل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایس سی او سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت، اعلیٰ سطحی وفود، وزراء اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہوتی ہے۔ ایسے بڑے بین الاقوامی اجلاس کے دوران مہمانوں کی نقل و حرکت، قیام، سکیورٹی اور پروٹوکول کے لیے خصوصی انتظامات کرنا میزبان ملک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری بھی اسی سکیورٹی اور پروٹوکول انتظامات کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔

اکتوبر 2024 میں بھی پاکستان میں ایس سی او اجلاس

پاکستان اس سے قبل بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کر چکا ہے۔ اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں تنظیم کے رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں اور سربراہان نے شرکت کی تھی۔

اس اجلاس کے دوران اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے اور مختلف مقامات پر غیر ملکی وفود کی آمد و رفت کے لیے خصوصی پروٹوکول ترتیب دیا گیا تھا۔

2027 کی سربراہی کانفرنس اس لحاظ سے بھی اہم ہوگی کہ اس میں پاکستان کو تنظیم کی آئندہ سمت، علاقائی تعاون، تجارت، معیشت، رابطہ کاری اور دیگر مشترکہ معاملات پر اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کیا ہے؟

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم علاقائی بین الحکومتی تنظیم ہے جس میں ایشیا کے متعدد بڑے ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کے مستقل رکن ممالک میں پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔

ایس سی او کے رکن ممالک جغرافیائی اعتبار سے ایک وسیع خطے پر مشتمل ہیں اور عالمی معیشت، تجارت، توانائی، آبادی اور علاقائی سیاست میں نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔

تنظیم کے پلیٹ فارم پر رکن ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ، علاقائی رابطہ کاری، زراعت اور ثقافتی روابط کو فروغ دینے کے معاملات بھی زیر بحث آتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اہم سفارتی موقع

2027 کی سربراہی کانفرنس پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع بھی تصور کی جا رہی ہے۔ ایس سی او کے رکن ممالک میں دنیا کی بڑی معیشتیں اور اہم علاقائی طاقتیں شامل ہیں، اس لیے سربراہی اجلاس کی میزبانی پاکستان کو اعلیٰ سطح پر دوطرفہ اور کثیر الجہتی سفارتی روابط بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔

خصوصاً چین، روس، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کے لیے یہ فورم اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے ایس سی او کی سربراہی ایسے وقت میں بھی اہم ہے جب ملک علاقائی تجارت اور اقتصادی روابط بڑھانے کے لیے وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

سکیورٹی اور پروٹوکول پر خصوصی توجہ

سربراہی اجلاس جیسے بڑے بین الاقوامی ایونٹ میں غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت کے باعث سکیورٹی انتظامات انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال بھی اسی سکیورٹی پروٹوکول کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

30 گاڑیوں کی خریداری کی منظوری کے ذریعے حکومت کانفرنس سے قبل مطلوبہ سفارتی اور سکیورٹی وسائل دستیاب رکھنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے کابینہ ڈویژن کو ضرورت کا مزید جائزہ لینے کی ہدایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اخراجات کو بھی مدنظر رکھنا چاہتی ہے۔

حکومت نے اخراجات میں کمی کی کوشش کی

کابینہ ڈویژن کی جانب سے 12 ارب 60 کروڑ روپے کی درخواست کے مقابلے میں 6 ارب 60 کروڑ روپے کی منظوری کو حکومت کی جانب سے اخراجات پر نظر رکھنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مکمل رقم منظور کرنے کے بجائے تقریباً نصف رقم کی منظوری دی اور ساتھ ہی کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ گاڑیوں کی تعداد اور خریداری کی ضرورت کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

کمیٹی نے یہ گنجائش بھی رکھی ہے کہ اگر مستقبل میں حقیقی ضرورت سامنے آئے تو کابینہ ڈویژن اضافی فنڈز کے لیے دوبارہ رجوع کر سکتا ہے۔

2027 کے اجلاس کے لیے ابتدائی تیاری شروع

حکومت کی جانب سے ابھی سے گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان نے 2027 کی ایس سی او سربراہی کانفرنس کے انتظامات کو ابتدائی مرحلے ہی میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کانفرنس سے قبل سکیورٹی، ٹرانسپورٹ، رہائش، سفارتی پروٹوکول، میڈیا کوریج، مواصلاتی نظام اور دیگر انتظامی معاملات کے لیے بھی مختلف سطحوں پر تیاری کی ضرورت ہوگی۔

حکومت کو امید ہے کہ ایس سی او سربراہی کانفرنس پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو مزید متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ملک کی میزبانی اور انتظامی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرے گی۔

یوں 2027 میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی منظوری پاکستان کی جانب سے بڑے بین الاقوامی اجلاس کی سکیورٹی اور پروٹوکول ضروریات پوری کرنے کے لیے کیے جانے والے ابتدائی اقدامات میں ایک اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button