پاکستان

پاکستان میں یوم بحریہ منایا گیا، 1965 کی جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت

یوم بحریہ: آپریشن دوارکا کی وہ رات جب پاک بحریہ نے تاریخ رقم کی,1965 کے شہداء کو سلام

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان بھر میں آج 8 ستمبر کو یوم بحریہ قومی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر 1965 کی جنگ کے دوران وطن کے سمندری دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک بحریہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات، قربانی اور ملکی سمندری حدود کے دفاع کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔

 

یوم بحریہ ہر سال 8 ستمبر کو 1965 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی جانب سے انجام دی جانے والی تاریخی بحری کارروائیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا سب سے نمایاں حوالہ آپریشن دوارکا ہے، جسے پاک بحریہ کی تاریخ کی اہم ترین کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آپریشن دوارکا، پاک بحریہ کی تاریخ کا اہم باب

1965 کی جنگ کے دوران 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب پاک بحریہ کے سات جنگی جہازوں نے بھارتی ساحلی شہر دوارکا کے قریب ایک اہم بحری کارروائی انجام دی۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد بھارتی ساحلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ آپریشن کے دوران بھارتی ریڈار اسٹیشن اور ریڈیو بیکن کو نقصان پہنچا اور اس کارروائی نے پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیت، منصوبہ بندی اور جنگی تیاری کا عملی مظاہرہ کیا۔

آپریشن دوارکا ایسے وقت میں کیا گیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جاری تھی۔ پاک بحریہ نے اس کارروائی کے ذریعے نہ صرف اپنی بحری طاقت کا مظاہرہ کیا بلکہ پاکستان کے ساحلی اور سمندری مفادات کے دفاع کے لیے اپنے عزم کو بھی واضح کیا۔

یہ کارروائی آج بھی پاک بحریہ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر یاد کی جاتی ہے اور ہر سال یوم بحریہ کے موقع پر اس کے کردار اور اس سے وابستہ اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری کا شہداء کو خراج عقیدت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم بحریہ کے موقع پر اپنے پیغام میں پاک بحریہ کے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

صدر نے کہا کہ 7 اور 8 ستمبر 1965 کی درمیانی شب بھارتی ساحلی اسٹیشن دوارکا کے خلاف پاکستان نیوی کی جرات مندانہ کارروائی ملک کی بحری تاریخ کا ایک قابل فخر باب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن دوارکا نے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور بحری دفاع کے عزم کو نمایاں کیا۔ صدر کے مطابق پاک بحریہ نے مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں اور ملکی سمندری حدود کے دفاع کے لیے غیر معمولی عزم کا مظاہرہ کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کے جذبۂ حب الوطنی کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ سمجھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی یوم بحریہ کے موقع پر پاک بحریہ کے افسران، جوانوں، غازیوں اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن دوارکا اور 1965 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی آبدوز غازی کا کردار ملکی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1965 کی جنگ میں پاک بحریہ نے اپنے سمندری مفادات اور ملکی دفاع کے تحفظ کے لیے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور پاکستان کے سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے اس کی مسلسل خدمات پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ نہ صرف ملک کی سمندری سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے بلکہ قومی سلامتی، سمندری تجارت اور بحری مفادات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کا پیغام

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے بھی یوم بحریہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں پاک بحریہ کے شہداء، غازیوں اور موجودہ افسران و جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

نیول چیف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج قیام پاکستان سے ہی ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف چوکس اور تیار رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی ملک کو ایسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے جن کا مقصد پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو کمزور کرنا تھا، تاہم مسلح افواج نے ہمیشہ قومی دفاع کے تقاضوں کو مقدم رکھا۔

ایڈمرل نوید اشرف کے مطابق پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کبھی محض ایک انتخاب نہیں رہا بلکہ یہ ایک مستقل قومی ذمہ داری اور پائیدار مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ 6 ستمبر 1965 کو اس وقت مزید نمایاں ہوا جب پاکستان کی مسلح افواج نے جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے غیر معمولی جرات، ایمان اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔

1965 کی جنگ میں پاک بحریہ کا کردار

1965 کی جنگ میں اگرچہ زیادہ تر توجہ بری اور فضائی محاذوں پر ہونے والی کارروائیوں پر مرکوز رہی، تاہم سمندری محاذ پر بھی پاک بحریہ نے اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

پاک بحریہ نے پاکستان کے ساحلی علاقوں، بندرگاہوں اور سمندری مواصلاتی راستوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دشمن کی بحری اور ساحلی تنصیبات پر نظر رکھنے اور ملکی بحری مفادات کے دفاع میں اپنا کردار ادا کیا۔

اسی جنگ کے دوران آبدوز غازی کی تعیناتی کو بھی پاک بحریہ کی آپریشنل تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے۔ پاکستانی فوجی ریکارڈ کے مطابق غازی نے جنگ کے دوران اہم بحری ذمہ داریاں انجام دیں۔

پاک بحریہ کی ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد سمندری حدود کا تحفظ، دشمن کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور پاکستان کے ساحلی علاقوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا تھا۔

یادگار شہداء پر تقریب

یوم بحریہ کے موقع پر نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں یادگار شہداء پر خصوصی تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا۔

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے یادگار شہداء پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور شہداء کی یاد میں پھولوں کی چادر چڑھائی۔

اس موقع پر پاک بحریہ کے شہداء کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی گئی اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

پاک بحریہ کے شہداء کے خاندانوں کو اس موقع پر یقین دلایا گیا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی اور ان کے اہل خانہ کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

’’غازی‘‘ آبدوز کی تاریخی اہمیت

1965 کی جنگ کے حوالے سے پاک بحریہ کی تاریخ میں آبدوز غازی کا ذکر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ آبدوز پاکستان کی بحری دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ تھی اور جنگ کے دوران اسے اہم آپریشنل ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

غازی کی تعیناتی اس بات کی عکاس تھی کہ پاک بحریہ نے جنگ کے دوران روایتی جنگی جہازوں کے ساتھ ساتھ آبدوزی صلاحیت کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا۔

یوم بحریہ کے موقع پر غازی اور دیگر بحری اہلکاروں کی خدمات کو یاد کرنا دراصل ان تمام افسران اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے ملک کے سمندری دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔

جنگ بندی اور 1965 کی جنگ کا اختتام

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965 کی جنگ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔ اقوام متحدہ کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور 23 ستمبر 1965 کو جنگ بندی نافذ ہوئی۔

جنگ کے دوران بری، بحری اور فضائی افواج نے اپنے اپنے محاذوں پر دفاعی ذمہ داریاں انجام دیں۔ پاک بحریہ کے لیے یہ جنگ ایک ایسا تجربہ ثابت ہوئی جس نے مستقبل کی بحری حکمت عملی اور آپریشنل تیاری کے لیے اہم بنیاد فراہم کی۔

ماضی سے حال تک دفاعی عزم

نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے پیغام میں 1965 کے جذبے کو حالیہ دفاعی چیلنجز سے بھی جوڑا۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں بعد آپریشن مارکۂ حق کے دوران بھی پاکستان کو اپنی سلامتی کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور ملک کے دفاع کے لیے مربوط اور پُرعزم ردعمل دیا گیا۔

نیول چیف کے مطابق بدلتے ہوئے جنگی حالات میں کامیابی کے لیے صرف عسکری طاقت ہی کافی نہیں بلکہ بروقت فیصلہ سازی، جدید ٹیکنالوجی، آپریشنل تیاری، مشترکہ حکمت عملی اور مستقبل کے خطرات کا درست ادراک بھی ضروری ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک بحریہ اپنے اہم سمندری مفادات کے تحفظ، ملکی خودمختاری کے دفاع اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

سمندری مفادات کا تحفظ، قومی سلامتی کی ضرورت

پاکستان ایک اہم ساحلی ملک ہے اور اس کی معیشت، تجارت اور توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے وابستہ ہے۔ کراچی اور دیگر بندرگاہیں ملکی تجارت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ بحیرہ عرب پاکستان کے لیے دفاعی اور معاشی اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

ایسے میں پاک بحریہ کی ذمہ داریاں صرف جنگی حالات تک محدود نہیں بلکہ ملک کے سمندری مفادات، ساحلی علاقوں، بندرگاہوں اور اہم بحری راستوں کے تحفظ تک وسیع ہیں۔

یوم بحریہ اسی وسیع تر قومی ذمہ داری کی یاد دہانی بھی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کا تعلق زمین اور فضا کے ساتھ ساتھ سمندر سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔

قوم کا شہداء کو سلام

یوم بحریہ کے موقع پر پوری قوم نے پاک بحریہ کے ان شہداء کو سلام پیش کیا جنہوں نے ملکی دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

آپریشن دوارکا، آبدوز غازی اور 1965 کی جنگ میں پاک بحریہ کی دیگر کارروائیاں آج بھی قومی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان واقعات نے پاکستان کے بحری دفاع کی اہمیت کو اجاگر کیا اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے قربانی، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

یوم بحریہ دراصل صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ پاکستان کے سمندری دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیوں، پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ خدمات اور مستقبل میں ملکی بحری مفادات کے تحفظ کے عزم کی تجدید کا دن بھی ہے۔

پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں اسی جذبے اور پیشہ ورانہ عزم کے ساتھ انجام دیتے رہیں گے، جبکہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button