
ماؤ زے تنگ کی وفات کے 50 برس، سینکڑوں افراد کا خراج عقیدت
ایک ہزار افراد نے اسی مقام پر ایک تقریب میں شرکت کی۔ بعض شرکا ماؤ سے منسوب مخصوص طرز کے لباس پہنے ہوئے تھے
اے ایف پی کے ساتھ
وسطی صوبے ہونان میں واقع شاؤشان میں ماؤ کے دس میٹر بلند کانسی کے مجسمے کے سامنے لوگوں نے پھولوں کے ہار رکھے اور چند لمحوں کی خاموشی اختیار کی۔ آنے والوں میں بڑی تعداد یونیورسٹی طلبہ کی بھی تھی۔ بعض افراد نے ماؤ کے مجسمے کے سامنے چینی شراب اور سگریٹ بھی رکھے۔

ایک رات قبل تقریباً ایک ہزار افراد نے اسی مقام پر ایک تقریب میں شرکت کی۔ بعض شرکا ماؤ سے منسوب مخصوص طرز کے لباس پہنے ہوئے تھے جبکہ کئی افراد کے ہاتھوں میں ماؤ کی تصاویر اور ان کے اقوال پر مشتمل مشہور ”لٹل ریڈ بک‘‘ بھی تھی۔ شرکا نے انقلابی گیت گائے اور ”چیئرمین ماؤ زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔
ماؤ دسمبر 1893 میں شاؤشان میں پیدا ہوئے تھے۔ چینی سرکاری میڈیا اس مقام کو ”ریڈ ٹورازم‘‘کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ دیتا رہا ہے، جہاں کمیونسٹ انقلاب اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ سے وابستہ مقامات دیکھنے کے لیے ملک بھر سے لوگ آتے ہیں۔
چین میں ماؤ آج بھی کمیونسٹ پارٹی کی اہم ترین تاریخی شخصیات میں شامل ہیں۔ ان کی تصویر چینی کرنسی پر موجود ہے اور بیجنگ کے تیان آن من اسکوائر پر بھی ان کا ایک بڑا پورٹریٹ نصب ہے۔ شاؤشان کی دکانوں پر ماؤ سے منسوب بیجز، مجسمے، ٹوپیاں اور ٹی شرٹس بھی بڑی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔

تاہم ماؤ کا تاریخی ورثہ انتہائی متنازع بھی ہے۔ ان کے دور میں شروع کیے گئے گریٹ لیپ فارورڈ کے دوران قحط سے کروڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ 1966 سے 1976 تک جاری رہنے والے ثقافتی انقلاب میں بڑے پیمانے پر تشدد، سیاسی جبر اور سماجی و اقتصادی انتشار پیدا ہوا۔ گریٹ لیپ فارورڈ (Great Leap Forward) چین کی کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین ماؤ زے تنگ کی قیادت میں 1958ء سے 1962ء تک جاری رہنے والی ایک اقتصادی اور سماجی مہم تھی۔
چینی کمیونسٹ پارٹی ماضی میں اس دور کی بعض پالیسیوں کو غلطی قرار دے چکی ہے، لیکن سرکاری بیانیے میں ماؤ کو اب بھی ایک عظیم انقلابی رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں، خصوصاً نوجوان چینی باشندوں کے ایک گروپ میں ماؤ کے دور کے برابری پر مبنی نظریات کے لیے دلچسپی اور ماضی پرستی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بعض مبصرین اسے موجودہ معاشی سست روی، روزگار اور زندگی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے جوڑتے ہیں۔
شاؤشان آنے والے 28 سالہ ڈینگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ماؤ کی شخصیت سے متاثر ہیں اور 50ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ان کے مطابق ثقافتی انقلاب متنازع ضرور تھا لیکن وہ ماؤ کی کوششوں کو چین کے لیے ایک مثالی اور مساوی معاشرے کی تلاش کے طور پر دیکھتے ہیں۔



