
یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی بندش، لندن حکومت برہم
ملی بینڈ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران سے لاحق خطرات کے معاملے میں برطانیہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ضروری سمجھتا ہے۔
ڈی پی اے کے ساتھ
برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سمیت 12 ممالک نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کے بعد کیا گیا۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے منگل کو یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا۔ اسرائیل نے غزہ میں امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی منصوبے کی نگرانی کرنے والے ایک مرکز سے برطانوی نمائندوں کو نکالنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کو برطانیہ کی جانب سے دی جانے والی تربیت پر پابندی اور 12 برطانوی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان افراد میں زیادہ تر برطانوی ارکان پارلیمان شامل ہیں۔

ملی بینڈ نے ایک برطانوی ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ لندن کو اسرائیل کی جانب سے جوابی اقدامات کا پہلے ہی خدشہ تھا، کیونکہ نیدرلینڈز سمیت بعض دوسرے ممالک کو بھی اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے بعد ایسے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اس امکان کو مسترد کیا کہ موجودہ تنازع سے برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اہم سکیورٹی تعلقات موجود ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔
ملی بینڈ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران سے لاحق خطرات کے معاملے میں برطانیہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ضروری سمجھتا ہے۔
برطانیہ کے چیف ربی افرائیم میروِس نے تاہم حکومت کی پابندیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں محض سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے اسے برطانوی یہودیوں کے لیے ”انتہائی تاریک دن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے اس انتہا پسندی کو مزید تقویت مل سکتی ہے جسے روکنے کے لیے یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رواں سال لندن میں یہود مخالف حملوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں یہودی عبادت گاہوں اور دیگر یہودی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔



