پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پنجاب میں سمارٹ واٹر میٹرنگ کے فروغ کا فیصلہ، زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز

زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کے پیشِ نظر پانی کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور، صوبہ بھر میں واٹر میٹرنگ اور گراؤنڈ واٹر ریچارج منصوبوں کو وسعت دینے کی ہدایت

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
انصار ذاہد سیال-پاکستان

لاہور: پنجاب میں شہری علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی مسلسل گرتی ہوئی سطح کے پیشِ نظر پانی کے استعمال کو منظم، شفاف اور ذمہ دارانہ بنانے کے لیے سمارٹ واٹر میٹرنگ کے نظام کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد سمیت صوبہ بھر کے اضلاع میں واٹر میٹرنگ سے متعلق منصوبوں کو جلد مکمل کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

اس حوالے سے سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب نورالامین مینگل کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف اقسام اور ماڈلز کے واٹر میٹرز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں واسا حکام کی جانب سے صوبے میں واٹر میٹرنگ، زیرِ زمین پانی کے تحفظ اور گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز سے متعلق جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

اجلاس میں اس امر پر خصوصی توجہ دی گئی کہ شہری علاقوں میں پانی کے استعمال کی درست پیمائش، ضیاع کی روک تھام اور صارفین میں پانی بچانے کا شعور پیدا کرنے کے لیے روایتی نظام کے بجائے جدید اور خودکار میٹرنگ ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے۔

خودکار ریڈنگ کا نظام متعارف کرانے کی تجویز

سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آٹومیٹک واٹر میٹرنگ کے ذریعے پانی کے استعمال کی خودکار ریڈنگ کا نظام متعارف کروایا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد میٹر ریڈنگ کے عمل کو زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے تاکہ انسانی مداخلت کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ واٹر میٹرنگ کا نظام جدید ٹیکنالوجی پر مبنی، شفاف اور قابلِ عمل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق خودکار میٹرنگ کے ذریعے پانی کے استعمال کا درست ریکارڈ مرتب کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور صارفین کو بھی اپنے پانی کے استعمال کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار بنایا جا سکتا ہے۔

صوبائی حکومت کے مطابق پانی کے استعمال کی پیمائش کا مؤثر نظام صرف بلنگ کے عمل تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا بنیادی مقصد پانی کے ضیاع کو کم کرنا اور شہریوں میں پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کی عادت کو فروغ دینا بھی ہے۔

صوبہ بھر میں 15 لاکھ سے زائد واٹر میٹرز کی ضرورت

اجلاس میں واسا حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 9 ہزار 288 واٹر میٹرز کی ضرورت ہے۔ حکام کے مطابق مختلف شہروں میں مرحلہ وار واٹر میٹرنگ کا عمل آگے بڑھایا جائے گا تاکہ شہری علاقوں میں پانی کے استعمال کی باقاعدہ پیمائش ممکن بنائی جا سکے۔

بریفنگ کے مطابق 2029ء تک لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 50 ہزار 900 واٹر میٹرز نصب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت شہری علاقوں میں پانی کے استعمال کی نگرانی، میٹر ریڈنگ کے عمل میں شفافیت اور پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے جدید نظام متعارف کرانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

حکام نے اجلاس کو مختلف واٹر میٹرز کے ماڈلز کے بارے میں بھی آگاہ کیا جبکہ دیگر ممالک میں پانی کے استعمال کو منظم کرنے اور پانی کی بچت کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔

کم قیمت واٹر میٹرز کی فراہمی پر بھی غور

اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ خطے کے دیگر ممالک سے نسبتاً کم قیمت پر معیاری واٹر میٹرز کی فراہمی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد بڑے پیمانے پر میٹرنگ منصوبوں کے لیے مناسب لاگت میں قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی کا حصول بتایا گیا ہے۔

حکام کے مطابق صوبہ بھر میں بڑی تعداد میں واٹر میٹرز نصب کیے جانے کے پیشِ نظر میٹرز کی قیمت، معیار، پائیداری، ریڈنگ کی درستگی اور جدید نظام کے ساتھ مطابقت جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کے منصوبوں میں تیزی

اجلاس میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے تحفظ کے لیے گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کے دائرہ کار کو بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

سیکرٹری ہاؤسنگ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کے منصوبوں کو مزید وسعت دی جائے تاکہ بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچاتے ہوئے اسے زیرِ زمین آبی ذخائر کی سطح بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

واساحکام کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں مرحلہ وار گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔ صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 70 گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز پر کام جاری ہے، جن میں سے 20 مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق لاہور میں 40، ملتان میں 25 اور فیصل آباد میں 5 گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز کے منصوبے جاری ہیں۔

ان منصوبوں کے ذریعے سالانہ تقریباً 11.4 ملین گیلن پانی محفوظ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد بارش کے پانی کو مناسب طریقے سے محفوظ کرکے اسے زیرِ زمین پانی کے ذخائر تک پہنچانے میں مدد دینا ہے۔

بارشی پانی کو محفوظ کرنے پر بھی زور

پنجاب حکومت نے پانی کے تحفظ کے لیے واٹر میٹرنگ کے ساتھ ساتھ رین واٹر ہارویسٹنگ کو بھی جامع حکمتِ عملی کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔

اس تصور کے تحت بارش کے دوران حاصل ہونے والے پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر مختلف طریقوں سے ذخیرہ یا زیرِ زمین آبی ذخائر تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق شہری علاقوں میں بارش کے پانی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے سے پانی کے مجموعی دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سیکرٹری ہاؤسنگ نے ہدایت کی کہ واٹر میٹرنگ، رین واٹر ہارویسٹنگ اور گراؤنڈ واٹر ریچارج کو الگ الگ منصوبوں کے بجائے پانی کے تحفظ کی ایک مربوط حکمتِ عملی کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔

لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی

اجلاس میں لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں ہونے والی طویل مدتی کمی سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔

واساحکام کے مطابق 1970ء سے 2020ء تک لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں سالانہ تقریباً 3 فٹ تک کمی ریکارڈ کی جاتی رہی۔ تاہم ٹیوب ویلز کے چلنے کے اوقات کار میں تبدیلی کے بعد زیرِ زمین پانی کی سطح میں سالانہ کمی کی شرح تقریباً ایک فٹ تک آنے کا بتایا گیا ہے۔

ماہرین کے نزدیک شہری آبادی میں اضافے، پانی کی بڑھتی ہوئی طلب، زیرِ زمین پانی کے مسلسل اخراج اور بارش کے پانی کے قدرتی طور پر زمین میں جذب ہونے کے مواقع محدود ہونے جیسے عوامل زیرِ زمین آبی ذخائر پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

ایسے میں پانی کے استعمال کو منظم کرنا اور بارش کے پانی کو دوبارہ زیرِ زمین پہنچانے کے طریقوں کو فروغ دینا شہری علاقوں کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے آگاہی مہم پر زور

سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جدید میٹرنگ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ شہریوں میں پانی کی بچت کے حوالے سے آگاہی بھی پیدا کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کے ذخائر کا تحفظ صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں، صنعتوں، تجارتی اداروں اور دیگر صارفین کو بھی پانی کے محتاط استعمال میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ان کے مطابق پانی کی بچت کے لیے شہری سطح پر معمولی نوعیت کی تبدیلیاں بھی مجموعی طور پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہیں، جبکہ پانی کے غیر ضروری استعمال اور ضیاع کی روک تھام کے لیے جدید میٹرنگ ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

پائیدار آبی منصوبہ بندی وقت کی ضرورت

سیکرٹری ہاؤسنگ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں ایسے منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہیں جن کے ذریعے شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں یکساں نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے اور پانی کے موجودہ ذخائر کے تحفظ کے ساتھ ساتھ متبادل آبی ذرائع کی ترقی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پنجاب میں سمارٹ واٹر میٹرنگ، گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز اور رین واٹر ہارویسٹنگ کے منصوبوں کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبائی سطح پر پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے صرف پانی کی فراہمی بڑھانے کے بجائے موجودہ وسائل کے بہتر استعمال اور تحفظ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں شہری آبادی اور پانی کی طلب میں اضافے کے پیشِ نظر پانی کے استعمال کی درست پیمائش، ضیاع میں کمی، بارشی پانی کا تحفظ اور زیرِ زمین آبی ذخائر کی دوبارہ بھرائی ایسے اقدامات ہیں جنہیں طویل مدتی بنیادوں پر مسلسل جاری رکھنا ضروری ہوگا۔

پنجاب میں مجوزہ سمارٹ واٹر میٹرنگ نظام کی کامیابی کا انحصار نہ صرف میٹرز کی تنصیب بلکہ ان کی درست کارکردگی، بروقت ریڈنگ، شفاف بلنگ، مؤثر نگرانی اور شہریوں کے اعتماد پر بھی ہوگا۔ اسی طرح گراؤنڈ واٹر ریچارج منصوبوں کے اثرات کا باقاعدہ جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا تاکہ پانی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے عملی نتائج سامنے آ سکیں۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری منصوبوں کی تکمیل اور ان کے دائرہ کار میں توسیع کے ساتھ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ شہری علاقوں میں پانی کے استعمال کو زیادہ منظم بنانے، پانی کے ضیاع کو کم کرنے اور زیرِ زمین آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے ایک زیادہ مربوط نظام تشکیل پائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button