
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں، بالخصوص سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں، باہمی احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
یہ بات پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ترجمان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ اور واضح مؤقف کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں ایسے اقدامات کی مخالفت کی ہے جو ریاستوں کی سلامتی کو متاثر کریں یا کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور کثیرالجہتی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں اسلام آباد نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب سمیت خطے کے تمام ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔
حوثی حملوں کی مذمت
پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہری آبادیوں اور ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں خطے میں امن کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
اسلام آباد کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کشیدگی پیدا کرنے والی کارروائیوں سے گریز کیا جائے اور تمام متعلقہ فریقین مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی تنازعے میں مزید عسکری کشیدگی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔ اس لیے خطے میں امن و استحکام کے لیے سیاسی اور سفارتی راستوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خطے میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے فروغ کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستانی سفارت کاری کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود پیچیدہ تنازعات کو طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کے نزدیک علاقائی استحکام کے لیے تمام فریقین کے درمیان رابطوں کا برقرار رہنا اور تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنا انتہائی اہم ہے۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان نے بارہا اس امر کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کو فروغ دیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو تنازعات کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے وسیع تر تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ اگر امریکہ تہران کو دھمکیاں دینا بند کر دے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر متعلقہ شرائط کے حوالے سے اس کے مؤقف کو تسلیم کرے تو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور دیگر معاملات پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔ موجودہ کشیدگی نے ان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور اس کے باعث خطے میں کسی وسیع تر تصادم کے خدشات پر بھی عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جوہری معاملہ اور سفارتی راستہ
ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اس معاملے پر عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان اختلافات کے باعث سفارتی مذاکرات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان نے عمومی طور پر اس نوعیت کے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے طاقت کے استعمال اور دھمکیوں کے بجائے سفارتی راستے تلاش کیے جانے چاہییں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ مفاہمت کو خطے میں وسیع تر کشیدگی کم کرنے کے تناظر میں اہم سمجھا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے دونوں جانب سے سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت ہوگی۔
سمندری تحفظ بھی اہم علاقائی مسئلہ
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران میں سمندری تحفظ بھی ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ خطے کے اہم بحری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ سمندری تجارت، بحری جہازوں کی سلامتی اور عالمی سپلائی چین پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علاقائی بحران کے سفارتی حل کی اہمیت صرف سیاسی اور عسکری سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشی اور تجارتی اثرات بھی وسیع ہو سکتے ہیں۔
پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے محفوظ بحری راستوں کا برقرار رہنا عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے تسلسل کے لیے اہم ہے۔
جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے دوران جنگ بندی اور مذاکرات کے امکانات بھی عالمی سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ بنے ہوئے ہیں۔ مختلف فریقین اور بین الاقوامی طاقتیں کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
پاکستان نے بھی خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد کے نزدیک جنگ بندی، انسانی تحفظ اور سفارتی رابطوں کی بحالی ایسے اقدامات ہیں جو کسی بھی وسیع تر سیاسی حل کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
معاشی اثرات پر بھی عالمی تشویش
مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے معاشی اثرات بھی بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے تیل اور گیس کی قیمتوں، عالمی تجارت، شپنگ کے اخراجات اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔
پاکستان سمیت درآمدی ضروریات رکھنے والی معیشتوں کے لیے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اضافی معاشی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی لیے اسلام آباد کے لیے خطے میں امن و استحکام نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی اہم ہے۔
پاکستان کا واضح پیغام
پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے لیے حمایت کا اعادہ اور حوثی حملوں کی مذمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام آباد خطے میں ریاستوں کی سلامتی اور خودمختاری کے احترام کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ علاقائی تنازعات کو مزید عسکری محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد خطے میں وسیع تر امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر بھی زور دے رہا ہے۔
مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کا پیغام یہ ہے کہ کشیدگی میں کمی، جنگ بندی، سفارتی رابطوں اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ اسلام آباد سمجھتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام متعلقہ فریق طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے اختلافات دور کرنے اور ایک دوسرے کی خودمختاری و سلامتی کا احترام کرنے کی جانب پیش رفت کریں۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے ہونے والی تعمیری سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی کو بھی برقرار رکھے گا۔



