پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

مریم نواز کے لندن سفر کے طیارے کے اخراجات پر بحث، 1 کروڑ 13 لاکھ روپے کے دعوے کے بعد نئی وضاحت سامنے آگئی

صدر زرداری کے زیرِ استعمال سرکاری طیارے کی لندن میں پارکنگ فیس تقریباً 54 لاکھ روپے تک پہنچی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم-ادارت
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ دورۂ لندن کے دوران استعمال ہونے والے طیارے کے اخراجات سے متعلق ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جس میں طیارے کی پارکنگ اور ایندھن پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ تاہم پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے نجی دورے کے لیے استعمال ہونے والے طیارے کے اخراجات سرکاری خزانے سے ادا نہیں کیے گئے بلکہ مریم نواز نے یہ اخراجات ذاتی طور پر برداشت کیے۔

ٹی وی اینکر محمد مالک نے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ مریم نواز کی لندن میں موجودگی کے دوران استعمال ہونے والے گلف اسٹریم طیارے کی تین روزہ پارکنگ فیس تقریباً 35 لاکھ روپے جبکہ ایندھن کا خرچ تقریباً 78 لاکھ روپے رہا۔ ان دونوں مدات کو جمع کیا جائے تو رقم تقریباً 1 کروڑ 13 لاکھ روپے بنتی ہے۔ یہ اعداد و شمار میڈیا میں بڑے پیمانے پر زیرِ بحث آئے، تاہم ان اخراجات کی آزادانہ طور پر سرکاری دستاویزات یا رسیدوں سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

رپورٹس کے مطابق مریم نواز لندن اپنی صاحبزادی کی یونیورسٹی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے گئی تھیں اور 9 ستمبر کو برطانیہ سے پاکستان واپس روانہ ہوئیں۔ لندن سے روانگی کے موقع پر انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی صورتحال اور پارٹی کے اتحاد سے متعلق بھی گفتگو کی۔

حکومت کی وضاحت

اخراجات کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع کے بعد پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز کے لندن سفر کے لیے طیارے کے تمام اخراجات وزیراعلیٰ نے اپنی ذاتی رقم سے ادا کیے اور اس مقصد کے لیے سرکاری خزانے سے رقم خرچ نہیں ہوئی۔

عظمیٰ بخاری کی یہ وضاحت اس معاملے کی نوعیت کو تبدیل کر دیتی ہے، کیونکہ اگر طیارے کے اخراجات واقعی ذاتی طور پر ادا کیے گئے ہیں تو انہیں براہِ راست عوامی خزانے پر بوجھ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم شفافیت کے نقطۂ نظر سے متعلقہ اخراجات کی رسیدیں یا ادائیگی کا قابلِ تصدیق ریکارڈ سامنے آ جائے تو معاملے پر اٹھنے والے سوالات کا زیادہ واضح جواب مل سکتا ہے۔

گلف اسٹریم طیارے پر پہلے بھی سوالات

مریم نواز کے زیرِ استعمال گلف اسٹریم طیارہ اس سے قبل بھی سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ فروری 2026 میں بی بی سی اردو نے رپورٹ کیا تھا کہ پنجاب حکومت سے منسوب لگژری طیارے کے بارے میں سوالات اٹھ رہے تھے کہ آیا اسے وزیراعلیٰ کے استعمال کے لیے حاصل کیا گیا یا مجوزہ ایئر پنجاب منصوبے کے لیے۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ طیارہ گلف اسٹریم G500 بتایا گیا تھا۔

اسی معاملے میں مئی 2026 میں ڈان نے رپورٹ کیا کہ پنجاب وزیراعلیٰ آفس نے مریم نواز کے غیر ملکی دوروں، زیرِ استعمال گاڑیوں اور لگژری طیارے سے متعلق بعض معلومات فراہم کرنے کی درخواستوں کو مسترد کیا تھا۔ درخواست میں غیر ملکی دوروں، گاڑیوں، طیاروں اور متعلقہ اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔

صدر آصف علی زرداری کے طیارے کے اخراجات کا بھی ذکر

اسی بحث میں صدر مملکت آصف علی زرداری کے بیرونِ ملک سفر کا بھی حوالہ دیا گیا۔ اینکر محمد مالک کے مطابق صدر زرداری کے زیرِ استعمال سرکاری طیارے کی لندن میں پارکنگ فیس تقریباً 54 لاکھ روپے تک پہنچی۔ تاہم اس رقم کی بھی سرکاری دستاویز یا متعلقہ ادارے کی جانب سے آزادانہ تصدیق سامنے آنا ضروری ہے، اس لیے اسے حتمی سرکاری خرچ کے بجائے رپورٹ شدہ دعویٰ کے طور پر بیان کرنا زیادہ مناسب ہے۔

صدر زرداری ستمبر میں ایک ہفتے سے زائد برطانیہ میں قیام کے بعد پاکستان واپس روانہ ہوئے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لندن سے واپسی کے لیے خصوصی طیارہ استعمال کیا گیا جبکہ ان کے طیارے کو لندن میں تکنیکی مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

اصل سوال: خرچ کتنا ہوا اور ادائیگی کس نے کی؟

اس معاملے میں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ طیارے پر کتنی رقم خرچ ہوئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس رقم کی ادائیگی کس ذریعے سے ہوئی۔ اگر مریم نواز کے طیارے کے لیے 35 لاکھ روپے پارکنگ اور 78 لاکھ روپے فیول کے اعداد درست ہیں تو دونوں مدات کا مجموعہ تقریباً 1 کروڑ 13 لاکھ روپے بنتا ہے، لیکن پنجاب حکومت کے مطابق یہ رقم سرکاری خزانے سے نہیں بلکہ وزیراعلیٰ نے ذاتی طور پر ادا کی۔

لہٰذا اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مریم نواز کے لندن سفر پر 1 کروڑ 13 لاکھ روپے عوام کے ٹیکس سے خرچ ہوئے۔ البتہ اتنی بڑی رقم کے دعوے نے سرکاری و نجی سفر کے اخراجات، طیاروں کے استعمال اور عوامی عہدہ رکھنے والے افراد کے سفری انتظامات میں شفافیت کے حوالے سے اہم سوالات ضرور پیدا کیے ہیں۔

عوامی وسائل اور احتساب کا سوال

پاکستان میں سرکاری اخراجات اور اعلیٰ عہدیداروں کے سفری انتظامات ہمیشہ عوامی دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔ ایک طرف حکومتیں مالی نظم و ضبط، اخراجات میں کمی اور وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف اعلیٰ حکام کے سفری اخراجات سے متعلق بڑے اعداد و شمار سامنے آنے پر عوامی سطح پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔

تاہم صحافتی طور پر کسی بھی رقم کو سرکاری خزانے کا خرچ قرار دینے سے پہلے سرکاری ریکارڈ، ادائیگی کی رسید، متعلقہ محکمہ کے اخراجات اور ذمہ دار حکام کی تصدیق ضروری ہے۔ یہی اصول مریم نواز کے معاملے میں بھی لاگو ہوتا ہے۔

اس وقت دستیاب معلومات کا خلاصہ یہ ہے کہ 1 کروڑ 13 لاکھ روپے کے طیارہ اخراجات کا دعویٰ موجود ہے، جبکہ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اخراجات مریم نواز نے ذاتی طور پر ادا کیے۔ چنانچہ حتمی حقیقت کا تعین ادائیگی کے قابلِ تصدیق ریکارڈ سے ہی ہو سکتا ہے۔

یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کے سفر سے متعلق اخراجات اگر عوامی خزانے سے ادا ہوں تو ان کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے ہونی چاہئیں، اور اگر ذاتی طور پر ادا کیے جائیں تو اس کی بھی مناسب دستاویزی وضاحت تنازع اور قیاس آرائیوں کے خاتمے میں مدد دے سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button