پاکستاناہم خبریں

عاصم منیر اور عباس عراقچی کے درمیان اہم رابطہ

مخا باب المندب آبنائے سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا کی سمندری تیل برداری اور تجارتی ترسیل کا تقریباً 12 فیصد حصہ گزرتا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کی بحالی کے ممکنہ طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکام کے مطابق جمعرات کو ہونے والی اس گفتگو میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ، مذاکرات کی بحالی کے امکانات، اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے معاملات زیر بحث آئے۔
پاکستانی فوج نے اس حوالے سے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب جمعرات کو یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں نے اہم ساحلی اور بندرگاہی شہر مخا کا کنٹرول سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں وہ عالمی تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہ باب المندب کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں۔
مخا باب المندب آبنائے سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا کی سمندری تیل برداری اور تجارتی ترسیل کا تقریباً 12 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
اُدھر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ابتدائی بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جمعرات کو صرف سات جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 11 تھی۔ گزشتہ 10 دنوں کے دوران یومیہ اوسط 15 جہازوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہونے سے پہلے، یعنی 28 فروری تک، آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جن میں تیل بردار ٹینکر، گیس بردار جہاز، بلک کیریئرز اور کنٹینر بردار جہاز شامل تھے۔ یہ راستہ دنیا بھر میں روزانہ سپلائی ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً 20 فیصد منتقل کرتا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button