پاکستانتازہ ترین

ٹرمپ انتظامیہ کے لیے پاکستان کے ساتھ اہم معدنیات کے معاہدے ’کلیدی ترجیح‘، امریکی کمپنیوں کی پاکستانی شراکت داروں سے نئے معاہدوں میں دلچسپی

اسی پس منظر میں پاکستان کی معدنی صلاحیت امریکی کمپنیوں اور پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
مدثر احمد-ادارت

پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں اہم معدنیات اور کان کنی کا شعبہ تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے، جبکہ امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ اہم معدنی وسائل کے حصول اور کان کنی کے شعبے میں ممکنہ معاہدوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے معدنی وسائل سے متعلق معاہدوں کو، جو امریکی سلامتی اور معاشی خوشحالی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں، ’کلیدی ترجیح‘ بنایا ہے۔ امریکی حکام نے اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں امریکی کمپنیوں اور ان کے پاکستانی ہم منصبوں کے درمیان اہم معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں نئے معاہدے سامنے آئیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن پاکستان میں امریکی سرمایہ کاروں کے لیے مساوی مواقع اور سازگار کاروباری ماحول کی توقع رکھتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان معدنیات، توانائی، سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی معدنی دولت، امریکی دلچسپی کا نیا مرکز

پاکستان طویل عرصے سے مختلف معدنی وسائل سے مالا مال ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، تاہم ان وسائل کا ایک بڑا حصہ ابھی تک مکمل طور پر تجارتی اور صنعتی سطح پر بروئے کار نہیں لایا جا سکا۔ حکومت پاکستان حالیہ عرصے میں ملک کے معدنی ذخائر کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نمایاں مواقع کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔

دوسری جانب امریکہ عالمی سطح پر اہم معدنیات کی سپلائی چینز کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، توانائی، دفاعی صنعت، الیکٹرونکس اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں بعض معدنیات کی اہمیت بڑھنے کے باعث بڑی معیشتیں ان وسائل کے قابلِ اعتماد ذرائع اور سپلائی چینز تک رسائی کو اپنی اقتصادی اور قومی سلامتی کی پالیسیوں کا حصہ بنا رہی ہیں۔

اسی پس منظر میں پاکستان کی معدنی صلاحیت امریکی کمپنیوں اور پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

پاکستان کی ’کریٹیکل منرلز منسٹریل‘ میں شرکت

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے فروری میں واشنگٹن میں ہونے والے ’کریٹیکل منرلز منسٹریل‘ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔

اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر برائے توانائی علی پرویز ملک نے کی، جبکہ مختلف ممالک اور یورپی کمیشن کے وفود نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد اہم معدنیات کی عالمی سپلائی چینز کو مزید مضبوط، محفوظ اور متنوع بنانے کے لیے مختلف ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔

پاکستان کے لیے یہ اجلاس اپنے معدنی وسائل اور ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا، جہاں کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے امکانات پر توجہ دی گئی۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن مستقبل میں پاکستان میں اہم معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں امریکی کمپنیوں اور پاکستانی کاروباری اداروں کے درمیان معاہدوں کا خواہاں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ "ہم پاکستان میں اہم معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں امریکی کمپنیوں اور ان کے ہم منصبوں کے درمیان مستقبل کے معاہدوں کے منتظر ہیں۔”

ترجمان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے اہم معدنی وسائل کی اہمیت کے پیش نظر ان معاہدوں کو کلیدی ترجیح بنایا ہے۔

امریکی سرمایہ کاروں کے لیے ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کا مطالبہ

امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاروں کے لیے ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ یعنی مساوی اور شفاف کاروباری مواقع کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے معدنی شعبے میں صرف وسائل کی موجودگی کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ سرمایہ کاری کے لیے شفاف قواعد، کاروباری سہولت، قانونی تحفظ، مسابقتی ماحول اور سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ پیش گوئی پالیسیوں کو بھی اہم قرار دیتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں یہی عوامل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ کان کنی کے بڑے منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، ماہر افرادی قوت اور طویل مدتی پالیسی تسلسل درکار ہوتا ہے۔

اگر پاکستان اہم معدنیات کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں کان کنی کے علاوہ معدنی پروسیسنگ، توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

روبیو اور شہباز شریف کی ملاقات میں بھی معدنیات زیرِ بحث

اہم معدنیات کے معاملے کو اعلیٰ سطحی پاک امریکہ رابطوں میں بھی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران بھی اہم معدنیات اور توانائی کے شعبوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ امریکی کمپنیوں کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں روایتی سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملات کے ساتھ ساتھ معیشت، تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور معدنی وسائل بھی نمایاں موضوعات بنتے جا رہے ہیں۔

’FORGE‘ اقدام اور عالمی معدنی سپلائی چین

فروری کے اہم معدنیات سے متعلق وزارتی اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے FORGE نامی نئے اقدام کا اعلان بھی کیا۔

یہ اقدام سابقہ Minerals Security Partnership کی جگہ لینے کے لیے پیش کیا گیا، جبکہ اس نئے فریم ورک کی قیادت جنوبی کوریا کر رہا ہے۔

اہم معدنیات کے شعبے میں ایسے بین الاقوامی اقدامات کا مقصد مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے لیے قریب لانا، سپلائی چینز کو زیادہ محفوظ بنانا اور چند محدود ذرائع پر عالمی انحصار کو کم کرنا ہے۔

پاکستان کی جانب سے ایسے عالمی فورمز میں شرکت اسے اپنی معدنی صلاحیت کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور حکومتوں کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

پاکستان امریکہ تعلقات میں معاشی پہلو مضبوط ہونے کے امکانات

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں سکیورٹی تعاون ایک طویل عرصے سے اہم حیثیت رکھتا ہے، تاہم حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں میں اقتصادی تعاون کو بھی زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے۔

معدنیات کے شعبے میں ممکنہ تعاون اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھانے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں تعاون اس لیے بھی اہم ہو سکتا ہے کہ امریکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ملک میں معدنی وسائل کی تلاش، نکاسی اور پروسیسنگ کے جدید طریقوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس کے لیے پاکستان کو سرمایہ کاروں کے تحفظ، شفاف لائسنسنگ، ٹیکس اور ریگولیٹری نظام، مقامی شراکت داری، ماحولیاتی معیارات اور منصوبوں سے پیدا ہونے والے معاشی فوائد کی منصفانہ تقسیم جیسے معاملات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

انسدادِ دہشت گردی تعاون بھی بدستور اہم

دوسری جانب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں انسدادِ دہشت گردی کا شعبہ بدستور ایک اہم ستون ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے میں مشترکہ مفاد حاصل ہے اور ٹرمپ انتظامیہ امریکہ اور امریکی عوام کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کا چوتھا دور 4 اگست کو واشنگٹن میں منعقد ہوا۔

مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت انسدادِ دہشت گردی کے لیے امریکی کوآرڈینیٹر سفیر گریگوری لوجرفو نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے اسپیشل سیکریٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔

داعش، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کا ذکر

مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

بیان میں داعش، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور ان سے وابستہ ذیلی گروہوں کا ذکر کیا گیا۔

دونوں جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی، سرحدی سلامتی بہتر بنانے اور دہشت گردوں کے سہولت کار نیٹ ورکس کو متاثر کرنے سے متعلق تعاون اور تبادلۂ خیال پر بھی زور دیا گیا۔

پاکستان کے لیے یہ تعاون اس تناظر میں اہم ہے کہ ملک طویل عرصے سے دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button