
پنجاب کے محکمہ صحت کے گیٹ پر صحافیوں کو مبینہ زبانی حکم کے تحت روکنے کا معاملہ، تحریری پابندی کہاں ہے؟
خصوصاً ایسے سرکاری محکمے میں جہاں عوامی پیسوں سے چلنے والے منصوبے، اسپتالوں سے متعلق فیصلے، طبی سہولیات، ترقیاتی اسکیمیں اور اربوں روپے کے اخراجات زیر بحث آتے ہوں
سید عاطف ندیم-ادارت
تقریباً تین دہائیوں سے صحافت سے وابستہ صحافیوں کے لیے سرکاری اداروں میں افسران سے ملاقات، سوالات اور عوامی نوعیت کے معاملات پر معلومات حاصل کرنا معمول کا حصہ رہا ہے، تاہم پنجاب کے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے حوالے سے ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے سرکاری اداروں تک میڈیا کی رسائی اور معلومات کے حق سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ایک صحافتی تجربے کے دوران محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب کے گیٹ پر صحافیوں کو مبینہ طور پر یہ کہہ کر داخل ہونے سے روک دیا گیا کہ "میڈیا والوں کے داخلے پر پابندی ہے”۔ تاہم جب اس پابندی کی بنیاد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو مبینہ طور پر بتایا گیا کہ کوئی تحریری حکم موجود نہیں بلکہ یہ سیکرٹری کا زبانی حکم ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف میڈیا کی سرکاری اداروں تک رسائی بلکہ اس امر پر بھی سوال اٹھاتی ہے کہ کیا کسی سرکاری محکمے میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی محض زبانی ہدایت کے ذریعے عائد کی جا سکتی ہے؟
سینئر صحافی کے ہمراہ محکمہ صحت کا دورہ
متعلقہ صحافی کے مطابق گزشتہ روز وہ سینئر صحافی جاوید اقبال کے ہمراہ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب گئے تھے۔ مقصد معمول کے مطابق متعلقہ سیکرٹری سے ملاقات کرنا تھا۔
تاہم محکمہ کے گیٹ پر ہی انہیں روک دیا گیا اور بتایا گیا کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے داخلے کی اجازت نہیں۔
صحافیوں کی جانب سے جب یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ داخلے پر پابندی کس تحریری حکم یا ضابطے کے تحت عائد کی گئی ہے تو مبینہ طور پر جواب دیا گیا کہ اس حوالے سے کوئی تحریری حکم موجود نہیں بلکہ سیکرٹری کی جانب سے زبانی ہدایت دی گئی ہے۔
اگر یہ مؤقف درست ہے تو معاملہ محض ایک ملاقات سے انکار تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرکاری اداروں میں انتظامی احکامات کے طریقہ کار، ان کی شفافیت اور قانونی حیثیت سے متعلق سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔
کیا زبانی حکم پر میڈیا کا داخلہ روکا جا سکتا ہے؟
اس واقعے کے بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا کسی سرکاری محکمے میں صحافیوں کے داخلے پر صرف زبانی حکم کے ذریعے پابندی عائد کی جا سکتی ہے؟
اگر یہ پنجاب حکومت کی باقاعدہ پالیسی ہے تو اس کے لیے متعلقہ تحریری نوٹیفکیشن، حکم یا ضابطہ سامنے آنا چاہیے تاکہ میڈیا اور عوام دونوں کو معلوم ہو سکے کہ پابندی کی بنیاد کیا ہے۔
دوسری صورت میں اگر یہ کسی مخصوص افسر کی انتظامی ہدایت ہے تو اس کے قانونی جواز، دائرۂ اختیار اور ضرورت کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
خصوصاً ایسے سرکاری محکمے میں جہاں عوامی پیسوں سے چلنے والے منصوبے، اسپتالوں سے متعلق فیصلے، طبی سہولیات، ترقیاتی اسکیمیں اور اربوں روپے کے اخراجات زیر بحث آتے ہوں، وہاں معلومات تک میڈیا کی رسائی ایک اہم صحافتی ضرورت بن جاتی ہے۔
میڈیا کا کردار صرف سرکاری ہینڈ آؤٹس تک محدود نہیں
صحافت کا بنیادی مقصد صرف سرکاری پریس ریلیز یا ہینڈ آؤٹ عوام تک پہنچانا نہیں بلکہ سرکاری دعووں اور اعلانات کی آزادانہ جانچ بھی ہے۔
حکومت کسی منصوبے کا اعلان کرے، اس کے لیے خطیر رقم مختص کرے یا کسی ترقیاتی اسکیم کی تکمیل کا دعویٰ کرے تو صحافی کا کام یہ جاننا بھی ہوتا ہے کہ منصوبہ عملی طور پر کہاں تک پہنچا، اس پر کتنی رقم خرچ ہوئی، عوام کو اس سے کیا فائدہ پہنچا اور کیا اعلان کردہ اہداف حاصل ہوئے یا نہیں۔
اسی لیے صحافی سرکاری دفاتر میں محض ملاقات یا رسمی کارروائی کے لیے نہیں جاتے بلکہ وہ سوالات کے جوابات حاصل کرنے، متعلقہ حکام کا مؤقف لینے اور عوامی مفاد کے معاملات کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اربوں روپے کے منصوبوں کی نگرانی میں میڈیا کا کردار
پنجاب حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں اور سینکڑوں ارب روپے کے اعلانات کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے منصوبوں کی کامیابی یا ناکامی کا براہِ راست تعلق عوامی وسائل سے ہے۔
ان حالات میں میڈیا کا کردار اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ سرکاری اعلانات اور زمینی حقائق کے درمیان کسی ممکنہ فرق کو سامنے لایا جا سکے۔
اگر صحافیوں کو متعلقہ محکموں تک رسائی حاصل نہ ہو اور انہیں صرف سرکاری پریس ریلیزز، ہینڈ آؤٹس یا فراہم کردہ تصاویر اور معلومات تک محدود کر دیا جائے تو عوام تک پہنچنے والی معلومات کا دائرہ بھی محدود ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ سرکاری اداروں میں داخلے کے لیے سکیورٹی، انتظامی نظم و ضبط یا حساس مقامات کے حوالے سے جائز قواعد موجود ہو سکتے ہیں۔ ایسی پابندیوں کی صورت میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ واضح تحریری ضابطہ موجود ہو اور اس کا اطلاق بلاامتیاز کیا جائے۔
متعلقہ حکام سے وضاحت کا مطالبہ
اس معاملے میں متعلقہ حکام سے بنیادی طور پر چند سوالات کے جواب درکار ہیں۔
اگر محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب میں میڈیا کے داخلے پر باضابطہ پابندی عائد ہے تو اس کا تحریری حکم، نوٹیفکیشن یا متعلقہ قانونی جواز سامنے لایا جائے۔
اگر ایسی کوئی تحریری پابندی موجود نہیں تو پھر یہ واضح کیا جائے کہ محکمہ کے گیٹ پر صحافیوں کو داخلے سے روکنے کی ہدایت کس افسر یا اتھارٹی کی جانب سے دی گئی ہے۔
اسی طرح یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ آیا یہ پابندی تمام صحافیوں کے لیے ہے، مخصوص اوقات یا مخصوص مقامات کے لیے ہے، یا صرف بغیر پیشگی ملاقات کے آنے والے میڈیا نمائندوں پر لاگو ہوتی ہے۔
واضح جواب سامنے آنے سے غیر ضروری قیاس آرائیوں کا خاتمہ اور معاملے کی اصل صورتحال عوام کے سامنے آ سکتی ہے۔
شفافیت اور میڈیا کی رسائی
سرکاری ادارے عوامی وسائل سے چلتے ہیں اور ان کے فیصلے بالآخر عوام پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے حکومتی اداروں میں شفافیت، جواب دہی اور معلومات تک رسائی جمہوری نظام کے اہم اجزا سمجھے جاتے ہیں۔
میڈیا بھی اسی نظام میں عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔ صحافی سرکاری مؤقف کو رپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ سوالات اٹھاتے، مختلف فریقوں کا مؤقف لیتے اور عوامی دعووں کی آزادانہ جانچ کرتے ہیں۔
اس تناظر میں کسی بھی سرکاری ادارے میں میڈیا کی رسائی سے متعلق پابندی ہو تو اس کی بنیاد واضح، قابلِ فہم اور تحریری ہونی چاہیے تاکہ یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ سوال پوچھنے والے حلقوں کو انتظامی احکامات کے ذریعے محدود کیا جا رہا ہے۔
یہ صرف ایک گیٹ کا معاملہ نہیں
محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب کے گیٹ پر پیش آنے والا مبینہ واقعہ بظاہر ایک معمولی انتظامی معاملہ دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کے وسیع تر اثرات میڈیا کی آزادی، سرکاری اداروں تک رسائی اور عوام کے معلومات کے حق سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر کسی صحافی کو سرکاری ادارے میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے تو اس پابندی کی وجہ اور قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے۔ اسی طرح صحافیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ سرکاری اداروں کے سکیورٹی اور انتظامی قواعد کا احترام کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیں۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا سرکاری ادارے عوام اور میڈیا کے لیے شفاف اور قابلِ رسائی رہیں گے یا غیر واضح زبانی ہدایات کے ذریعے سوال پوچھنے والوں کے لیے دروازے محدود ہوتے جائیں گے؟**
صحافت کا مقصد کسی ادارے کی مخالفت نہیں بلکہ معلومات کی آزادانہ تصدیق، عوامی مفاد کے سوالات اٹھانا اور زمینی حقیقت سامنے لانا ہے۔ سرکاری پریس ریلیز حکومت کا مؤقف فراہم کرتی ہے، جبکہ ایک ذمہ دار صحافی کا کام اس مؤقف کو رپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت جانچنا اور متعلقہ تمام فریقوں کا مؤقف عوام تک پہنچانا بھی ہے۔
اسی لیے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب کے حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صحافیوں کو مبینہ طور پر داخلے سے روکنے کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کریں گے اور اگر کوئی پابندی موجود ہے تو اس کا **تحریری حکم اور قانونی بنیادبھی سامنے لائیں گے۔
اگر آپ چاہیں تو اس خبر کے لیے میں مزید طاقتور اخباری سرخی، ذیلی سرخی اور 16:9 یوٹیوب تھمب نیل کا مختصر متن** بھی تیار کر سکتا ہوں۔



