کھیلتازہ ترین

آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں کا عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار، وزیر خارجہ کو خط

ان کے مطابق کسی فرد کی سیاسی وابستگی یا نظریات سے قطع نظر، حراست میں موجود شخص کے بنیادی انسانی حقوق اور مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سڈنی: آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے وزیر خارجہ پینی وونگ کو خط لکھ کر پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کی منگل کی رپورٹ کے مطابق سابق کپتانوں نے اپنے خط میں عمران خان کی حراست کے معاملے کو سیاسی یا قانونی بحث کے بجائے "بنیادی انسانیت” کا معاملہ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ جیل میں مناسب سلوک اور طبی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔

خط پر سات سابق کپتانوں کے دستخط

رپورٹ کے مطابق خط پر آسٹریلیا کے سابق کپتانوں ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو واہ نے دستخط کیے ہیں۔

سابق کرکٹ کپتانوں نے واضح کیا کہ وہ یہ خط سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایسے سابق کھلاڑیوں کے طور پر لکھ رہے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ کسی انسانی معاملے پر آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے۔

سیاسی اور قانونی مقدمے پر مؤقف نہیں اپنایا

خط میں سابق کپتانوں نے بظاہر عمران خان کے خلاف مقدمات یا ان کی سیاسی حیثیت کے بارے میں کسی مخصوص مؤقف سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تشویش حراست میں موجود کسی بھی شخص کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق ہے۔

ان کے مطابق کسی فرد کی سیاسی وابستگی یا نظریات سے قطع نظر، حراست میں موجود شخص کے بنیادی انسانی حقوق اور مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

سابق کپتانوں نے اپنے خط میں اسی لیے معاملے کو سیاسی بحث کے بجائے انسانی ہمدردی اور بنیادی انسانیت سے جوڑا۔

آسٹریلیا کا عمران خان کا معاملہ اٹھانے کا مؤقف

سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ کے ترجمان نے کہا ہے کہ آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں عمران خان کا معاملہ باقاعدگی سے اٹھاتا رہتا ہے۔

ترجمان کے مطابق آسٹریلیا پاکستانی حکام پر زور دیتا رہتا ہے کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی حراست اور ان کی صحت سے متعلق معاملات پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

عمران خان کی قید اور مقدمات

رپورٹ کے مطابق 73 سالہ عمران خان 2023 سے قید ہیں۔ انہیں اور ان کی اہلیت سے متعلق مقدمات میں گزشتہ سال کے آخر میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

عمران خان اور ان کے وکلا ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور مقدمات کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی بین الاقوامی کرکٹرز کی اپیل

یہ پہلا موقع نہیں کہ سابق بین الاقوامی کرکٹرز نے عمران خان کی صحت اور علاج سے متعلق معاملہ اٹھایا ہو۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ 22 بین الاقوامی کرکٹرز نے وزیراعظم شہباز شریف کو اپیل بھیجی تھی، جس میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں عمران خان کو مناسب طبی علاج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس اپیل میں بھی آسٹریلیا کے معروف سابق کپتانوں، جن میں چیپل برادران، ایلن بارڈر، اسٹیو واہ، بیلنڈا کلارک اور کم ہیوز شامل تھے، نے شرکت کی تھی۔

معاملہ سیاسی سے زیادہ انسانی بنیادوں پر اٹھانے کا دعویٰ

تازہ خط میں سابق آسٹریلوی کپتانوں نے اپنے مؤقف کو عمران خان کی سیاسی سرگرمیوں یا پاکستان کے اندر جاری سیاسی تنازع سے الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بنیادی تشویش ایک زیرِ حراست شخص کی صحت، انسانی وقار اور مناسب دیکھ بھال سے متعلق ہے۔

یوں سابق کرکٹرز کی جانب سے سامنے آنے والی یہ اپیل پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال پر براہِ راست سیاسی مؤقف اختیار کرنے کے بجائے قیدیوں کے انسانی حقوق اور طبی سہولیات کے عمومی اصول پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

آسٹریلوی حکومت کی جانب سے بھی عمران خان کے معاملے کو پاکستانی حکام کے ساتھ سفارتی رابطوں میں اٹھانے اور مناسب طبی سہولیات کی فراہمی پر زور دینے کی تصدیق کی گئی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button