پاکستانتازہ ترین

پھل خریدنے بلوچستان جانے والے پنجاب کے پانچ تاجر اغوا، پولیس نے واقعے کی تصدیق سے گریز کیا

ذرائع کے مطابق پانچوں افراد پنجاب سے بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ آئے تھے اور ان کا مقصد پھلوں کی خریداری تھا۔ ابتدائی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو گاڑیوں کے ذریعے خربوزے لوڈ کرنے کے لیے علاقے میں موجود تھے جب انہیں مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کے اغوا کی اطلاع سامنے آئی ہے، جو مبینہ طور پر پھل خریدنے کے لیے بلوچستان پہنچے تھے۔ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغوی افراد کے اغوا کی تاحال حتمی تصدیق نہیں ہوسکی۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان کے علاقے گردی پنکئی میں اتوار کے روز پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد دو گاڑیوں میں خربوزے لوڈ کرنے کے لیے علاقے میں موجود تھے کہ اسی دوران موٹرسائیکلوں پر سوار دس سے زائد مسلح افراد وہاں پہنچے اور مبینہ طور پر پانچوں افراد کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

پانچ افراد کی شناخت سامنے آگئی

اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر اغوا ہونے والے افراد کی شناخت محمد آذان، محمد عدنان، محمد شہزاد، انعام رضا اور باقر حسین کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پانچوں افراد پنجاب سے بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ آئے تھے اور ان کا مقصد پھلوں کی خریداری تھا۔ ابتدائی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو گاڑیوں کے ذریعے خربوزے لوڈ کرنے کے لیے علاقے میں موجود تھے جب انہیں مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا۔

واقعے کے بعد علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مغوی افراد کی تلاش اور ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

پولیس کا محتاط مؤقف

قلعہ عبداللہ پولیس کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعہ تحصیل گلستان کے علاقے گردی پنکئی میں پیش آنے کی اطلاع ملی ہے۔

تاہم پولیس حکام نے اس معاملے میں حتمی تصدیق سے گریز کیا ہے۔

ایس پی قلعہ عبداللہ خلیل بگٹی نے واقعے کے حوالے سے رابطے پر بتایا کہ انہیں مزدوروں کے اغوا کی اطلاع موصول ہوئی ہے، تاہم اب تک اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

پولیس کے اس مؤقف کے باعث واقعے کی مکمل نوعیت، مغوی افراد کی موجودہ صورتحال اور انہیں کہاں منتقل کیا گیا، اس بارے میں فی الحال حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

پھلوں کی خریداری کے لیے پنجاب سے بلوچستان آنے والے افراد

قلعہ عبداللہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پھلوں کی تجارت ایک اہم کاروباری سرگرمی ہے۔ پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے تاجر اور مزدور موسمی پھلوں کی خریداری اور ترسیل کے لیے بلوچستان کے مختلف اضلاع کا رخ کرتے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حالیہ واقعے میں بھی متاثرہ افراد خربوزے خریدنے یا لوڈ کرنے کے لیے علاقے میں موجود تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پانچوں افراد تاجر تھے، مزدور تھے یا پھلوں کی خریداری اور ترسیل سے وابستہ دیگر افراد۔

پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات کے بعد ہی ان افراد کے سفر، کاروباری سرگرمی اور اغوا کے واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

گزشتہ ماہ بھی پنجاب سے آنے والے افراد نشانہ بنے تھے

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ بھی قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کو مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کے بعد قتل کیے جانے کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مذکورہ افراد انگور خریدنے کے لیے پنجاب سے بلوچستان آئے تھے۔ انہیں مبینہ طور پر گلستان کے علاقے سے اغوا کرنے کے بعد پشین کے علاقے سرانان منتقل کیا گیا، جہاں بعد ازاں ان کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔

تاہم موجودہ واقعے میں، دستیاب اطلاعات کے مطابق، اب تک کسی تنظیم یا گروہ نے پانچ افراد کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

حالیہ واقعے نے سکیورٹی خدشات بڑھا دیے

پنجاب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پھلوں کی خریداری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے آنے والے افراد کے حوالے سے حالیہ واقعات نے سکیورٹی صورتحال پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

تجارتی سرگرمیوں کے لیے دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد عموماً مقامی منڈیوں، باغات اور پیداواری علاقوں میں جاتے ہیں، جہاں انہیں بعض اوقات نسبتاً دور دراز علاقوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں سکیورٹی کے انتظامات اور مسافروں کی حفاظت اہم معاملہ بن جاتی ہے۔

تاہم موجودہ واقعے کے محرکات کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی اور نہ ہی پولیس نے یہ بتایا ہے کہ اغوا کے پیچھے کون سا گروہ یا مقصد کارفرما ہوسکتا ہے۔

تحقیقات اور مغویوں کی تلاش جاری

پولیس کی جانب سے واقعے کی اطلاعات جمع کرنے اور مبینہ طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ پانچوں افراد آخری مرتبہ کہاں موجود تھے اور انہیں کس سمت لے جایا گیا۔

واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ آیا پانچوں افراد کو واقعی اغوا کیا گیا، انہیں کس گروہ نے نشانہ بنایا اور اس کارروائی کا مقصد کیا تھا۔

دوسری جانب متاثرہ افراد کے اہل خانہ اور متعلقہ افراد کے لیے صورتحال تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

حتمی تصدیق کا انتظار

قلعہ عبداللہ پولیس کی جانب سے فی الحال اغوا کی حتمی تصدیق نہ کیے جانے کے باعث واقعے سے متعلق بعض تفصیلات ابتدائی اطلاعات تک محدود ہیں۔ اس لیے مغوی افراد کی تعداد، شناخت، واقعے کے محرکات اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل سرکاری تحقیقات اور پولیس کی باضابطہ تصدیق کا انتظار ضروری ہے۔

اگر اغوا کی اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ واقعہ قلعہ عبداللہ اور بلوچستان میں بین الصوبائی کاروباری سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جائے گا۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز کے لیے یہ خبر پولیس کی تصدیق اور مزید قابلِ اعتماد معلومات سامنے آنے کے بعد مزید اپ ڈیٹ کی جاسکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button