پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا بطور استاد پہلا دن، کلاس روم میں طلبہ سے گھل مل گئے

رانا سکندر حیات نے بچوں کے ساتھ براہِ راست تدریسی اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سکولوں میں براہِ راست تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ وزیر تعلیم نے بطور استاد اپنے پہلے روز گورنمنٹ گرلز ہائی سکول لدھر میں کلاس لی، جہاں انہوں نے طلبہ کو انگلش اور ریاضی پڑھانے کے ساتھ ساتھ سکول میں دستیاب سہولیات اور تعلیمی ماحول کا بھی جائزہ لیا۔

وزیر تعلیم کے کلاس روم میں پہنچنے کے بعد ماحول رسمی کے بجائے دوستانہ رہا اور طلبہ بھی ان کے ساتھ گھل مل گئے۔ اس دوران بعض طلبہ نے بے تکلفی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "سر، معلوم نہیں ہو رہا کہ آپ ہمارے نئے ٹیچر ہیں۔”

یہ جملہ کلاس روم میں وزیر تعلیم اور طلبہ کے درمیان پیدا ہونے والے دوستانہ ماحول کی عکاسی کرتا رہا، جبکہ رانا سکندر حیات نے بھی بچوں کے ساتھ براہِ راست تدریسی اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

تیسری اور پانچویں جماعت کو انگلش اور ریاضی پڑھائی

وزیر تعلیم نے سکول میں تیسری اور پانچویں جماعت کے بچوں کو انگلش اور ریاضی کے مضامین پڑھائے۔

کلاس شروع کرنے سے قبل انہوں نے طلبہ کی تعلیمی استعداد جانچنے کے لیے اسسمنٹ بھی کی، جس کا مقصد بچوں کی موجودہ تعلیمی سطح، سمجھ بوجھ اور مضمون پر گرفت کا جائزہ لینا تھا۔

رانا سکندر حیات نے تدریس کے دوران بچوں سے سوالات کیے اور انہیں سبق میں شامل کرنے کی کوشش کی، تاکہ کلاس روم کے معمول کے ماحول میں طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا عملی مشاہدہ کیا جاسکے۔

اخلاقیات، صفائی اور برداشت پر بھی گفتگو

وزیر تعلیم نے صرف نصابی تعلیم تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ طلبہ کو اخلاقیات، صفائی، تحمل اور برداشت کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے بچوں کو روزمرہ زندگی میں صفائی ستھرائی اختیار کرنے، دوسروں کا احترام کرنے اور اختلاف کی صورت میں تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔

اس موقع پر کلاس روم میں روایتی لیکچر کے بجائے طلبہ کے ساتھ براہِ راست رابطے اور دوستانہ ماحول کے ذریعے تعلیمی سرگرمی آگے بڑھائی گئی۔

سکول کی سہولیات کا بھی جائزہ

کلاس لینے کے بعد وزیر تعلیم نے سکول میں دستیاب سہولیات اور بنیادی ضروریات کا جائزہ لیا۔

معائنے کے دوران سامنے آنے والی ضروریات کی بنیاد پر انہوں نے نیا واٹر کولر لگانے کی ہدایت کی، جبکہ سکول میں تین اضافی کلاس رومز تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے جدید تعلیمی تقاضوں کے پیش نظر سکول میں روبوٹکس اور اسٹیم لیب قائم کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ طلبہ کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی سے متعلق عملی سرگرمیوں کے بہتر مواقع فراہم کیے جاسکیں۔

کھیلوں کے سامان کی فراہمی کی ہدایت

وزیر تعلیم نے طلبہ کی جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کو بھی تعلیمی عمل کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے سکول کے لیے مختلف کھیلوں کا مکمل سامان فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

ان کھیلوں میں کرکٹ، بیڈمنٹن اور فٹبال سمیت دیگر کھیل شامل ہیں۔

اس اقدام کا مقصد طلبہ کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے لیے بھی مناسب مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ سکول میں بچوں کی ہمہ جہت تربیت اور شخصیت سازی پر توجہ دی جاسکے۔

"تعلیمی اصلاحات کے سفر میں نئے باب کا اضافہ”

اس موقع پر وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ آج تعلیمی اصلاحات کے سفر میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزرا کا خود فیلڈ میں جاکر محکمانہ کارکردگی کا جائزہ لینا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اصلاحاتی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وزیر کا خود سکول جا کر کلاس پڑھانا صرف تدریسی سرگرمی نہیں بلکہ سکولوں کی نگرانی اور تعلیمی اصلاحات کو عملی طور پر جانچنے کا ایک منفرد ماڈل ہے۔

زمینی حقائق جاننے کا عملی طریقہ

رانا سکندر حیات کے مطابق سرکاری دفاتر میں بیٹھ کر سکولوں کی کارکردگی اور تعلیمی معیار کا اندازہ لگانے کے بجائے فیلڈ میں جاکر براہِ راست حالات کا مشاہدہ زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکول میں بطور استاد وقت گزارنے سے تدریسی عمل، طلبہ کی تعلیمی سطح، اساتذہ کو درپیش مسائل اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے زمینی حقائق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ان کے مطابق اس تجربے سے یہ بھی جانچنے میں آسانی ہوگی کہ تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں کا سکول کی سطح پر عملی اثر کیا پڑ رہا ہے۔

نگرانی کے ساتھ عملی شمولیت پر زور

وزیر تعلیم کا سکول میں بطور استاد کلاس لینا روایتی سرکاری معائنے سے مختلف انداز اختیار کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس ماڈل میں صرف سکول کی عمارت، حاضری یا انتظامی معاملات کا جائزہ لینے کے بج

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button