
پاکستان میں ہر روز 10 سے زائد بچے جنسی تشدد کا شکار، رپورٹ شدہ واقعات تشویشناک
خصوصاً کم عمر بچوں کے لیے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو سمجھنا، بیان کرنا اور مدد طلب کرنا مشکل ہو سکتا ہے
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے رپورٹ ہونے والے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق ملک میں روزانہ 10 سے زائد بچوں کے جنسی تشدد کا شکار ہونے کے واقعات سامنے آتے ہیں، تاہم ماہرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد صرف رپورٹ ہونے والے کیسز کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ متعدد واقعات بدنامی کے خوف، سماجی دباؤ، خاندان کی خاموشی، قانونی پیچیدگیوں اور متاثرہ بچوں کی عدم رسائی کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
بچوں کے خلاف جنسی تشدد کا مسئلہ پاکستان میں ایک عرصے سے موجود ہے، لیکن مختلف اوقات میں سامنے آنے والے اعداد و شمار نے اس معاملے کی سنگینی کو مزید نمایاں کیا ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی رپورٹس میں ہر سال بڑی تعداد میں ایسے واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں جن میں بچوں کو جنسی زیادتی، ہراسانی، استحصال یا دیگر جنسی جرائم کا نشانہ بنائے جانے کی شکایات شامل ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق رپورٹ شدہ کیسز کو بچوں کے خلاف جنسی تشدد کی مکمل تصویر سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ایسے جرائم کی ایک بڑی تعداد ممکنہ طور پر رپورٹنگ کے مرحلے تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ خصوصاً کم عمر بچوں کے لیے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو سمجھنا، بیان کرنا اور مدد طلب کرنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ خاندان بھی بعض اوقات سماجی بدنامی یا دیگر وجوہات کی بنا پر معاملہ دبانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
رپورٹ شدہ کیسز اصل مسئلے کا صرف ایک حصہ
بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے اعداد و شمار میں عام طور پر وہ واقعات شامل ہوتے ہیں جو پولیس، عدالتوں، ہسپتالوں، غیر سرکاری تنظیموں یا دیگر متعلقہ اداروں تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی مخصوص مدت میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد کو واقعات کی مجموعی تعداد قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بعض واقعات میں متاثرہ بچے یا ان کے والدین قانونی کارروائی سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بعض خاندان معاشرتی ردعمل کے خوف سے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں سرکاری ریکارڈ اور حقیقی صورتحال کے درمیان نمایاں فرق پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب متاثرہ بچہ اپنے قریبی حلقے میں موجود کسی فرد کی جانب سے مبینہ جنسی تشدد کا سامنا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں بچے پر خاموش رہنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، جس کے نتیجے میں جرم کی اطلاع متعلقہ اداروں تک پہنچنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
کم عمر بچوں کو خصوصی خطرات
بچوں کے تحفظ کے ماہرین کے مطابق کم عمر بچے خاص طور پر حساس صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں کیونکہ وہ بعض اوقات یہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ ان کے ساتھ ہونے والا رویہ نامناسب یا مجرمانہ ہے۔
بچوں کو محفوظ ماحول، عمر کے مطابق آگاہی اور قابل اعتماد بڑوں تک رسائی فراہم کرنا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ اگر کوئی شخص انہیں خوفزدہ کرے، نامناسب رویے کا مظاہرہ کرے یا انہیں کسی ایسی صورتحال میں ڈالے جس سے وہ بے آرام ہوں تو وہ کسی قابل اعتماد فرد کو اس بارے میں بتا سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری صرف بچوں پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ والدین، خاندان، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریاستی نظام سب کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں بچے خود کو محفوظ محسوس کریں اور شکایت کی صورت میں انہیں فوری مدد مل سکے۔
خاموشی مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے
ماہرین کے مطابق جنسی تشدد کے واقعات میں رپورٹنگ کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کئی خاندان ایسے معاملات کو عزت، سماجی دباؤ یا بدنامی سے جوڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرہ بچے کو ضروری طبی، نفسیاتی اور قانونی مدد بروقت نہیں مل پاتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کے ساتھ پیش آنے والے جرم کی ذمہ داری کبھی بھی متاثرہ بچے پر نہیں ڈالی جانی چاہیے۔ ایسے واقعات میں بچے کو مورد الزام ٹھہرانے، اسے شرمندہ کرنے یا اس کی بات کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے تحفظ، اعتماد اور مناسب معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔
قانونی کارروائی اور اداروں کا کردار
بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ قانون پر بلاامتیاز عملدرآمد بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کا ردعمل ایسا ہونا چاہیے جس میں بچے کے تحفظ اور رازداری کو ترجیح دی جائے۔
ماہرین کے مطابق متاثرہ بچوں سے پوچھ گچھ کا طریقہ بھی انتہائی اہم ہے۔ بار بار بیان لینے، غیر ضروری طور پر واقعہ دہرانے پر مجبور کرنے یا نامناسب ماحول میں سوالات کرنے سے بچے کو مزید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے بچوں سے متعلق کیسز میں تربیت یافتہ اہلکاروں، ماہرین نفسیات اور دیگر متعلقہ پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
عدالتی نظام میں بھی بچوں سے متعلق حساس مقدمات کی سماعت کے دوران ایسے طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے جو متاثرہ بچے کو مزید صدمے سے محفوظ رکھیں اور اس کے بیان کو مناسب قانونی تحفظ فراہم کریں۔
اسکولوں میں حفاظتی نظام کی ضرورت
بچوں کے تحفظ کے ماہرین کے مطابق اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے واضح طریقہ کار موجود ہونے چاہئیں۔ اساتذہ اور انتظامی عملے کو اس حوالے سے تربیت دی جانی چاہیے کہ اگر کسی بچے کے رویے، جسمانی حالت یا بیان سے کسی ممکنہ زیادتی کا خدشہ ظاہر ہو تو اسے کس طرح محفوظ طریقے سے متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے۔
اسکولوں میں شکایات کے لیے محفوظ اور قابل اعتماد نظام بھی ضروری ہے تاکہ بچے یا والدین خوف کے بغیر کسی ممکنہ خطرے کی اطلاع دے سکیں۔
ماہرین کے مطابق تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے پالیسی صرف کاغذی دستاویز نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس پر عملی طور پر عملدرآمد، عملے کی نگرانی اور شکایات کے آزادانہ جائزے کا نظام بھی موجود ہونا چاہیے۔
ڈیجیٹل دنیا نے نئے خطرات پیدا کر دیے
بچوں کے خلاف جنسی استحصال کا مسئلہ صرف روایتی ماحول تک محدود نہیں رہا۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔
کم عمر صارفین کو آن لائن اجنبی افراد کی جانب سے رابطوں، نامناسب مواد، بلیک میلنگ اور دیگر خطرات کا سامنا ہے۔ ماہرین والدین پر زور دیتے ہیں کہ وہ بچوں کے آن لائن استعمال کے حوالے سے مناسب آگاہی پیدا کریں اور انہیں یہ سمجھائیں کہ ذاتی معلومات، تصاویر یا دیگر حساس مواد کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے۔
تاہم ماہرین کے مطابق بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور ان کی پرائیویسی کے درمیان بھی مناسب توازن ضروری ہے۔ مقصد بچوں کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
متاثرہ بچوں کی بحالی بھی ضروری
بچوں کے خلاف جنسی تشدد کا اثر صرف واقعے کے وقت تک محدود نہیں رہتا۔ ایسے واقعات بچے کی ذہنی کیفیت، تعلیم، سماجی تعلقات اور مستقبل کی زندگی پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
اسی لیے ماہرین کے مطابق کسی بچے کو تحفظ فراہم کرنے کے بعد اس کی نفسیاتی اور سماجی بحالی بھی ریاستی پالیسی کا حصہ ہونی چاہیے۔ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو ضرورت کے مطابق طبی امداد، نفسیاتی معاونت، قانونی رہنمائی اور سماجی مدد تک رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔
اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر مؤثر حکمت عملی کی ضرورت
بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے رپورٹ شدہ واقعات میں اضافہ یا کمی کو صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر دیکھنے کے بجائے رپورٹنگ کے رجحانات، قانونی نظام تک رسائی اور متاثرین کے لیے دستیاب سہولتوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق مؤثر حکمت عملی کے لیے سب سے پہلے قابل اعتماد اور مربوط ڈیٹا کی ضرورت ہے تاکہ مختلف اداروں میں موجود معلومات کو یکجا کر کے مسئلے کی حقیقی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس، پراسیکیوشن، عدالتوں، صحت کے اداروں، تعلیمی اداروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق تنظیموں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی ضروری ہے۔
پاکستان میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے رپورٹ شدہ واقعات اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے محض واقعات سامنے آنے کے بعد کارروائی کافی نہیں۔ روک تھام، بچوں کی آگاہی، والدین اور اساتذہ کی تربیت، فوری رپورٹنگ، مؤثر تفتیش، متاثرین کی رازداری، عدالتی تحفظ اور نفسیاتی بحالی کو ایک مربوط نظام کا حصہ بنانا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق روزانہ سامنے آنے والے 10 سے زائد رپورٹ شدہ کیسز کی بات دراصل ایک بڑے اور پیچیدہ مسئلے کی طرف اشارہ ہے۔ اگر غیر رپورٹ شدہ واقعات کو بھی مدنظر رکھا جائے تو صورتحال کی مکمل تصویر کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔ اسی لیے بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے خاتمے کے لیے معاشرے میں خاموشی توڑنا، متاثرہ بچوں کو الزام دینے کے بجائے ان کا ساتھ دینا اور ریاستی اداروں کو مؤثر و قابل اعتماد تحفظ کا نظام فراہم کرنا ناگزیر ہے۔



