
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافے کو پاکستان کی معاشی ترقی کی بنیاد بنایا جائے اور روایتی برآمدی شعبوں کے ساتھ ساتھ مزید صنعتوں اور شعبوں کو بھی عالمی منڈیوں کے لیے تیار کیا جائے۔ انہوں نے تجارت کے دائرہ کار کو وسیع اور متنوع بنانے، پاکستانی مصنوعات کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بہتر کرنے، ویلیو ایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی برآمدات بڑھانے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں برآمدی شعبوں کی کارکردگی، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، مصنوعات کے معیار میں بہتری، تجارت میں تنوع، کاروباری سہولت کاری اور برآمد کنندگان کو درپیش رکاوٹوں کے خاتمے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں برآمدات کے فروغ کے لیے پہلے سے منظور شدہ اسٹرٹیجک روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالے سے پیشرفت پر وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھانے، نئے برآمدی شعبوں کی نشاندہی، موجودہ شعبوں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے اور کاروباری ماحول کو مزید سہل بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو محض چند روایتی شعبوں تک محدود رکھنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ صنعتوں اور شعبوں کو عالمی تجارت کا حصہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت کو متنوع بنانے کے لیے ایسے شعبوں کی بھی نشاندہی کی جائے جن میں پاکستان کے پاس عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات میں پائیدار اضافہ ملکی معیشت کے استحکام اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے برآمدی شعبوں کی استعداد بڑھانے اور نئی عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی موجودگی کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
وزیراعظم نے پاکستانی مصنوعات کے معیار کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوالٹی اشورنس کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور بین الاقوامی معیار و ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈیوں میں مسابقت کے لیے صرف مصنوعات کی مقدار میں اضافہ کافی نہیں بلکہ معیار، قابل اعتماد سپلائی، سرٹیفکیشن اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے برآمدات میں ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خام مال اور بنیادی مصنوعات کو زیادہ سے زیادہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تبدیل کیا جائے تاکہ عالمی مارکیٹ میں ان کی قدر، طلب اور مسابقت میں اضافہ ہو سکے۔
وزیراعظم نے برآمدی صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی پیداوار، برآمدی عمل، معیار کی جانچ، مارکیٹنگ اور عالمی خریداروں تک رسائی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے سے پاکستانی کاروباری اداروں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم نے برآمد کنندگان کو درپیش انتظامی اور کاروباری رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ برآمدی عمل کو مزید آسان، تیز اور شفاف بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد کو غیر ضروری پیچیدگیوں اور تاخیر سے نجات دلانا برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھانے کے لیے متعدد دوست ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹس اور رعایتی نرخوں پر تجارت کے معاہدوں کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے تحت نئی منڈیوں تک رسائی اور پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے سازگار تجارتی مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی ہارٹیکلچرل مصنوعات کو برآمدات میں شامل کرنے اور اس شعبے کی عالمی منڈی میں موجودگی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہارٹیکلچر کے شعبے میں پیداوار، معیار، پیکجنگ اور عالمی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگی کے ذریعے برآمدی امکانات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی سرجیکل اور میڈیکل آلات کی برآمدات بڑھانے کے لیے بین الاقوامی ہسپتالوں کے ٹینڈرز اور پروکیورمنٹ کے عمل میں پاکستانی ایکسپورٹرز کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی طبی آلات کو عالمی خریداروں اور اداروں تک براہ راست رسائی فراہم کرنا اور اس شعبے کی برآمدی صلاحیت کو مزید بڑھانا ہے۔
بریفنگ کے دوران عالمی کمپنیوں کو پاکستانی مصنوعات اور برآمدی صلاحیتوں سے روشناس کرانے کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی نمائشوں اور تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ٹیکسپو (TEXPO)، ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ منرلز شو، فوڈ اینڈ ایگریکلچر (FoodAg) سمیت مختلف شعبوں سے متعلق نمائشیں منعقد کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد پاکستانی کاروباری اداروں کو عالمی کمپنیوں، خریداروں اور سرمایہ کاروں سے روابط قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ برآمدات میں جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے انٹیلیکچؤل پراپرٹی قوانین کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق جدید معیشت میں برانڈز، ڈیزائن، ٹیکنالوجی، تحقیق اور تخلیقی مصنوعات کی اہمیت بڑھ رہی ہے، اس لیے دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کو مضبوط بنانا برآمدی مسابقت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
بریفنگ میں ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (EDF) کی تنظیم نو کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ EDF کی تنظیم نو کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور فنڈ کی جانب سے کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں برآمدی شعبوں کی عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس دوران نئی منڈیوں تک رسائی، برآمدی شعبوں میں تنوع، مصنوعات کے معیار میں بہتری، ویلیو ایڈیشن، کاروباری سہولت کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو عالمی تجارت میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کے لیے روایتی برآمدی شعبوں کے ساتھ نئی صنعتوں کو بھی آگے لانا ہوگا۔ ان کے مطابق برآمدات میں اضافہ صرف زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ صنعتی پیداوار، روزگار کے مواقع، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا اہم ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ برآمدی صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے اور پالیسی اقدامات کے ساتھ ان پر عملدرآمد کی رفتار کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی موجودگی بڑھانے کے لیے مارکیٹنگ، برانڈنگ، معیار اور کاروباری روابط کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ برآمدات کے فروغ کے لیے سرکاری اداروں، صنعت، کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے تاکہ پالیسی سازی میں کاروباری شعبے کی ضروریات اور عالمی منڈیوں کے تقاضوں کو سامنے رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جدید عالمی معیشت میں وہی ممالک زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں جو ٹیکنالوجی، جدت، معیار اور ویلیو ایڈیشن کو اپنی برآمدی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بناتے ہیں، اس لیے پاکستان کو بھی اپنی برآمدی پالیسی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ اور وزیراعظم کی ہدایات کے بعد برآمدات میں اضافے، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمدی شعبوں میں تنوع، مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، ویلیو ایڈیشن اور کاروباری سہولت کاری کے لیے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کا اعادہ کیا گیا۔



