پاکستاناہم خبریں

وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع، پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدم تعاون اور شدت پسند گروہوں سے مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات

محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں چھوڑی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرِ قیادت صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مؤثر تعاون نہ کرنے اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ وفاقی وزراء نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہو چکی ہے اور متعدد اضلاع میں شہریوں، پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز اور سرکاری اداروں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو مذاکرات اور تعاون کے ذریعے ساتھ ملانے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم ان کے بقول ان کوششوں کے باوجود کوئی قابلِ قبول پیش رفت نہ ہو سکی۔

وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع، پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدم تعاون اور شدت پسند گروہوں سے مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات
وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع، پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عدم تعاون اور شدت پسند گروہوں سے مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سمیت دیگر حکام نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے پس منظر، صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ ہونے والے رابطوں کی تفصیلات بیان کیں۔

وفاقی وزراء نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر وفاقی حکومت کے لیے غیر معمولی اقدامات پر غور کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق، حکومت کی بنیادی تشویش سیاسی سرگرمیوں یا کسی جماعت کے احتجاج سے زیادہ دہشت گردی کے خطرات اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ تھا۔

یہ پیش رفت صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی سمری پر دستخط کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔

ایمرجنسی کے نفاذ کا آئینی جواز پیش

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232(1) اور 234(1) کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں موجودہ حالات کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا، تاہم اس نوعیت کا اقدام آسان نہیں تھا اور حکومت نے اس سے قبل سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی۔

وزیر قانون کے مطابق، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق فیصلے کے پس منظر اور اس کی وجوہات کی وضاحت وزیر داخلہ محسن نقوی کریں گے، جو صوبائی حکومت کے ساتھ ہونے والے رابطوں اور سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے حکومتی مؤقف پیش کریں گے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو دیکھتے ہوئے آئینی اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، اس فیصلے کی قانونی حیثیت، متعلقہ آئینی شرائط اور عملی اثرات کا تعین سرکاری اعلامیے اور آئینی طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے گا۔

صوبائی حکومت کو مذاکرات کے ذریعے ساتھ ملانے کی کوششیں کی گئیں: محسن نقوی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون اور مفاہمت کے لیے تقریباً ایک ماہ سے کوششیں جاری تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خود بھی صوبائی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ رابطوں میں شامل رہے اور مختلف معاملات پر بات چیت کی جاتی رہی۔

محسن نقوی کے مطابق، وفاقی حکومت کی کوشش تھی کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کی جائے۔ ان کے بقول، حکومت نے سیاسی اختلافات کے باوجود مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور مختلف تجاویز کے ذریعے کسی قابلِ قبول حل تک پہنچنے کی کوشش کی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات، جن میں ملاقاتوں اور علاج معالجے سے متعلق امور بھی شامل تھے، لانگ مارچ سے قبل پورے کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ نیویارک سے قبل اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ملاقات اور مشاورت کا بھی منصوبہ تھا، تاہم ان کے بقول اس سلسلے میں انہیں کوئی حتمی جواب موصول نہیں ہوا۔

محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، لیکن مسلسل رابطوں کے باوجود پیش رفت نہ ہونے کے باعث صورتحال پیچیدہ ہوتی چلی گئی۔

کمیٹی کی تشکیل اور اجلاس کی تجویز پر بھی پیش رفت نہ ہو سکی

وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے اور 15 یا 16 ستمبر کو اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی تھی۔

ان کے مطابق، اس تجویز پر مطلوبہ جواب موصول نہیں ہوا، تاہم حکومت نے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا اور سیاسی قیادت کے ساتھ مفاہمت کے امکانات تلاش کیے۔

محسن نقوی نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی خیبر پختونخوا حکومت کو مشاورت کے عمل میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، اس ملاقات کا مقصد صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینا اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران ایک مسودے پر چار مرتبہ نظرثانی کی گئی۔ ان کے بقول، جب معاملہ طے ہونے کے قریب پہنچا تو حکومت کو معلوم ہوا کہ ایک نیا مسودہ سامنے آ گیا ہے، جس کے باعث اتفاقِ رائے کی کوششوں کو دھچکا لگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے مختلف مراحل پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی، لیکن کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔

آخری رابطہ رات 11 بج کر 45 منٹ پر ہوا: وزیر داخلہ

محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں کی آخری کوشش گزشتہ رات 11 بج کر 45 منٹ پر کی گئی تھی۔

ان کے مطابق، انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو بتایا کہ اس وقت بھی معاملات حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، تاہم ان کے بقول کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے ایک پیراگراف شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی، لیکن اس پر بھی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی سطح پر رابطوں اور مشاورت کا عمل جاری رہا۔

محسن نقوی کے مطابق، حکومت کی کوشش تھی کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی سے متعلق معاملات کو سیاسی تنازع سے الگ رکھتے ہوئے کسی مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا جائے۔

تاہم، ان دعوؤں کے حوالے سے پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف اور مذاکرات میں شامل دیگر فریقوں کی تفصیلات بھی اہم ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ رابطوں میں اختلافات کن نکات پر پیدا ہوئے اور اتفاقِ رائے کیوں ممکن نہ ہو سکا۔

لانگ مارچ ختم کرانا حکومت کا بنیادی مقصد نہیں تھا: محسن نقوی

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ یا دھرنے کو ختم کرانا بنیادی مطالبہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی اصل تشویش دہشت گردی اور خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال تھی۔

محسن نقوی کے الفاظ میں، حکومت کا مسئلہ دہشت گردی تھا اور اسی معاملے پر صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ماضی میں بھی پی ٹی آئی قیادت سے رابطے کرتی رہی ہے اور اس مرتبہ بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا۔

وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کی شرط ان کی وزارت کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی طرف سے سامنے آئی تھی۔

ان کے مطابق، وفاقی حکومت کی توجہ سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر مرکوز تھی۔

خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال تشویش ناک ہے: محسن نقوی

پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ سورج غروب ہونے کے بعد شہریوں کے لیے گھروں سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں دہشت گردی کے خطرات نے شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور معمولات کو متاثر کیا ہے۔

محسن نقوی کے مطابق، صوبے میں پولیس اہلکاروں کو بار بار حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ کسٹمز حکام اور سیکیورٹی فورسز بھی حملوں کی زد میں آ رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button