
سید عاطف ندیم-ادارت
صوابی/پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے حوالے سے صوابی میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے، تاہم متوقع احتجاج بڑے عوامی اجتماع کی صورت اختیار نہ کر سکا۔ ممکنہ مظاہروں کو روکنے اور مارچ کے قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ضلع بھر کے اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ متعدد شاہراہوں اور انٹرچینجز پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے۔ دوسری جانب موبائل فون نیٹ ورکس اور پی ٹی سی ایل کی انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مارچ کے حوالے سے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔ صوابی میں انتظامیہ اور پولیس نے ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیشِ نظر مختلف مقامات پر نفری تعینات کی اور اہم راستوں کی نگرانی بڑھا دی۔
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے قافلے کی ضلع میں آمد متوقع تھی، تاہم مقامی قیادت کی محدود موجودگی اور کارکنوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر متحرک نہ ہونے کے باعث کوئی بڑا احتجاجی اجتماع سامنے نہیں آیا۔ نتیجتاً صوابی میں لانگ مارچ کی سرگرمیاں نمایاں سیاسی یا عوامی مظاہرے کی صورت اختیار نہ کر سکیں۔
صوابی کے اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات
ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے قافلے کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے صوابی کے متعدد اہم مقامات پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ ان مقامات میں امن چوک، ٹوپی، صوابی انٹرچینج اور تحصیل رزڑ کا شیوا اڈہ شامل تھے۔
سیکیورٹی حکمتِ عملی کے تحت اہم شاہراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور انٹرچینجز پر نگرانی بڑھائی گئی، تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتِ حال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، صوابی انٹرچینج، جہانگیرہ پل اور ایم ون موٹروے پر دریائے سندھ کے پل کے قریب کنٹینرز بھی پہنچائے گئے تھے۔ ان انتظامات کا مقصد ممکنہ احتجاجی اجتماعات کے دوران حساس مقامات کی حفاظت اور ٹریفک کی صورتحال کو قابو میں رکھنا بتایا گیا۔
تاہم، سخت سیکیورٹی انتظامات کے باوجود پشاور۔اسلام آباد موٹروے اور گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ ٹریفک کے لیے کھلی رہیں۔ اس طرح بڑے پیمانے پر راستوں کی بندش کے بجائے اہم مقامات پر پولیس کی تعیناتی اور نگرانی کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔
موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے شہری متاثر
صوابی میں موبائل فون نیٹ ورکس اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے باعث شہریوں کو رابطوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مواصلاتی خدمات متاثر ہونے سے روزمرہ رابطوں، کاروباری معاملات اور انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والی سرگرمیوں میں خلل پڑا۔ شہریوں کے لیے اپنے اہلِ خانہ، کاروباری ساتھیوں اور دیگر افراد سے رابطہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہو سکتا تھا۔
ایسے حالات میں مواصلاتی خدمات کی بندش کے اثرات صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہریوں، دکانداروں، طلبہ اور آن لائن کاروبار کرنے والے افراد کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
تاہم، فراہم کردہ معلومات میں سروسز کی معطلی کی باضابطہ وجہ، اس کا دورانیہ اور بحالی کے لیے مقررہ وقت واضح نہیں کیا گیا۔ اس لیے انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش کے حوالے سے متعلقہ حکام کی وضاحت اہم ہوگی۔
لانگ مارچ کے قافلے کی آمد متوقع، مقامی قیادت کی سرگرمیاں محدود
ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا قافلہ 11 اکتوبر کی رات صوابی پہنچنے کی توقع تھی، تاہم مقامی سطح پر پارٹی کی سرگرمیاں محدود رہیں اور کوئی بڑا عوامی اجتماع سامنے نہیں آیا۔
فراہم کردہ خبر میں پیر کے روز ضلع میں کسی نمایاں احتجاجی سرگرمی کی اطلاع نہ ملنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس دوران پارٹی کی مقامی قیادت کی بڑی تعداد کی عدم موجودگی کو بھی احتجاجی سرگرمیوں کے محدود رہنے کا ایک اہم پہلو قرار دیا گیا۔
تاہم، لانگ مارچ کی حتمی نقل و حرکت، قافلے کے مقررہ مقام پر پہنچنے یا نہ پہنچنے اور قیادت کی عدم موجودگی کی وجوہات کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے مارچ کی مجموعی صورتحال کا حتمی تعین کرنے کے لیے پارٹی اور انتظامیہ کے باضابطہ بیانات اہم ہوں گے۔
شیوا اڈہ اور رزڑ میں کارکنوں کی سرگرمیاں، پولیس کی نگرانی سخت
ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے کارکنوں کو مارچ کے انتظامات کے لیے تحصیل رزڑ کے اسپورٹس کمپلیکس میں جمع ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس اطلاع کے بعد پولیس نے متعلقہ علاقوں میں نگرانی اور سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے۔
مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے بعض کارکن اور یوتھ ونگ کے ارکان شیوا اڈہ گراؤنڈ اور اسماعیلہ انٹرچینج پر بھی جمع ہوئے۔
تاہم، فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، پولیس نے بعض کارکنوں کو منتشر کر دیا، جس کے بعد متوقع اجتماع یا بڑے پیمانے پر کارکنوں کی نقل و حرکت عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔
اس دوران پولیس کی توجہ اہم مقامات پر امن و امان برقرار رکھنے، ممکنہ اجتماعات کی نگرانی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے پر مرکوز رہی۔
شیوا اڈہ اور ملحقہ علاقوں میں چھاپے، گرفتاریوں کی اطلاع نہیں
پولیس ذرائع کے مطابق، لانگ مارچ کے قافلے کی متوقع آمد کی اطلاعات کے بعد شیوا اڈہ اور اس کے گردونواح میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ ان کارروائیوں کا مقصد پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری تھا، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
پولیس کی جانب سے ان کارروائیوں کی مکمل تفصیلات، چھاپوں میں شامل اہلکاروں کی تعداد اور جن افراد کی تلاش کی جا رہی تھی، اس حوالے سے مزید معلومات سامنے نہیں آئیں۔
ان کارروائیوں کے دوران کسی بڑے تصادم یا نمایاں ناخوشگوار واقعے کی اطلاع بھی فراہم کردہ تفصیلات میں شامل نہیں ہے۔
امن چوک میں معمولاتِ زندگی برقرار
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوابی کے امن چوک میں صورتحال بڑی حد تک معمول کے مطابق رہی۔ ٹریفک کی آمدورفت جاری رہی اور کاروباری سرگرمیاں بھی حسبِ معمول ہوتی رہیں۔
سیکیورٹی انتظامات کے باوجود شہر کے بعض حصوں میں روزمرہ زندگی مکمل طور پر معطل نہیں ہوئی۔ پشاور۔اسلام آباد موٹروے اور جی ٹی روڈ کھلی رہنے سے مسافروں اور دیگر شہریوں کو آمدورفت کی سہولت میسر رہی۔
پولیس حکام کے مطابق، کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے گئے تھے۔ بڑے احتجاجی اجتماع کی عدم موجودگی اور مقامی سطح پر محدود سرگرمیوں کے باعث صوابی میں لانگ مارچ کے وسیع پیمانے پر گزرنے یا نمایاں عوامی اجتماع کے آثار نظر نہیں آئے۔
خیبر پختونخوا پولیس کا احتجاج اور قانون شکنی کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس نے احتجاجی سرگرمیوں کے دوران امن و امان خراب کرنے، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پولیس حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی احتجاج یا ہنگامے کے دوران سرکاری عمارتوں، تنصیبات اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی اجتماعات، پرتشدد سرگرمیوں اور اشتعال انگیزی سے دور رہیں۔
حکام کے مطابق، امن و امان کو خطرے میں ڈالنے، سیکیورٹی فورسز یا سرکاری عمارتوں پر حملے کرنے اور شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ پرامن رہیں، قانون کا احترام کریں اور کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہ بنیں جس سے عوامی تحفظ یا معمولاتِ زندگی متاثر ہوں۔
سرکاری عمارتوں، بینکوں اور تجارتی مراکز کی سیکیورٹی سخت
پولیس کی جانب سے تھانوں، سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس، تجارتی مراکز اور اہم شاہراہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔
ان انتظامات کا مقصد ممکنہ احتجاج کے دوران حساس مقامات کو محفوظ بنانا، عوامی املاک کو نقصان سے بچانا اور ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی کو یقینی بنانا تھا۔
حکام کے مطابق، احتجاجی سرگرمیوں اور پولیس کے ردعمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جائے گی، تاکہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ شواہد کو قانونی کارروائی میں استعمال کیا جا سکے۔
پولیس نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا، تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتِ حال میں مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم تشدد، توڑ پھوڑ اور قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایمرجنسی کے باضابطہ نفاذ سے پہلے پشاور کینٹ سیل
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے باضابطہ نفاذ سے قبل پشاور کے کینٹ علاقے میں بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، کینٹ کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز رکھ کر آمدورفت محدود کر دی گئی، جس سے ٹریفک اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
صدر بازار سمیت کینٹ کے اندر واقع متعدد تجارتی مراکز بند رہے، جبکہ علاقے میں داخلے کے مختلف راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
صوبائی اسمبلی، مال روڈ، خیبر روڈ اور ہائی کورٹ کی جانب جانے والے راستے بھی بند کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت شہر میں کنٹینرز پہنچائے گئے اور انہیں فردوس چوک، اسمبلی چوک، یونیورسٹی روڈ، پجگی روڈ، کوہاٹ روڈ اور صدر کی جانب جانے والے مختلف راستوں پر نصب کیا گیا۔
ان اقدامات کے نتیجے میں پشاور کے اہم علاقوں میں شہریوں کی نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ خاص طور پر کینٹ کے تجارتی مراکز کی بندش اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹوں کے باعث روزمرہ آمدورفت میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
تاہم، فراہم کردہ معلومات میں راستوں کی بندش کا مکمل دورانیہ، تمام مقامات پر ٹریفک کی متبادل گزرگاہوں اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے بارے میں تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی انتظامات
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوابی اور پشاور میں کیے گئے حفاظتی اقدامات نے صوبے کی سیاسی اور انتظامی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
ایک جانب وفاقی حکومت اور متعلقہ حکام امن و امان برقرار رکھنے اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں اور مجوزہ لانگ مارچ صوبے کی سیاسی صورتحال کا اہم حصہ ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ سیکیورٹی کے اقدامات کے ساتھ شہریوں کی نقل و حرکت، کاروباری سرگرمیوں اور مواصلاتی سہولتوں پر پڑنے والے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
اسی طرح احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی کارروائی میں قانون کی پابندی، متناسب حفاظتی اقدامات اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ اہمیت رکھتا ہے۔
نتیجہ
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوابی میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی سرگرمیاں محدود رہیں اور متوقع بڑے عوامی اجتماع کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس نے امن چوک، ٹوپی، صوابی انٹرچینج، شیوا اڈہ اور دیگر حساس مقامات پر نفری تعینات کی، جبکہ بعض شاہراہوں پر کنٹینرز بھی پہنچائے گئے۔
موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی، کارکنوں کو منتشر کرنے کی کارروائیوں اور پشاور کینٹ میں راستوں کی بندش کے باعث شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب پولیس نے احتجاج کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
آنے والے دنوں میں صوبے کی سیاسی صورتحال کا انحصار سیکیورٹی انتظامات، لانگ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی اور وفاقی و صوبائی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔ اس دوران امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ شہریوں کے حقوق، معمولاتِ زندگی اور قانونی تقاضوں کا تحفظ بھی بنیادی اہمیت کا حامل رہے گا۔



