پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

کراچی میں سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائیاں، کالعدم تنظیموں سے تعلق کے شبہے میں تین دہشت گرد گرفتار

حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا انکشاف، گرفتار افراد کے خلاف تین مقدمات درج

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
احسان احمد-ادارت

کراچی (وائس آف جرمنی اردو نیوز) کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) آپریشن کراچی اور وفاقی حساس ادارے نے شہر کے دو مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے کالعدم دہشت گرد تنظیموں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق کے شبہے میں تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ کارروائیوں کے دوران گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو دستی بم اور ایک تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) برآمد کیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر کراچی میں حساس مقامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے دیگر ساتھیوں، سہولت کاروں اور مالی معاونین کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے، جبکہ اس سلسلے میں مزید کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

پہلی کارروائی: بی ایل اے سے تعلق کے شبہے میں دو ملزمان گرفتار

سی ٹی ڈی آپریشن کراچی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ ٹیم نے پہلی کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق کے شبہے میں دو ملزمان ساجد یوسف ولد محمد یوسف اور شوکت علی عرف شوکی ولد حضور بخش کو گرفتار کیا۔ ترجمان کے مطابق دونوں ملزمان کو لسبیلہ چوک کے قریب بس اسٹاپ پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔

کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے دو دستی بم برآمد کیے گئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق مشترکہ ٹیم کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالعدم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ طور پر تربیت یافتہ افراد اپنے کمانڈر کی ہدایات پر ٹارگٹ کلنگ اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی موبائل گاڑیوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں اور اس وقت کراچی میں موجود ہیں۔

ترجمان کے مطابق موصولہ معلومات کی بنیاد پر مشترکہ ٹیم نے ملزمان کی موجودگی کا سراغ لگایا اور کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دونوں ملزمان مبینہ طور پر اپنے کمانڈر سے مسلسل رابطے میں تھے اور دھماکا خیز مواد استعمال کرتے ہوئے شہر کے حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ ان کے مبینہ نیٹ ورک، رابطوں، سرگرمیوں اور ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔

دوسری کارروائی: ٹی ٹی پی سے تعلق کے شبہے میں ایک ملزم گرفتار

دوسری کارروائی میں سی ٹی ڈی آپریشن کراچی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ ٹیم نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق کے شبہے میں داد محمد عرف عادل ولد جلات خان کو گرفتار کر لیا۔ سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق ملزم کو اولڈ سبزی منڈی کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔

کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے ایک تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) برآمد ہوا۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزم مبینہ طور پر افغانستان میں تربیت حاصل کر چکا ہے اور اپنے کمانڈر کی ہدایت پر کراچی میں حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزم سے اس کے مبینہ کمانڈر، دیگر ساتھیوں، رابطوں اور کراچی میں ممکنہ سہولت کاری کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا ملزم کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ تھا اور شہر میں اس کے دیگر ساتھی بھی سرگرم ہیں یا نہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم کے دیگر ساتھیوں، سہولت کاروں اور مالی معاونین کی نشاندہی کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ مزید مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

مشترکہ کارروائیوں میں دھماکا خیز مواد برآمد

سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی جانب سے کی گئی دونوں کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے درج ذیل دھماکا خیز مواد برآمد ہوا:

  • دو دستی بم۔
  • ایک تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی)۔

حکام کے مطابق برآمد ہونے والے مواد کو قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد کہاں سے حاصل کیا گیا، اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا اور آیا اس منصوبہ بندی میں مزید افراد بھی شامل تھے۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔

گرفتار ملزمان کے خلاف تین مقدمات درج

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی کراچی میں تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مقدمات کی تعداد اور قانونی دفعات درج ذیل ہیں:

  1. مقدمہ الزام نمبر 95/2026: دفعہ 4/5 ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ 1908 اور دفعہ 7 انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت۔
  2. مقدمہ الزام نمبر 96/2026: دفعہ 4/5 ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ 1908 اور دفعہ 7 انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت۔
  3. مقدمہ الزام نمبر 97/2026: دفعہ 4/5 ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ 1908 اور دفعہ 7 انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت۔

حکام کے مطابق مقدمات کے اندراج کے بعد ملزمان سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔ تفتیش کے دوران ان کے مبینہ جرائم، دیگر افراد سے روابط اور دھماکا خیز مواد کی دستیابی سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جائیں گے۔ مقدمات میں عائد الزامات کا حتمی تعین قانونی کارروائی اور عدالتی عمل کے ذریعے ہوگا۔

کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعامات کا اعلان

مشترکہ کارروائیوں میں حصہ لینے والی ٹیموں کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلیٰ حکام نے متعلقہ اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعامات دینے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی، مشتبہ افراد کی گرفتاری اور مبینہ دھماکا خیز مواد کی برآمدگی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی خدمات کو سراہا گیا ہے۔ تعریفی اسناد اور نقد انعامات کا اعلان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کے اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔

کراچی میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے خلاف کارروائیاں جاری

سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائیاں شہر میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کی روک تھام اور مشتبہ نیٹ ورکس کی نشاندہی کے تناظر میں اہم قرار دی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں کارروائیوں میں گرفتار ملزمان سے تفتیش کے ذریعے مزید معلومات حاصل کرنے اور ان کے مبینہ ساتھیوں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تفتیشی اداروں کی توجہ اس امر پر بھی مرکوز ہے کہ آیا گرفتار افراد کسی بڑے منصوبے کا حصہ تھے اور شہر میں کسی ممکنہ کارروائی کے لیے انہیں ہدایات یا وسائل فراہم کیے جا رہے تھے۔ تاہم ان پہلوؤں کی حتمی تصدیق تفتیش اور قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایسے عناصر کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے جو امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز کے لیے رپورٹ: کراچی میں سی ٹی ڈی آپریشن اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں تین ملزمان کی گرفتاری، دستی بموں اور آئی ای ڈی کی برآمدگی کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ گرفتار افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے ان کے مبینہ ساتھیوں، سہولت کاروں اور دیگر روابط کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button