بین الاقوامیاہم خبریں

’کاکروچ کبھی نہیں مرتے‘، بھارت میں نوجوانوں کا احتجاج جاری

سی جے پی کے مطابق عدالت نے عوامی امن برقرار رکھنے کی یقین دہانی کے ساتھ ان کی رہائی کا حکم دیا۔ دیپکے کی رہائی کے فوراً بعد گروپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا، ''کاکروچ کبھی نہیں مرتے۔‘‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے ایف پی، روئٹرز

’’کاکروچ‘‘ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے اور دو دیگر رہنماؤں کو عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے تاہم دہلی میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار بدستور تعینات ہیں۔

دیپکے اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے دیگر رہنماؤں کو ہفتے کے روز اس وقت حراست میں لیا گیا تھا، جب ان کا طیارہ دہلی پہنچا۔ تحریک نے دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں افراد کے اجتماع کا اعلان کر رکھا تھا۔

سی جے پی کے مطابق عدالت نے عوامی امن برقرار رکھنے کی یقین دہانی کے ساتھ ان کی رہائی کا حکم دیا۔ دیپکے کی رہائی کے فوراً بعد گروپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا، ”کاکروچ کبھی نہیں مرتے۔‘‘

نوجوانوں کی یہ تحریک وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے اقتدار میں ان کے 12 برسوں کے دوران سب سے بڑے سیاسی چیلنجوں میں سے ایک بن گئی ہے۔ اس عرصے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلسل انتخابات جیتتی رہی ہے اور کانگریس پارٹی سمیت سیاسی مخالفین کے بڑے چیلنجز کو ناکام بناتی آئی ہے۔

مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا عمل غیر متناسب طور پر نریندر مودی کے حق میں جا رہا ہے۔

’’کاکروچ‘‘ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے اور دو دیگر رہنماؤں کو عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے، فائل فوٹوتصویر: Cockroach Janta Party/REUTERS

ستمبر کے آخر میں انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے بعد سے ملک بھر میں وقفے وقفے سے احتجاج جاری ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گیانیش کمار کے دو نائبین نے ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق اندرونی سطح پر متعدد تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اندرونی مشاورت کے دوران مختلف آرا کا سامنے آنا معمول کی بات ہے اور اس نے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تصدیقی عمل کے دوران ووٹر فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے گئے، جو جاپان کی کل آبادی سے بھی زیادہ تعداد ہے۔ ان میں 6 کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد شامل تھے، جو دوسری جگہ منتقل ہو چکے تھے جبکہ 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

حکمران  بی جے پی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی مخالف جماعتیں ملک کے جمہوری نظام کو بدنام کرنے کے لیے انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا رہی ہیں۔

بی جے پی اور الیکشن کمیشن دونوں انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کے الزامات کی تردید کرتے ہیں، تاہم اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ مسلم ووٹرز اور دیگر اقلیتیں ان حذف شدہ ناموں سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ ان کے حکمراں ہندو قوم پرست جماعت کی حمایت کرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن

سماجی کارکن اور سوشل میڈیا انفلوئنسردھرو راٹھی بھی ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب رہا کر دیے گئے۔ یوٹیوب پر 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے راٹھی نے ایکس پر لکھا، ”مجھے گرفتار یا حراست میں نہیں لیا گیا تھا، مجھے اغوا کیا گیا تھا۔‘‘

اتوار کو دوپہر تک احتجاج نسبتاً محدود رہا۔ طلبہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند درجن افراد نے گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ پولیس نے بعض مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

پولیس اور نیم فوجی اہلکار بدستور شہر بھر میں تعینات ہیں، تاہم میٹرو اسٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے اور موبائل انٹرنیٹ سروس بھی بحال کر دی گئی۔ حکام نے ہفتے کے روز احتجاج روکنے کی کوشش میں شہر کو تقریباً بند کر دیا تھا۔

پولیس اور نیم فوجی اہلکار بدستور نئی دہلی کے حساس مقامات تعینات ہیں، فائل فوٹوتصویر: Manan Vatsyayana/AFP

ان مظاہروں میں نہا بورا احتجاج کی ایک نئی نمایاں آواز بن کر سامنے ابھری ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع دستکاریوں کی مارکیٹ دلی ہاٹ دوبارہ جمع ہوں۔

بائیں بازو کی آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر نہا بھی ان دو ہزار سے زائد کارکنوں میں شامل تھیں، جنہیں ہفتے کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد کو ہفتے کی رات دیر گئے رہا کر دیا گیا۔

اپوزیشن جماعتوں اور مودی حکومت کے ناقدین نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال پر سخت تنقید کی، جبکہ اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے حکام سے مطالبہ کیا کہ پرامن اجتماع کے حق کا احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے بیان کو ”بھارت کے اندرونی معاملات میں بلا جواز مداخلت‘‘ قرار دیا ہے۔

اتوار کو ہونے والی ایک غیر معمولی طور عدالتی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی یہ یقین دہانی ریکارڈ پر لی کہ وکلا اور صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button