
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
پاک فوج نے مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور میزائل نظاموں کی صلاحیتوں میں اضافے کے سلسلے میں ’فتح-2‘ (Fatah-2) توسیع شدہ رینج میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جدید نیویگیشن اور جدید ترین ایویونکس سے لیس یہ ہتھیاروں کا نظام اپنے مخصوص پروازی راستے اور دورانِ پرواز حرکت کرنے کی صلاحیت کی بدولت انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے اور مخالف میزائل دفاعی نظام کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ ’فتح-2‘ کے توسیع شدہ رینج ورژن کا تجربہ کیا گیا، جس کا مقصد اس کے تکنیکی نظام اور کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔ فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق، میزائل کی وسیع تر رینج پاکستان کی فوجی پہنچ اور دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔
تجربے کا مشاہدہ کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ، پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ سائنسدانوں و انجینئروں نے کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے میزائل کی تیاری اور تجربے سے وابستہ سائنسدانوں اور انجینئروں کی پیشہ ورانہ مہارت، تکنیکی قابلیت اور عزم کو سراہا۔
کامیاب تجربے پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کے سربراہان نے سائنسدانوں اور انجینئروں کو مبارکباد دی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس کامیابی کو دفاعی شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے قوم کو مبارکباد پیش کی۔
جدید نیویگیشن اور ایویونکس سے لیس میزائل نظام
آئی ایس پی آر کے مطابق، ’فتح-2‘ میزائل نظام میں جدید نیویگیشن اور ایویونکس ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جو پرواز کے دوران میزائل کی سمت، رہنمائی اور طے شدہ ہدف تک پہنچنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
نیویگیشن نظام کسی میزائل کو اس کی پرواز کے دوران مطلوبہ سمت اور مقام کے تعین میں مدد دیتا ہے، جبکہ ایویونکس سے مراد ایسے الیکٹرانک نظام ہیں جو رہنمائی، کنٹرول، معلومات کی پراسیسنگ اور پرواز سے متعلق مختلف افعال انجام دیتے ہیں۔ ان نظاموں کی کارکردگی میزائل کی مجموعی درستگی اور قابلِ اعتماد آپریشن کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
فوج کے میڈیا ونگ کا کہنا ہے کہ ’فتح-2‘ کا مخصوص پروازی راستہ اور دورانِ پرواز حرکت کرنے کی صلاحیت اسے روایتی انداز میں پرواز کرنے والے بعض ہتھیاروں سے مختلف بناتی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ خصوصیات میزائل کو اہداف تک پہنچنے کے دوران اپنی پرواز میں تبدیلی کرنے اور مخالف میزائل دفاعی نظام کے لیے اسے روکنے کے عمل کو پیچیدہ بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
تاہم، تجربے کے حوالے سے جاری بیان میں میزائل کی درست رینج، رفتار، پرواز کی مکمل تفصیلات، وارہیڈ کی نوعیت یا تجربے کے دوران حاصل کیے گئے مقداری نتائج کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔
توسیع شدہ رینج سے فوجی پہنچ میں اضافے کا دعویٰ
آئی ایس پی آر کے مطابق، ’فتح-2‘ کے توسیع شدہ رینج ورژن کی ایک اہم خصوصیت دور دراز اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہے۔ طویل رینج کے میزائل نظام کسی فوج کو اپنی مقررہ عملی حدود سے آگے اہداف کو نشانہ بنانے کے زیادہ امکانات فراہم کر سکتے ہیں، تاہم ان کی حقیقی افادیت کا انحصار رینج، درستگی، ہدف کی نوعیت، آپریشنل حالات اور مخالف دفاعی نظام کی صلاحیتوں پر ہوتا ہے۔
فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ’فتح-2‘ اپنے منفرد پروازی راستے اور حرکت پذیری کی وجہ سے انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے اور دشمن کے میزائل دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میزائل دفاعی نظام عام طور پر ایسے سینسرز، ریڈارز، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظاموں اور دفاعی ہتھیاروں پر مشتمل ہوتے ہیں جو آنے والے میزائل کی شناخت، اس کی پرواز کی نگرانی اور اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی میزائل کی رفتار، پروازی راستے میں تبدیلی اور رہنمائی کی صلاحیتیں اس کے خلاف دفاعی کارروائی کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔
تاہم، کسی مخصوص میزائل کی دفاعی نظاموں کو عبور کرنے کی عملی صلاحیت کا حتمی تعین صرف عمومی تکنیکی خصوصیات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے تجرباتی نتائج، متعلقہ نظاموں کی کارکردگی اور ممکنہ مخالف دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں قابلِ تصدیق معلومات درکار ہوتی ہیں۔
آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے کمانڈر نے سائنسدانوں کی کارکردگی سراہ لی
آئی ایس پی آر کے مطابق، ’فتح-2‘ کے تجربے کا مشاہدہ کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ، پاک فوج کے سینئر افسران اور میزائل کی تیاری سے متعلق سائنسدانوں اور انجینئروں نے کیا۔
کامیاب تجربے کے بعد کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے منصوبے پر کام کرنے والی تکنیکی ٹیموں کی مہارت اور پیشہ ورانہ عزم کو سراہا۔ میزائل نظاموں کی تیاری میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی مشترکہ کوششیں اہم ہوتی ہیں، جن میں ایرو اسپیس انجینئرنگ، الیکٹرانکس، نیویگیشن، کنٹرول سسٹمز، مواد کی سائنس اور تجرباتی جانچ شامل ہو سکتی ہے۔
میزائل کی تیاری اور جانچ کا عمل صرف ہتھیار کی تیاری تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس میں مختلف ذیلی نظاموں کی مطابقت، رہنمائی کی درستگی، ساختی کارکردگی اور مقررہ تکنیکی تقاضوں کی تصدیق بھی شامل ہوتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، ’فتح-2‘ کا کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے سلسلے میں متعلقہ سائنسدانوں اور انجینئروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد
’فتح-2‘ کے کامیاب تجربے کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سائنسدانوں اور انجینئروں کو مبارکباد دی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کے سربراہان نے بھی اس کامیابی پر متعلقہ ٹیموں کو سراہا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب تجربے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے سائنسدانوں اور انجینئروں نے قابلِ ستائش کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے تجربے کو دفاعی شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے مبارکباد کو ملکی دفاعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور متعلقہ سائنسی و تکنیکی افرادی قوت کی کوششوں کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی دفاعی صنعت میں مقامی سطح پر تحقیق، ڈیزائن، تیاری اور تجرباتی جانچ کی صلاحیتوں میں اضافہ ایک اہم پالیسی ترجیح رہا ہے۔ مقامی تکنیکی مہارتوں کی ترقی سے بعض دفاعی نظاموں کی تیاری، دیکھ بھال اور اپ گریڈیشن کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس کا حقیقی پیمانہ متعلقہ نظاموں کی مقامی تیاری اور دستیاب تکنیکی معلومات سے طے ہوتا ہے۔
’فتح-4‘ کروز میزائل کے تجربے کے بعد نئی پیش رفت
’فتح-2‘ کا تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب آئی ایس پی آر کے مطابق، گزشتہ ہفتے مقامی طور پر تیار کردہ ’فتح-4‘ (Fatah-4) گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔
فوج کے میڈیا ونگ نے ’فتح-4‘ کے بارے میں بتایا تھا کہ یہ نظام جدید ایویونکس اور جدید نیویگیشنل آلات سے لیس ہے اور وسیع فاصلے پر موجود اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ’فتح-4‘ کے تجربے کے دوران بہتر درستگی اور بقا کی صلاحیت سے متعلق مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کی بھی تصدیق کی گئی۔
کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل کے درمیان بنیادی فرق ان کے پروازی انداز میں ہوتا ہے۔ کروز میزائل عموماً فضا میں نسبتاً مسلسل، ہوائی جہاز سے مشابہ پرواز کرتے ہیں اور ان کے انجن پرواز کے بڑے حصے کے دوران انہیں آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے برعکس، بیلسٹک میزائل ابتدائی مرحلے میں طاقت کے ذریعے بلند کیے جانے کے بعد اپنے پروازی راستے کے ایک بڑے حصے میں بیلسٹک اصولوں کے مطابق سفر کرتے ہیں، اگرچہ جدید نظاموں میں رہنمائی اور پرواز میں تبدیلی کی مختلف صلاحیتیں بھی ہو سکتی ہیں۔
اسی لیے ’فتح-2‘ اور ’فتح-4‘ کو ایک ہی نوعیت کا نظام قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دونوں کے مقاصد، پروازی طریقہ کار اور تکنیکی خصوصیات میں فرق ہو سکتا ہے، جبکہ ان کی درست صلاحیتوں کا تعین متعلقہ سرکاری تکنیکی معلومات سے ہی ممکن ہے۔
’فتح-4‘ کا 750 کلومیٹر تک تربیتی تجربہ
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ستمبر 2025 میں پاک فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ ’فتح-4‘ میزائل کا 750 کلومیٹر تک تربیتی تجربہ کامیابی سے مکمل کیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، ’فتح-4‘ کو زمین کی سطح کے قریب پرواز کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی پرواز کو انگریزی میں Terrain-hugging flight کہا جاتا ہے، جس میں میزائل زمین کی ساخت کے مطابق نسبتاً کم بلندی پر پرواز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
کم بلندی پر پرواز کرنے والے بعض کروز میزائلوں کو زمینی ساخت اور ریڈار کی افق سے متعلق حدود کے باعث بعض حالات میں بروقت شناخت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم، ایسی صلاحیت کی عملی افادیت کا انحصار پرواز کی بلندی، جغرافیائی حالات، ریڈار کی جگہ، سینسرز اور مخالف دفاعی نظام کی نوعیت پر ہوتا ہے۔
’فتح-4‘ کے حوالے سے فوج کا مؤقف ہے کہ اس کی تکنیکی خصوصیات درستگی اور بقا کی صلاحیت میں اضافے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ اس نظام کی رینج اور دیگر خصوصیات پاکستان کے روایتی میزائل نظاموں کی افادیت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
بیلسٹک اور کروز میزائل نظاموں میں فرق
’فتح-2‘ اور ’فتح-4‘ کے تجربات کو سمجھنے کے لیے دونوں نظاموں کے بنیادی فرق کو جاننا اہم ہے۔
بیلسٹک میزائل: عموماً ابتدائی مرحلے میں انجن کی مدد سے رفتار حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے پروازی راستے کے ایک بڑے حصے میں بیلسٹک اصولوں کے تحت سفر کرتے ہیں۔ جدید بیلسٹک نظاموں میں رہنمائی اور بعض صورتوں میں پرواز کے دوران حرکت کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہو سکتی ہے۔
کروز میزائل: عموماً فضا میں انجن کی مدد سے مسلسل پرواز کرتے ہیں اور اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے رہنمائی کے نظام استعمال کرتے ہیں۔ ان کی پرواز کا راستہ مختلف ہو سکتا ہے اور بعض نظام کم بلندی پر پرواز کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔
نیویگیشن اور ایویونکس: دونوں اقسام کے میزائلوں میں رہنمائی، سمت کے تعین، کنٹرول اور پرواز سے متعلق معلومات کی پراسیسنگ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان فرقوں کی روشنی میں ’فتح-2‘ کے لیے آئی ایس پی آر کی جانب سے استعمال کی گئی تکنیکی اصطلاحات کو سرکاری بیان کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں اسے توسیع شدہ رینج کا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل قرار دیا گیا ہے، تاہم اس کی رفتار یا دیگر تفصیلی تکنیکی پیمانے بیان نہیں کیے گئے۔
پاکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی اور مقامی تحقیق کی اہمیت
میزائل نظاموں کے تجربات دفاعی ٹیکنالوجی میں تحقیق، انجینئرنگ اور آزمائشی صلاحیتوں کے جائزے کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے متعلقہ نظاموں کے تکنیکی اجزا، رہنمائی کے طریقہ کار اور مجموعی کارکردگی کو جانچنے کا موقع ملتا ہے۔
مقامی سطح پر دفاعی نظاموں کی تیاری سے ملکی سائنسدانوں اور انجینئروں کے تجربے میں اضافہ، تکنیکی مہارتوں کی ترقی اور بعض شعبوں میں بیرونی سپلائی پر انحصار کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی نظام کی مکمل خود کفالت کا تعین اس کے تمام اہم اجزا، سافٹ ویئر، مواد اور پیداواری عمل کی مقامی دستیابی سے کیا جاتا ہے۔
’فتح-2‘ کے تجربے کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے جدید نیویگیشن، ایویونکس، پروازی راستے اور حرکت پذیری کو اہم خصوصیات کے طور پر بیان کیا ہے۔ یہ خصوصیات میزائل کی کارکردگی کے حوالے سے فوج کے پیش کردہ مؤقف کا حصہ ہیں، جبکہ آزادانہ تکنیکی جائزے کے لیے مزید تفصیلات درکار ہوں گی۔
دفاعی صلاحیت، ڈیٹرنس اور علاقائی سلامتی
پاکستان سمیت مختلف ممالک اپنے دفاعی نظاموں کو جدید بنانے کے لیے میزائل ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظاموں اور دیگر عسکری شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان کوششوں کے حامیوں کے مطابق، مؤثر دفاعی صلاحیت مخالف قوتوں کو ممکنہ حملے کے نتائج پر غور کرنے پر مجبور کرکے ڈیٹرنس، یعنی حملے سے باز رکھنے کی صلاحیت، میں کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم، علاقائی سلامتی کا انحصار صرف میزائلوں یا دیگر عسکری نظاموں پر نہیں ہوتا۔ اس کے لیے سیاسی مکالمہ، سفارتی روابط، اعتماد سازی اور تنازعات کے پرامن حل کی کوششیں بھی اہم ہیں۔ جدید ہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ ان کے ذمہ دارانہ استعمال، بین الاقوامی ذمہ داریوں اور خطے میں کشیدگی سے بچنے کے اقدامات کو بھی اہمیت حاصل رہتی ہے۔
’فتح-2‘ کے کامیاب تجربے کے حوالے سے پاکستان کی عسکری قیادت نے دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سائنسدانوں و انجینئروں کی تکنیکی مہارت کو سراہا ہے۔ تاہم، اس تجربے کے علاقائی توازن یا مخالف دفاعی نظاموں پر حقیقی اثرات کا تعین دستیاب تکنیکی معلومات اور آزادانہ جائزے کے بغیر حتمی طور پر نہیں کیا جا سکتا۔
اہم دفاعی پیش رفت، مگر تفصیلی تکنیکی معلومات محدود
آئی ایس پی آر کے مطابق، ’فتح-2‘ توسیع شدہ رینج میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کے میزائل پروگرام میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ فوج نے اسے جدید نیویگیشن، ایویونکس، درستگی اور دورانِ پرواز حرکت کرنے کی صلاحیت سے متعلق خصوصیات کے تناظر میں بیان کیا ہے۔
صدر مملکت، وزیراعظم، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مسلح افواج کے سربراہان کی جانب سے مبارکباد جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے کامیابی کو سراہنا اس تجربے کی سرکاری سطح پر اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب، میزائل کی درست رینج، رفتار، تجربے کے مکمل نتائج اور مخصوص تکنیکی کارکردگی کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے فی الحال اس کی صلاحیتوں سے متعلق دستیاب معلومات کو آئی ایس پی آر کے بیان کے تناظر میں ہی دیکھنا مناسب ہوگا۔
مجموعی طور پر، ’فتح-2‘ کا تجربہ پاکستان کی دفاعی تحقیق اور میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی کی کوششوں کا حصہ ہے، جبکہ حالیہ ’فتح-4‘ تجربے کے ساتھ یہ پیش رفت ملکی دفاعی نظاموں کی تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔



