
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں….. علی عباس کاظمی
اگر شہریوں کی جان خطرے میں ہے تو حکومت کی تشویش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور اس ذمہ داری میں کوتاہی پر جواب دہی ہونی چاہیے
ریاستیں صرف بیرونی دشمنوں کے حملوں سے کمزور نہیں ہوتیں، بعض اوقات ان کے اندر پنپنے والی ناانصافیاں بھی قومی وحدت کی بنیادیں ہلا دیتی ہیں۔ جب اقتدار عوام کی رائے کو اپنی طاقت کا سرچشمہ سمجھنے کے بجائے اپنے لیے خطرہ تصور کرنے لگے، جب سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہونے لگے اور جب مخالف کی شکست کو قومی کامیابی سمجھ لیا جائے تو بحران محض سیاسی نہیں رہتا، ریاست کے مستقبل تک پھیل جاتا ہے۔ خیبر پختون خوا میں گورنر راج، منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات کی تبدیلی اور اس اقدام کے حق میں پیش کیے جانے والے قومی سلامتی کے دلائل اسی تناظر میں غور طلب ہیں۔ دہشت گردی یقیناً ایک سنگین خطرہ ہے، لیکن اس کے مقابلے کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں کا آئینی جواز، سیاسی اثرات اور عملی نتائج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبر پختون خوا میں امن و امان کی صورت حال غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر شہریوں کی جان خطرے میں ہے تو حکومت کی تشویش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور اس ذمہ داری میں کوتاہی پر جواب دہی ہونی چاہیے۔ لیکن کسی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا اور اسے غیر معمولی انتظامی اقدام کے ذریعے ہٹانا دو الگ معاملات ہیں۔ ایسے اقدام کے لیے واضح آئینی بنیاد، قابلِ جانچ شواہد اور شفاف قانونی طریقۂ کار ضروری ہیں۔ قومی سلامتی کا حوالہ کسی فیصلے کو خودبخود درست ثابت نہیں کرتا۔ اس تبدیلی سے دہشت گردی کے خاتمے میں کیا مدد ملے گی اور اس کی کامیابی جانچنے کے لیے کون سے معیار مقرر کیے گئے ہیں۔
اگر خیبر پختون خوا میں دہشت گردی پر قابو پانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی تو اس میں وفاقی حکومت، سکیورٹی اداروں، انٹیلی جنس نظام اور سرحدی نگرانی کے کردار کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ بلوچستان میں بھی مختلف ادوار کی حکومتوں اور سکیورٹی اقدامات کے باوجود دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ اس حقیقت سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ کسی حکومت کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی جیسے پیچیدہ مسئلے کو صرف ایک سیاسی جماعت کی ناکامی قرار دے کر حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے اسباب میں کمزور حکمرانی، اداروں کے درمیان عدم تعاون، مقامی محرومیاں اور سلامتی کی پالیسیوں سے متعلق مسائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک فریق کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا سیاسی طور پر آسان، لیکن مسئلے کے حل کے لیے ناکافی ہے۔خیبر پختون خوا میں نئے انتظامی بندوبست، اعلیٰ سرکاری افسروں کے تبادلوں اور وفاقی سطح پر نگرانی کے لیے کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق اصل سوال ان اقدامات کے نتائج کا ہے۔ اجلاسوں کی کثرت، بیانات کی شدت اور اختیارات کی مرکزیت کو کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔ کامیابی تب ہوگی جب شہری محفوظ ہوں، دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئے، پولیس اور متعلقہ اداروں کی استعداد بہتر ہو اور لوگوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں اطمینان محسوس ہو۔ اگر انتظامی تبدیلی کے بعد بھی بنیادی مسائل برقرار رہتے ہیں تو فیصلے کرنے والوں کو اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینا ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری صرف اختیار حاصل کرنا نہیں، اس اختیار کے نتائج کا حساب دینا بھی ہے۔
پاکستان کی تاریخ اس معاملے میں ایک نہایت اہم تنبیہ اپنے اندر رکھتی ہے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں واضح اکثریت حاصل کی اور قومی اسمبلی میں بھی سب سے زیادہ نشستیں جیتیں۔ جمہوری اصول کے مطابق اس انتخابی نتیجے کی بنیاد پر اقتدار کی منتقلی ہونی چاہیے تھی، لیکن سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات، اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ اور مذاکرات کی ناکامی نے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں طویل عرصے سے موجود لسانی، معاشی اور سیاسی محرومیوں نے بھی عوامی بے اعتمادی کو بڑھایا۔ مارچ 1971ء میں فوجی کارروائی، بڑے پیمانے پر تشدد، خانہ جنگی اور پھر بھارتی فوجی مداخلت کے بعد دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ سقوطِ ڈھاکہ کسی ایک فیصلے یا ایک فریق کی وجہ سے رونما ہونے والا سادہ واقعہ نہیں تھا، بلکہ متعدد سیاسی غلطیوں، باہمی عدم اعتماد اور طاقت کے استعمال سے گہرا ہونے والے بحران کا نتیجہ تھا۔اس سانحے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ آبادی کی اکثریت کے انتخابی فیصلے کو نظرانداز کرکے قومی وحدت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ جب کسی خطے کے لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ ان کے ووٹ کی اہمیت محدود ہے، ان کی آواز فیصلہ سازی میں مؤثر نہیں اور ان کی شکایات کو سننے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے سقوطِ ڈھاکہ کو محض ماضی کا قصہ سمجھ کر بھلا دینا تاریخی سبق سے محرومی کے مترادف ہوگا۔ آج خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اس تاریخ کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے، اگرچہ موجودہ صورت حال کو 1971ء کے حالات کے عین برابر قرار دینا درست نہیں۔ ہر دور کے اپنے حالات ہوتے ہیں، مگر سیاسی ناانصافی کے ممکنہ نتائج سے سبق حاصل کرنے کی اہمیت ہر دور میں برقرار رہتی ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہماری سیاست میں جمہوری اصول اکثر جماعتی مفادات کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اقتدار سے باہر ہونے پر سیاسی جماعتیں عوامی مینڈیٹ، آئینی حقوق اور سیاسی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں، لیکن اقتدار کے قریب پہنچ کر انہی اصولوں کے بارے میں ان کا طرزِ عمل بدل سکتا ہے۔ سیاسی مخالفین کی جانب سے یومِ نجات منانے کا معاملہ بھی اسی سیاسی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر کسی جماعت کو مخالف حکومت کی تبدیلی اپنی فتح محسوس ہوتی ہے تو اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ سیاسی حریف کو کمزور کرنے کی یہ روایت کل اس کے اپنے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔ کسی سیاسی مخالف کی شکست لازماً عوام کی کامیابی نہیں ہوتی۔ عوام کی کامیابی تب ہے جب ان کے مسائل حل ہوں، ان کے حقوق محفوظ رہیں اور ان کے منتخب نمائندے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ منتخب حکومتیں احتساب سے بالاتر ہیں۔ اگر کسی حکومت پر دہشت گردوں کی سہولت کاری، ناقص حکمرانی یا امن و امان کے معاملے میں غفلت کے الزامات ہیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ ثبوت سامنے آنے پر قانون کے مطابق کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ لیکن الزامات اور ثابت شدہ حقائق میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سیاسی مخالفت کسی کو مجرم ثابت نہیں کرتی، جیسے انتخابی کامیابی کسی حکومت کو ہر غلطی سے بری الذمہ نہیں بناتی۔ قانون کی بالادستی اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب اس کا اطلاق سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو۔ جمہوریت کا تحفظ حکومت کو احتساب سے بچانے کا نام نہیں، بلکہ احتساب کو منصفانہ اور آئینی بنانے کا نام ہے۔
پاکستان کو اس وقت دہشت گردی، معاشی مشکلات، صوبائی محرومیوں اور سیاسی بے اعتمادی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کو جماعتی مفاد سے بلند رکھیں۔ وفاقی حکومت کو اپنے فیصلوں کا قانونی جواز اور عملی نتائج واضح کرنے چاہییں، صوبائی قیادت کو امن و امان کے معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات کے حل کے لیے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ میڈیا اور پارلیمان کو بھی نعروں سے آگے بڑھ کر فیصلوں کی شفافیت، قانونی حیثیت اور عوامی اثرات پر توجہ دینی چاہیے۔ ریاستی اداروں کا احترام اپنی جگہ، لیکن ان کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا آئینی تعین بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ خیبر پختون خوا کے عوام بھی اسی پاکستان کا حصہ ہیں اور ان کے تحفظ کے ساتھ ان کے سیاسی حقوق کا احترام بھی قومی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور جمہوری اصولوں کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ مستحکم ریاست کے دو بنیادی تقاضے ہیں۔پاکستان ایک اور بنگلہ دیش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اقتدار عارضی ہے، جماعتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر ریاست اور اس کے عوام کا رشتہ مستقل اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ہم نے عوامی مینڈیٹ کو سیاسی سہولت کے مطابق قبول یا مسترد کرنے کی روایت جاری رکھی، تو قومی یکجہتی کے دعوے کمزور پڑتے رہیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ سیاست کو انتقام کے بجائے خدمت، طاقت کے بجائے انصاف اور تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ دیا جائے۔ وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں، یہ اپنے شہریوں کے اعتماد کی امانت بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس امانت کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں یا اقتدار کی کشمکش میں اسے پھر سے داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں؟


