
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، چار دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہید
قلات کے علاقے جٹاک آباد میں کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد؛ گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور میں کلیئرنس آپریشن کے دوران دیسی ساختہ بم کا حملہ، میجر وجاہت وحید نے وطن پر جان قربان کردی
سید عاطف ندیم-ادارت
بلوچستان کے اضلاع قلات اور گوادر میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور میں کلیئرنس آپریشن کے دوران دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے حملے میں پاک فوج کے میجر وجاہت وحید نے جامِ شہادت نوش کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے متعلقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور اور ضلع قلات کے علاقے جٹاک آباد میں بھارت کی سرپرستی میں سرگرم گروہ ’فتنہ الہند‘ کے متعدد مبینہ ٹھکانوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔ ان اطلاعات کے مطابق یہ ٹھکانے مقامی آبادی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کا پتا لگانے، ان کے خلاف کارروائی کرنے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے آپریشنز شروع کیے۔
قلات کے علاقے جٹاک آباد میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، چار دہشت گرد ہلاک
تفصیلات کے مطابق 18 اکتوبر 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے ضلع قلات کے علاقے جٹاک آباد میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ برآمد ہونے والے اسلحے اور گولہ بارود سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم کارروائی کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانا اور مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانا بتایا گیا ہے۔
جٹاک آباد میں کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ایسے آپریشنز اہمیت رکھتے ہیں۔
شادی کور میں کلیئرنس آپریشن، میجر وجاہت وحید شہید
دوسری جانب ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور میں سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشنز کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ ان کارروائیوں کا مقصد علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کا سراغ لگانا، ان کے ممکنہ ٹھکانوں کو تلاش کرنا اور علاقے کو محفوظ بنانا تھا۔
آپریشن کے دوران میجر وجاہت وحید کی قیادت میں آگے بڑھنے والے سیکیورٹی دستے کو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں میجر وجاہت وحید نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔

شہید میجر وجاہت وحید کی عمر 34 سال اور تعلق لاہور سے بتایا گیا ہے۔ انہوں نے ملک کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران اپنی جان قربان کردی۔
میجر وجاہت وحید کی شہادت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب سیکیورٹی فورسز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خلاف کلیئرنس آپریشنز میں مصروف تھیں۔ دیسی ساختہ بموں کا استعمال سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی آبادی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے، اسی لیے ایسے واقعات کے بعد علاقے کی تلاشی، مشتبہ مقامات کی جانچ اور ممکنہ خطرات کے خاتمے کے اقدامات اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔
دہشت گردوں کے خلاف سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری رکھنے کا فیصلہ
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق شادی کور اور دیگر متعلقہ علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری رکھے جائیں گے۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنا، ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور متعلقہ علاقوں میں سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے مشتبہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرکے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم، کسی بھی کارروائی کے دوران شہریوں کے تحفظ اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کو بنیادی اہمیت حاصل رہتی ہے۔
عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے شروع کی گئی مہم ’عزمِ استحکام‘ کے تناظر میں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
اس مہم کا مقصد ملک میں دہشت گردی کے خطرات کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنا اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کے ذریعے امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک میں غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی آپریشنز صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قلات اور گوادر میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں میں چار دہشت گردوں کی ہلاکت اور میجر وجاہت وحید کی شہادت اس صورت حال کے اہم پہلو ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کے مطابق متعلقہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ دہشت گردوں کی موجودگی کے خطرات کو ختم کیا جاسکے اور مقامی آبادی کو محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔ میجر وجاہت وحید کی شہادت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کو درپیش خطرات کو بھی اجاگر کیا ہے۔



