سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو خلائی مشن پر روانہ ہوگا، 2035 تک چاند پر اترنے کا ہدف مقرر: احسن اقبال

یونیورسٹی آف نارووال کی اسلام آباد سائنس فیسٹیول میں پہلی پوزیشن، پاکستان کا پہلا خلائی عجائب گھر بھی یونیورسٹی میں قائم کیا جائے گا؛ نارووال میں عالمی خلائی ہفتہ 2026 کی اختتامی تقریب سے وفاقی وزیر کا خطاب

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ناصف اعوان-ادارت

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین کے خلائی مرکز سے اپنے خلائی مشن کا آغاز کرے گا، جبکہ پاکستان نے 2035 تک چاند پر اترنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ خلائی تحقیق کے شعبے میں تعاون پاکستان کے لیے جدید سائنسی علوم، خلائی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار نارووال میں عالمی خلائی ہفتہ (ورلڈ اسپیس ویک) 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب ان کے وژن کے تحت سپارکو (پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن) کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں خلائی سائنس، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ خلائی تحقیق محض خلا میں سفر کرنے یا سیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات زراعت، مواصلات، موسمیاتی نگرانی، تعلیم، قدرتی وسائل کے انتظام اور قومی سلامتی سمیت متعدد شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔

چین کے تعاون سے خلائی تحقیق میں پیش رفت کی توقع

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کے پہلے خلاباز کا مجوزہ خلائی مشن ملک کے خلائی پروگرام کے لیے اہم پیش رفت ہوگا۔ ان کے مطابق خلاباز 25 نومبر کو چین کے خلائی مرکز سے مشن پر روانہ ہوگا، جبکہ پاکستان نے 2035 تک چاند پر اترنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون پاکستان کو خلائی تحقیق کے میدان میں نئی بلندیوں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ خلائی سائنس میں بین الاقوامی تعاون کے ذریعے جدید سائنسی مہارت، تحقیق اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے مواقع میسر آتے ہیں، جن سے پاکستان کے نوجوان سائنس دان اور محققین بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

احسن اقبال نے اس امر پر زور دیا کہ خلائی تحقیق کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی، سائنسی اداروں کی مضبوطی، جدید تعلیمی سہولتوں اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ان شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ مستقبل میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں زیادہ مؤثر کردار ادا کیا جاسکے۔

زراعت، موسمیاتی نگرانی اور مواصلات میں خلائی ٹیکنالوجی کی اہمیت

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خلائی ٹیکنالوجی کے عملی فوائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی زراعت، مواصلات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہے۔

زراعت کے شعبے میں سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات فصلوں کی صورت حال کا جائزہ لینے، زمین کے استعمال کو سمجھنے، پانی کے وسائل کی نگرانی اور زرعی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح موسمیاتی نگرانی کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال قدرتی آفات، موسمی تبدیلیوں اور ماحولیاتی خطرات کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مواصلات کے شعبے میں سیٹلائٹ نظام دور دراز علاقوں تک رابطوں کی سہولت بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ سائنسی تحقیق کے ذریعے حاصل ہونے والا علم نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور ان کے مؤثر استعمال کی راہیں کھولتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ان امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے نوجوان نسل کو سائنسی تعلیم اور تحقیق کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق جدید علوم میں مہارت اور تحقیق کا فروغ ہی ملک کو ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

قرآن پاک کی تعلیمات اور سائنسی تحقیق پر زور

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں قرآن پاک کی ان تعلیمات کا بھی حوالہ دیا جن میں کائنات کی تخلیق پر غور و فکر اور مشاہدے کی ترغیب دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کائنات کے اسرار کو سمجھنے کی جستجو نوجوانوں میں سائنسی تجسس، تحقیق اور علم حاصل کرنے کے جذبے کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

احسن اقبال نے مسلم علماء کی تاریخی علمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مسلم اہلِ علم نے فلکیات اور مختلف سائنسی علوم میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کو بھی علم و تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور سائنسی ترقی کے لیے نئی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جدید علوم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی دلچسپی بڑھائیں اور سائنسی تعلیم کو مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھیں۔

یونیورسٹی آف نارووال کی اسلام آباد سائنس فیسٹیول میں پہلی پوزیشن

تقریب کے دوران احسن اقبال نے یونیورسٹی آف نارووال کو اسلام آباد سائنس فیسٹیول میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس کامیابی کو پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں اور سائنسی میدان میں آگے بڑھنے کی استعداد کا مظہر قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں بہتری کے باعث ایسے طلبہ کے لیے بھی آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں جنہیں ماضی میں مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں کو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنے اور جدید علوم کے حصول کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی آف نارووال کی کامیابی کو سائنسی سرگرمیوں میں طلبہ کی شرکت اور تعلیمی اداروں میں تحقیق کے فروغ کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔ سائنس فیسٹیول جیسے پروگرام طلبہ کو اپنے تحقیقی منصوبے پیش کرنے، نئے خیالات پر کام کرنے اور جدید سائنسی موضوعات سے واقفیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف نارووال میں پاکستان کا پہلا خلائی عجائب گھر قائم کرنے کا اعلان

احسن اقبال نے یونیورسٹی آف نارووال میں پاکستان کا پہلا خلائی عجائب گھر (اسپیس میوزیم) قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد نوجوان نسل میں خلائی سائنس کے حوالے سے دلچسپی پیدا کرنا، سائنسی شعور کو فروغ دینا اور طلبہ کو خلائی تحقیق و ٹیکنالوجی کی جانب راغب کرنا ہے۔

خلائی عجائب گھر طلبہ اور عام شہریوں کو کائنات، سیاروں، مصنوعی سیاروں اور خلائی تحقیق کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ایسے اداروں میں سائنسی نمائشوں، تعلیمی سرگرمیوں اور معلوماتی مواد کے ذریعے پیچیدہ سائنسی تصورات کو آسان انداز میں سمجھنے کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف نارووال میں مجوزہ خلائی عجائب گھر کے قیام سے متعلق تفصیلی ٹائم لائن، بجٹ اور عملی منصوبہ بندی کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم، اس اعلان کو نوجوانوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی بڑھانے کے اقدام کے طور پر پیش کیا گیا۔

نوجوانوں کو سائنسی تحقیق کی طرف راغب کرنے کی ضرورت

عالمی خلائی ہفتہ 2026 کی اختتامی تقریب میں خلائی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تعلیم اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ تقریب کے ذریعے طلبہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ سائنس اور تحقیق مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔

پاکستان کے پہلے خلاباز کے مجوزہ مشن، 2035 تک چاند پر اترنے کے ہدف اور یونیورسٹی آف نارووال میں خلائی عجائب گھر کے قیام کے اعلان نے خلائی سائنس کے شعبے میں مستقبل کی ترجیحات کو اجاگر کیا ہے۔

ان اہداف کی تکمیل کے لیے سائنسی اداروں کے درمیان تعاون، جدید تحقیق، تربیت یافتہ ماہرین کی دستیابی اور منصوبوں پر مسلسل پیش رفت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ خلائی تحقیق کے فوائد کو زراعت، مواصلات، موسمیاتی نگرانی اور دیگر شعبوں تک پہنچانے کے لیے بھی مؤثر منصوبہ بندی درکار ہوگی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں اس عزم پر زور دیا کہ پاکستان کو علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے نوجوان نسل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا، تاکہ ملک مستقبل کے سائنسی اور تکنیکی چیلنجز کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button