
ٹیسا والتھر کے ساتھ
متوقع طور پر 1,500 سے زائد مہمانوں میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی اور چیئرمین ڈیمس ہسابس، مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ اور یورپی یونین اور آئرلینڈ کے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔ یہ تقریب یورپی یونین کی کونسل کی آئرش صدارت کا ایک اہم حصہ تھی۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے حق میں دکھائی دینے والے جوش کے مقابلے میں تنقیدی آوازوں کی کمی پر الزام لگایا گیا کہ یہ تقریب ٹیکنالوجی کی غیرتنقیدی تشہیر کر رہی ہے۔
یونیورسٹی کالج کارک میں مصنوعی ذہانت کے پروفیسر بیری او سلیون نے بتایا کہ یہ اجلاس ”تقریباً ایسا تھا جیسے مصنوعی ذہانت کی حمایت میں کسی سیاسی جماعت کی تشہیری نشریات ہوں۔‘‘
یورپ کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت
اجلاس کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے یورپ کی سست رفتار معیشت کو کیسے متحرک کیا جائے، جدت کو کیسے فروغ دیا جائے اور امریکہ اور چین کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔
اعلیٰ کاروباری عہدیداروں سے بھرے مباحثوں میں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد واضح کیے گئے۔ کینسر کی ابتدائی علامات کا پتا لگانا، شدید موسمی واقعات کی پیشگی تنبیہ بہتر بنانا اور توانائی بچانے کے لیے بجلی کی تقسیم کو زیادہ مؤثر بنانا۔ تاہم ان وعدوں کو قابل اعتماد سروسز میں تبدیل کرنے کے لیے اب بھی جانچ اور نتائج کی توثیق درکار ہے۔
ان معاملات میں آئرلینڈ کی دلچسپی صرف یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کے لیے خیرخواہی پر مبنی نہیں۔ دنیا کی کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے یورپی امور آئرلینڈ سے چلاتی ہیں، اور یہ ملک کثیرالقومی کمپنیوں سے حاصل ہونے والے ٹیکس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ غیرملکی ملکیت والی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے 2025 میں 28 ارب 80 کروڑ یورو کارپوریٹ ٹیکس ادا کیا۔ ایپل سے حاصل ہونے والی غیرمعمولی ٹیکس آمدن کو الگ رکھا جائے تو یہ مجموعی کارپوریٹ ٹیکس کا 87 فیصد تھا۔ اس میں صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں، بلکہ ادویات سازی اور دیگر شعبے بھی شامل ہیں۔

اے آئی سمٹ کے موقع پر مظاہرین بھی جمع ہوئےتصویر
اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہوئے یورپی قواعد کی تشکیل میں کردار ادا کرنا ڈبلن کے واضح مفاد میں ہے۔ تاہم سرمایہ کاری کی مالی استعداد میں یورپ اب بھی امریکہ سے بہت پیچھے ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے اے آئی انڈیکس کے مطابق 2025 میں امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری 286 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 253 ارب یورو، تک پہنچی، جبکہ یورپ میں یہ 21 ارب ڈالر، یعنی 18 ارب 60 کروڑ یورو، تھی۔
لیکن کیا یورپ کو انہی شرائط پر مقابلہ کرنے کی ضرورت بھی ہے؟ او سلیون کے خیال میں اسے صنعتی روبوٹکس اور مخصوص ضروریات کے لیے تیار کردہ ایپلی کیشنز سمیت اپنی مضبوطیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے، ”یورپ میں ہمارے پاس مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک منفرد موقع ہے، اور ہمیں اسی کی حمایت کرنی چاہیے۔‘‘
غیرملکی اے آئی ماڈلز استعمال کرنے سے یورپی کاروبار تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اس سے وہ بیرون ملک موجود فراہم کنندگان پر انحصار بھی کرتے ہیں، جو قیمتیں تبدیل کر سکتے ہیں، رسائی محدود کر سکتے ہیں اور یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سی صلاحیتیں صارفین کو فراہم کی جائیں۔
یورپی قواعد دباؤ کی زد میں
اجلاس میں یورپی یونین کے نمائندوں نے فوری طور پر اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل کرنے اور اس کے خطرات کم کرنے کے لیے قواعد اب موجود ہیں۔
جمہوریت، انصاف، قانون کی حکمرانی اور صارفین کے تحفظ کے ذمہ دار آئرش یورپی کمشنر مائیکل مک گرا نے مصنوعی ذہانت کی صلاحیت اور اعتماد یقینی بنانے کے لیے درکار ”مناسب حفاظتی حدود‘‘ کے درمیان توازن کی بات کی۔
یورپ کا اے آئی ایکٹ بعض طریقوں پر پابندی عائد کرتا ہے اور حساس شعبوں میں اس کے استعمال کے لیے زیادہ سخت تقاضے مقرر کرتا ہے۔ جولائی 2026 سے نافذ اس کی ”اومنی بس‘‘ ترامیم کا مقصد قواعد کی تعمیل آسان بنانا ہے، تاہم ان کے باعث بعض حفاظتی اقدامات کا نفاذ بھی مؤخر ہوا ہے۔ روزگار اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں سے متعلق قواعد اب دسمبر 2027 سے لاگو ہوں گے، جبکہ ضابطہ بندی کے تابع مصنوعات میں شامل مصنوعی ذہانت سے متعلق قواعد اگست 2028 سے نافذ ہوں گے۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو نئے معیارات اور رہنما اصولوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے وقت درکار ہے۔ تاہم ناقدین سمجھتے ہیں کہ مسابقت کے دباؤ میں حفاظتی اقدامات مؤخر کیے جا رہے ہیں۔
او سلیون کے نزدیک ضابطہ بندی اور جدت ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ادویات سازی اور طبی آلات کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ تصور ہی بے بنیاد ہے کہ ضابطہ بندی اور جدت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔‘‘
تقریب کے باہر مظاہرے
تقریب کے باہر موجود مظاہرین کے لیے سیاست دانوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی یقین دہانیاں کھوکھلی ہیں۔ سوشلسٹ جماعت ”پیپل بیفور پرافٹ‘‘ سے تعلق رکھنے والے آئرش رکن پارلیمان پال مرفی نے کہا کہ اگرچہ یورپی قواعد امریکہ کی نسبت زیادہ سخت ہیں، پھر بھی تحفظ کا معیار بہت کم ہے۔ تازہ ترامیم کو وہ ضابطے نرم کرنے کی جانب ایک قدم سمجھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا، ”بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں رفتار اور سمت طے کر رہی ہیں اور باقی سب سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بس ان کے ساتھ چل پڑیں۔‘‘
اس کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ سول سوسائٹی، مزدور تنظیمیں اور سیاست دان اس بات پر گفتگو کریں کہ اس ٹیکنالوجی کو کس سمت میں ترقی دینی چاہیے اور پانی و بجلی جیسے محدود وسائل کو کیسے استعمال کیا جانا چاہیے۔



