پاکستانتازہ ترین

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے، صدر، وزیراعظم اور عسکری قیادت کا اظہارِ افسوس

جنرل عبدالوحید کاکڑ 89 برس کی عمر میں راولپنڈی میں وفات پا گئے، پاک فوج کی نمایاں خدمات پر خراجِ عقیدت، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ 89 برس کی عمر میں راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے سابق آرمی چیف کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے ان کی عسکری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، مرحوم جنرل عبدالوحید کاکڑ کی نمازِ جنازہ آج شام 4 بج کر 30 منٹ پر آرمی ریس کورس، راولپنڈی میں واقع آرمی قبرستان میں ادا کی جائے گی۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ پاکستان کی عسکری تاریخ کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ایسے دور میں پاک فوج کی قیادت کی جب ملک کو سیاسی اور آئینی بحرانوں کا سامنا تھا۔ ان کی شخصیت کو بالخصوص 1993ء کے سیاسی بحران کے حل اور اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے استعفوں سے جڑے واقعات کے تناظر میں یاد کیا جاتا ہے۔

آئی ایس پی آر کا اظہارِ افسوس، مرحوم کی عسکری خدمات کو خراجِ تحسین

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ، نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ہلالِ جرأت کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں مرحوم کی نمایاں عسکری خدمات، قائدانہ صلاحیتوں اور پاک فوج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

بیان کے مطابق، پاک فوج اس مشکل گھڑی میں مرحوم کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ نے اپنے طویل عسکری کیریئر کے دوران مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں اور بالآخر ملک کے اعلیٰ ترین فوجی عہدے، چیف آف آرمی اسٹاف، تک پہنچے۔ ان کی قیادت کا دور پاکستان کی سیاسی اور دفاعی تاریخ کے اہم واقعات سے عبارت رہا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کا اظہارِ افسوس

صدر مملکت آصف علی زرداری نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق، صدر مملکت نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔

صدر آصف علی زرداری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا کرے۔

صدر مملکت کی جانب سے تعزیت کا اظہار ملک کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے سابق آرمی چیف کی وفات پر افسوس اور ان کی خدمات کے اعتراف کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خراجِ عقیدت، اہلِ خانہ سے تعزیت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ (ریٹائرڈ) کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے مرحوم کی پاک فوج کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ کا انتقال ایسے موقع پر ہوا ہے جب ملک کی عسکری اور سیاسی تاریخ کے مختلف ادوار میں ان کے کردار، بالخصوص 1990ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں سیاسی بحران کے حل کے حوالے سے ان کی اہمیت کو یاد کیا جا رہا ہے۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ کون تھے؟

جنرل عبدالوحید کاکڑ نے 1959ء میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ طویل عسکری خدمات کے بعد وہ 12 جنوری 1993ء کو پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف مقرر ہوئے اور 11 جنوری 1996ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔

ان کی مدتِ ملازمت پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک غیر معمولی دور پر محیط تھی۔ اس وقت ملک میں سیاسی کشیدگی، صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات اور آئینی اختیارات کے استعمال سے متعلق تنازعات شدت اختیار کر چکے تھے۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ کو اس دور میں فوج کی قیادت کرتے ہوئے ایک ایسے سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑا جس نے ملک کے جمہوری اور آئینی نظام کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔

ان کی شخصیت کو اسی تناظر میں ملکی سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل ہے، جبکہ ان کا عسکری کیریئر بھی پاک فوج کی اعلیٰ قیادت میں ان کے طویل سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

’کاکڑ فارمولا‘ کیا تھا؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم موڑ

جنرل عبدالوحید کاکڑ کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بالخصوص ’کاکڑ فارمولا‘ کے حوالے سے لیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح 1993ء کے اس سیاسی بحران کے حل کے لیے ہونے والی کوششوں سے منسلک ہے جس کے نتیجے میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف دونوں اپنے عہدوں سے الگ ہوگئے تھے۔

اس دور میں صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات اور آئینی معاملات پر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر مشاورت اور مذاکرات کیے گئے۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ کی قیادت میں ہونے والی کوششوں کو اس بحران کے خاتمے کے اہم عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ بالآخر صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف نے جولائی 1993ء میں اپنے عہدے چھوڑ دیے، جس کے بعد ملک میں نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔

اس پیش رفت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ایک سنگین سیاسی تعطل سے نکلنے اور نئے انتخابی عمل کی طرف بڑھنے کی راہ بنی۔

تاہم، اس دور کے واقعات کو سمجھنے کے لیے سیاسی قیادت، آئینی تقاضوں اور ریاستی اداروں کے کردار سمیت تمام متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مدتِ ملازمت میں توسیع نہ لینے کا فیصلہ

جنرل عبدالوحید کاکڑ کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے آرمی چیف کی حیثیت سے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع لینے کے بجائے مقررہ مدت پوری ہونے پر عہدہ چھوڑ دیا۔

وہ 12 جنوری 1993ء کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر ہوئے تھے اور 11 جنوری 1996ء کو ان کی مدتِ ملازمت مکمل ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے عہدہ اپنے جانشین کے حوالے کردیا۔

پاکستان میں اعلیٰ عسکری عہدوں پر تقرریوں اور مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملات سیاسی اور ادارہ جاتی مباحث کا حصہ رہے ہیں۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے دورِ قیادت کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک اہم نام

جنرل عبدالوحید کاکڑ کا عسکری کیریئر ایسے دور سے تعلق رکھتا ہے جس میں پاکستان کو داخلی سیاسی چیلنجز، علاقائی سلامتی کے معاملات اور دفاعی ذمہ داریوں کا سامنا تھا۔ انہوں نے 1990ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پاک فوج کی قیادت کی اور ملکی سیاسی تاریخ کے ایک اہم مرحلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کے انتقال پر صدر مملکت، وزیراعظم اور عسکری قیادت کی جانب سے تعزیتی پیغامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ان کی خدمات کو ملک کے اعلیٰ ترین ریاستی اور عسکری حلقوں میں یاد کیا جا رہا ہے۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ کی زندگی اور ان کے دورِ قیادت کا جائزہ پاکستان کی عسکری تاریخ کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی اور آئینی ارتقا کو سمجھنے کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر ملک کی اعلیٰ قیادت نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر و حوصلہ دے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button