تازہ ترینیورپ

کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں عوام کے فیصلے کا سامنا

ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکنز نے ڈیموکریٹک امیدواروں کو بنیاد پرست، غیر امریکی حتیٰ کہ کمیونسٹ بنا کر پیش کیا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

رائٹرز

امریکی رائے دہندگان منگل کے روز وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے دو سالوں کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا رہے ہیں اور رائے عامہ کے جائزے اور غیر جانبدار تجزیہ کار ڈیموکریٹس کو ایوان کو ریپبلکنز سے چھین لینے کے لیے مضبوط قرار دے رہے ہیں تاہم سینیٹ کا کنٹرول غیر یقینی ہے۔

سینیٹ کے لیے جنگ تقریباً 10 ریاست گیر سخت مقابلوں میں سامنے آ رہی ہے جو زیادہ تر ریپبلکنز کے مضبوط مقامات میں ہیں۔

تاریخ ٹرمپ کے ریپبلکنز کے خلاف ہے: جنگِ عظیم دوئم کے بعد سے موجودہ صدر کی پارٹی کو دو دفعہ کے علاوہ باقی تمام انتخابات میں کانگریس میں شکست ہوئی ہے۔ ٹرمپ کی مقبولیت ہمہ وقتی زیریں سطح کے قریب منڈلا رہی ہے جو ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی مہنگائی پر رائے دہندگان کی گہری مایوسی کی وجہ سے ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سال کے انتخاب میں سب سے زیادہ اہمیت ٹرمپ کی ہے جو گذشتہ عشرے کے بیشتر عرصے سے مرکزی امریکی سیاسی شخصیت ہیں۔ ٹرمپ نے خود اپنے حامیوں کو بارہا کہا ہے کہ "یہ ظاہر کریں کہ میں بیلٹ پر ہوں” اور اس پیغام کو ڈیموکریٹک رہنماؤں نے خوشی سے تائید کی ہے۔

صدر نے اکتوبر کے آغاز سے اب تک دو درجن سے زیادہ انتخابی ریلیوں کے ساتھ اپنی بنیاد کو زیادہ تر ان ریاستوں میں تقویت بخشنے کی کوشش کی ہے جہاں انہوں نے 2024 میں بآسانی کامیابی حاصل کی تھی۔

ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکنز نے ڈیموکریٹک امیدواروں کو بنیاد پرست، غیر امریکی حتیٰ کہ کمیونسٹ بنا کر پیش کیا ہے۔

ٹرمپ نے پیر کے روز واشنگٹن میں ایک تقریر کے دوران کہا، "ڈیموکریٹ پارٹی نے امریکی تاریخ میں انتہائی شدت کے حامل اور خطرناک امیدواروں کو نامزد کیا ہے۔”

لیکن رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کی زبردست ٹیرف پالیسی اور فروری میں ایران پر حملہ کرنے کے فیصلے سے گھریلو اخراجات میں جو اضافہ ہوا، اس کے بعد ووٹرز کو سب سے زیادہ فکر مالی استطاعت کے بارے میں ہے اور ٹرمپ کے اس مسئلے سے نمٹنے پر وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس دوران ریپبلکن امیدواروں نے خود کو ایسے صدر سے دور کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے جو انتہائی وفاداری کا مطالبہ اور غلطیوں کا شاذ و نادر ہی اعتراف کرتا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نیز سینیٹ کی سو میں سے 35 نشستوں کے لیے انتخاب ہو رہا ہے اگرچہ زیادہ تر مقابلوں کو مسابقتی نہیں سمجھا جا رہا۔ ڈیموکریٹس کو ہر ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ایوان میں کم از کم تین اور سینیٹ کی چار نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔

جیسا کہ ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کو ان کے اپنے ہی میدان میں دفاعی انداز میں رکھا ہوا ہے تو ان کے پاس غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔ پارٹی کو اپنی تمام موجودہ نشستوں بشمول مشی گن میں سخت مقابلے کا دفاع کرنا ہے جبکہ کم از کم دو ریاستوں کی نشستیں جیتنی ہیں جہاں دو سال قبل ٹرمپ کو بڑے فرق سے ووٹ ملا تھا: الاسکا، آئیووا، کنساس، نیبراسکا، اوہائیو، جنوبی کیرولائنا اور ٹیکساس۔

رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ریاستوں میں ڈیموکریٹس یا تو مختصر طور پر آگے یا بس ہاتھ بھر کے فاصلے پر ہیں۔

مشی گن کی دوڑ

مشی گن کے انتخاب میں 42 سالہ ترقی پسند ڈیموکریٹ عبد السید اور ریپبلکن سابق امریکی نمائندہ 63 سالہ مائیک راجرز کے درمیان اتوار کو ایک غیر متوقع صورتِ حال پیدا ہو گئی جب ڈیموکریٹ ہیلی سٹیونس نے حیران کن ردِ عمل میں راجرز کی حمایت کی۔ وہ پارٹی کے پرائمری انتخابات میں السید سے مختصر فرق سے ہار گئی تھیں۔

سینیٹ کے کنٹرول کے لیے نتائج کے علاوہ مشی گن ریس اس بات کی ایک اعلیٰ سطحی آزمائش کی نمائندہ ہے کہ آیا ریپبلکنز کے شناخت کی بنا پر حملے میدانِ جنگ میں موثر ثابت ہوتے ہیں یا نہیں کیونکہ جیتنے کی صورت مین السید ملک کے پہلے مسلم سینیٹر ہوں گے۔

اسرائیل پر تنقید اور یونیورسل ہیلتھ کیئر جیسی لبرل پالیسیوں کی حمایت کرنے والے السید کی جیت کو 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل پارٹی کے بائیں بازو کے لیے ایک تقویت کے طور پر دیکھا جائے گا۔

ٹرمپ کے محکمہ انصاف کی مداخلت

ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریپبلکنز ہار گئے تو ٹرمپ منگل کے نتائج کو چیلنج کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔

ٹرمپ کی وزارتِ انصاف نے اُن ووٹوں کو روکنے کے مقصد سے کیلیفورنیا میں ایک مقدمہ دائر کیا ہے جو اس کے نزدیک غیر قانونی ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام عشروں سے رائج اس روایت کے برخلاف ہے جس کا مقصد انتخابات کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس مقدمے میں انتظامیہ کی جانب سے ہنگامی حکم جاری کرنے کی درخواست کو امریکی سپریم کورٹ نے پیر کے روز مسترد کر دیا۔

منگل کے روز تین درجن ریاستوں میں گورنر کے عہدوں کے لیے انتخابات نیز ریاستی سطح پر قانون ساز اداروں کے لیے ہزاروں مقابلے اور مختلف امور پر رائے شماری بھی ہو گی جن میں ارب پتی افراد پر ٹیکس لگانے سے لے کر اسقاطِ حمل کے حقوق تک کے تمام معاملات شامل ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button