
چین اور آسیان تعلقات کے 35 سال مکمل، کوالالمپور میں تیسرے آسیان ڈویلپمنٹ فورم کا انعقاد، علاقائی اتحاد، آزاد تجارت اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ پر اتفاق
چین آسیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی پانچویں سالگرہ پر ملائیشیا میں اعلیٰ سطحی مکالمہ؛ سابق وزرائے اعظم، سیاسی رہنماؤں، سفارتی شخصیات، کاروباری اداروں اور ماہرین کی شرکت، آسیان کی مرکزیت برقرار رکھنے، بڑی طاقتوں کی کشمکش سے دور رہنے، آزاد تجارتی معاہدے 3.0، ڈیجیٹل تجارت اور علاقائی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر زور
یہ اہم تقریب ایک ایسے موقع پر منعقد ہوئی جب سال 2026 چین اور آسیان کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کی پانچویں سالگرہ اور دونوں فریقوں کے مذاکراتی تعلقات کے آغاز کی 35ویں سالگرہ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
فورم کا انعقاد ایشیاء پیسیفک ڈیلی، ایشیاء پیسیفک تھنک ٹینک اور ایشیاء پیسیفک اکنامک اینڈ ٹریڈ ڈویلپمنٹ الائنس نے مشترکہ طور پر کیا۔
تقریب میں چین اور آسیان کے درمیان اقتصادی روابط مضبوط بنانے، علاقائی تعاون کو فروغ دینے، تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، ڈیجیٹل معیشت کی ترقی اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں آسیان کی آزادانہ اور مرکزی حیثیت برقرار رکھنے جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مذاکرات، باہمی اعتماد اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔
چین آسیان تعلقات کی 35ویں سالگرہ، علاقائی تعاون کا اہم سنگ میل
چین اور آسیان کے درمیان مذاکراتی تعلقات کا آغاز 1991 میں ہوا تھا، جبکہ 2021 میں دونوں فریقوں نے اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بلند کیا۔
سال 2026 ان دونوں اہم سفارتی سنگ میلوں کی سالگرہ کا موقع ہے۔

گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں کے دوران چین اور آسیان کے تعلقات تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، سیاحت، تعلیم، ثقافتی روابط اور علاقائی سفارت کاری سمیت متعدد شعبوں میں وسعت اختیار کر چکے ہیں۔
چین اور آسیان کے درمیان معاشی تعلقات ایشیاء پیسیفک خطے کی تجارتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس تناظر میں کوالالمپور میں منعقدہ تیسرا آسیان ڈویلپمنٹ فورم دونوں فریقوں کے درمیان مستقبل کے تعاون کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا۔
ایشیاء پیسیفک ڈیلی کی ایڈیٹر ان چیف لیو لی لی کی میزبانی
تقریب کی میزبانی ایشیاء پیسیفک ڈیلی کی ایڈیٹر ان چیف لیو لی لی نے کی۔
اپنے افتتاحی کلمات میں انہوں نے فورم میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں، سیاسی شخصیات، سفارتی نمائندوں، کاروباری رہنماؤں اور ماہرین کا خیرمقدم کیا اور منتظمین کی جانب سے ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
لیو لی لی نے میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میڈیا صرف تاریخ کے اہم واقعات کو محفوظ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مستقبل کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں میڈیا کی ذمہ داری محض معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے مختلف ممالک، معاشروں اور اداروں کے درمیان تعمیری مکالمے کے فروغ میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایشیاء پیسیفک ڈیلی چین اور آسیان کے درمیان رابطے اور مکالمے کے ایک مؤثر پل کے طور پر کام کرتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ادارہ مشترکہ مفادات کے حوالے سے اتفاقِ رائے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے اور علاقائی تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
نیپال کے سابق وزیراعظم جھالناتھ کھنال کا خصوصی تہنیتی پیغام
فورم کے انعقاد پر نیپال کے سابق وزیراعظم جھالناتھ کھنال نے خصوصی تہنیتی خط ارسال کیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے تیسرے آسیان ڈویلپمنٹ فورم کے انعقاد کے لیے منتظمین کی کوششوں کو سراہا اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ایسے مکالماتی پلیٹ فارمز کی اہمیت اجاگر کی۔
جھالناتھ کھنال نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا کو مختلف معاشی، سیاسی اور ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت اور تجارتی تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی اعتماد، تجارت اور مشترکہ ترقی کے مواقع کو فروغ دے کر اجتماعی چیلنجز کو خوشحالی کے امکانات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ان کے پیغام میں علاقائی تعاون کو معاشی ترقی اور باہمی مفادات کے تحفظ کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔
آسیان کسی بڑی طاقت کا آلہ نہیں بننا چاہیے، پوکن پولاکول
تھائی لینڈ کی قومی اسمبلی کے سابق صدر اور سابق نائب وزیراعظم پوکن پولاکول نے فورم سے ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا۔
انہوں نے آسیان کی آزادانہ حیثیت اور علاقائی تعاون میں اس کے کردار کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ آسیان کو کسی بھی بڑی طاقت کا آلہ نہیں بننا چاہیے۔
پوکن پولاکول کے مطابق آسیان کی اصل طاقت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ مختلف سیاسی نظاموں، معاشی حالات اور ترقی کے مختلف مراحل سے گزرنے والے ممالک کو ایک مشترکہ مکالماتی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسیان کی کامیابی کا بنیادی عنصر باہمی احترام، مذاکرات اور اختلافات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کی روایت ہے۔
ان کے مطابق عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے ماحول میں آسیان کو اپنی خودمختار شناخت اور علاقائی ترجیحات کا تحفظ کرنا چاہیے۔
آسیان کی مرکزیت برقرار رکھنا علاقائی استحکام کے لیے ضروری، ٹان کوک وائی
ملائیشیا کے چین کے لیے سابق خصوصی ایلچی ٹان کوک وائی نے اپنے خطاب میں آسیان کی مرکزیت اور علاقائی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آسیان کی اصل قدر اس بات میں مضمر ہے کہ خطے کے ممالک اپنے مشترکہ مستقبل کی تشکیل میں براہ راست اور فعال کردار ادا کر سکیں۔
ان کے مطابق آسیان کی مرکزیت کو برقرار رکھنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان مضبوط روابط، مشترکہ حکمت عملی اور مسلسل مشاورت ضروری ہے۔
انہوں نے بیرونی شراکت داروں پر بھی زور دیا کہ وہ آسیان کی قیادت میں جاری تعاون اور علاقائی فیصلوں کے طریقہ کار کا احترام کریں۔
ٹان کوک وائی نے کہا کہ ملائیشیا اور چین کے درمیان تعلقات کی مزید مضبوطی نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ اس سے آسیان کے اتحاد اور مجموعی علاقائی تعاون کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی تعاون کے حقیقی فوائد عام شہریوں، کاروباری اداروں اور مقامی معیشتوں تک پہنچنا ضروری ہیں۔
کمبوڈیا کا چین آسیان تجارتی تعاون مزید مضبوط بنانے کا عزم
کمبوڈیا کی نیشنل فیڈریشن فار ٹریڈ، انویسٹمنٹ اینڈ اکنامک پروموشن کے صدر ہینگ ووتھی نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے چین اور آسیان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو علاقائی تعاون کے بنیادی ستون قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا چین اور آسیان کے درمیان تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔

ان کے مطابق علاقائی تجارت میں اضافے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے سے خطے کی معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ہینگ ووتھی نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی تعاون کو محض حکومتی معاہدوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ نجی شعبے، سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو بھی اس کے عملی فوائد حاصل ہونے چاہییں۔
انہوں نے علاقائی معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے تسلسل کو اہم قرار دیا۔
آسیان کو عالمی طاقتوں کی کشمکش میں فریق بننے پر مجبور نہ کیا جائے، تھونگلون اوسوتھیلام
تھائی لینڈ بیلٹ اینڈ روڈ اکنامک اینڈ ایجوکیشن ڈویلپمنٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈین تھونگلون اوسوتھیلام نے اپنے خطاب میں بدلتے ہوئے عالمی حالات اور علاقائی معاشی استحکام پر گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ آسیان کو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق آسیان کی کامیابی اس کی آزادانہ پالیسیوں، علاقائی اصولوں اور تمام شراکت داروں کے ساتھ کھلے تعاون میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسیان ممالک کو اپنی معاشی لچک مضبوط بنانے اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔
ان کے مطابق علاقائی معیشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تجارت، تعلیم، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانا ضروری ہے۔
ہانگ کانگ، گوانگ ڈونگ، ہینان اور تھائی لینڈ میں ڈیجیٹل تجارتی پارکس کے قیام کا منصوبہ
چائنہ ژونگچی انٹرنیشنل کے چیئرمین تیان ہینگ یو نے فورم میں مستقبل کی سرمایہ کاری اور تجارتی منصوبوں کے حوالے سے اہم اعلانات کیے۔
انہوں نے بتایا کہ آنے والے برسوں میں کمپنی ہانگ کانگ، گوانگ ڈونگ، ہینان اور تھائی لینڈ میں بین الاقوامی ڈیجیٹل تجارت اور لاجسٹکس پارکس کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ان کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں، لاجسٹکس خدمات اور ڈیجیٹل کاروباری نظام کو زیادہ مربوط بنانا ہے۔

تیان ہینگ یو نے کہا کہ بین الاقوامی تجارت میں موجود رکاوٹوں کو کم کرنے اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی ضروری ہے۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مجوزہ منصوبوں سے چین اور آسیان کے درمیان تجارتی روابط کو نئی وسعت ملے گی اور مشترکہ خوشحالی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
تاہم سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت، منصوبوں کی تکمیل کی مدت اور تعمیراتی مراحل کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
چین آسیان فری ٹریڈ ایریا 3.0 کی اہمیت پر زور
ایشیاء پیسیفک ڈیلی کے چیئرمین جن وین شینگ نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے چین اور آسیان کے درمیان آزاد تجارت کے فروغ کو علاقائی معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کوالالمپور میں اس اعلیٰ سطحی مکالمے کے انعقاد کا مقصد معلومات کی رکاوٹوں کو ختم کرنا، دستیاب وسائل کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا اور چین آسیان فری ٹریڈ ایریا 3.0 کے نفاذ اور ترقی کو آگے بڑھانا ہے۔
چین آسیان فری ٹریڈ ایریا 3.0 دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو جدید عالمی تجارتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس فریم ورک میں ڈیجیٹل معیشت، جدید تجارت، کاروباری سہولتوں، سپلائی چین اور دیگر ابھرتے ہوئے معاشی شعبوں میں تعاون کی اہمیت نمایاں ہے۔
جن وین شینگ نے کہا کہ علاقائی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف ادارے اور ممالک اپنے وسائل اور تجربات سے مشترکہ فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے مکالمے کو عملی اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ڈیجیٹل تجارت اور لاجسٹکس کے شعبے میں نئے مواقع
فورم میں ڈیجیٹل تجارت اور لاجسٹکس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔
عالمی تجارت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ای کامرس، جدید گوداموں، کسٹمز سہولتوں اور ترسیلی نظام کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین اور آسیان کے درمیان ڈیجیٹل تجارتی روابط میں اضافہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔
اسی طرح جدید لاجسٹکس نظام کی ترقی سے سامان کی نقل و حمل میں تاخیر کم کرنے اور کاروباری اخراجات بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
چین اور آسیان کے درمیان صنعتی و تجارتی تعاون میں یہ شعبے مستقبل کی معاشی سرگرمیوں کے اہم محرک ثابت ہو سکتے ہیں۔
گول میز مباحثے میں چین آسیان تعلقات کے مستقبل پر گفتگو
تقریب کے دوران ایک خصوصی گول میز مباحثے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں گوہ ہن سان، ہاؤ جن لنگ، تھونگلون اوسوتھیلام اور کوہ کینگ چی نے شرکت کی۔
مباحثے میں چین اور آسیان کے موجودہ تعلقات، علاقائی معاشی صورتحال اور مستقبل کے تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکا نے اس امر پر توجہ دی کہ عالمی معاشی تبدیلیوں اور بین الاقوامی مسابقت کے ماحول میں علاقائی تعاون کو کس طرح مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
گول میز مباحثے میں مکالمے، باہمی اعتماد اور اقتصادی روابط کی اہمیت نمایاں رہی۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ علاقائی ترقی کے لیے مختلف ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون ضروری ہے۔
عالمی طاقتوں کی مسابقت میں آسیان کی آزادانہ حیثیت کا سوال
فورم کے مختلف مقررین کے خطابات میں ایک اہم موضوع آسیان کی آزادانہ اور مرکزی حیثیت کا تحفظ تھا۔
عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی اور تزویراتی مسابقت کے باعث جنوب مشرقی ایشیا کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
آسیان ممالک مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تجارتی، سفارتی اور سکیورٹی تعلقات رکھتے ہیں۔
ایسے حالات میں تنظیم کی مرکزیت برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ علاقائی تعاون کے اہم معاملات میں آسیان ممالک کی اجتماعی ترجیحات اور فیصلہ سازی کو بنیادی حیثیت حاصل رہے۔
فورم کے مقررین نے اسی تناظر میں اس مؤقف کی حمایت کی کہ آسیان کو کسی ایک بڑی طاقت کے مفادات کا تابع بننے کے بجائے اپنے علاقائی اصولوں اور مشترکہ مفادات کے مطابق تعاون جاری رکھنا چاہیے۔
ملائیشیا اور چین کے تعلقات علاقائی تعاون کے لیے اہم
فورم میں ملائیشیا اور چین کے درمیان تعلقات کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
ملائیشیا آسیان کا ایک اہم رکن ہے، جبکہ چین خطے کا بڑا تجارتی اور اقتصادی شراکت دار ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی تعاون کے روابط علاقائی اقتصادی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مقررین کے مطابق ملائیشیا اور چین کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ آسیان کے وسیع تر اقتصادی روابط کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔
تاہم علاقائی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تعاون کے فوائد مختلف رکن ممالک اور ان کی آبادیوں تک متوازن انداز میں پہنچیں۔
خصوصی عشائیے میں دوستی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کا عزم
تیسرے آسیان ڈویلپمنٹ فورم کے بعد خصوصی عشائیے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے شرکت کی۔
عشائیے کے دوران شرکا نے چین اور آسیان کے درمیان دوستانہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی ترقی کے امکانات پر غیر رسمی تبادلہ خیال کیا۔
مہمانوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں چین اور آسیان کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں فریق مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔
تقریب کے منتظمین نے اس نوعیت کے مکالماتی پلیٹ فارمز کو علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
چین اور آسیان کے تعلقات کا مستقبل، تعاون کو عملی نتائج میں بدلنے کی ضرورت
کوالالمپور میں منعقدہ تیسرے آسیان ڈویلپمنٹ فورم نے چین اور آسیان کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا۔
فورم میں سیاسی و سفارتی شخصیات نے علاقائی خودمختاری، آسیان کی مرکزیت اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ کاروباری رہنماؤں نے ڈیجیٹل تجارت، لاجسٹکس، سرمایہ کاری اور آزاد تجارتی تعاون کو مستقبل کی ترقی کے اہم شعبے قرار دیا۔
چین آسیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی پانچویں اور مذاکراتی تعلقات کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر اس فورم کا انعقاد دونوں فریقوں کے درمیان روابط کو مزید وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مقررین کے خطابات کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ ایشیاء پیسیفک خطے میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے آسیان کی مرکزیت کا احترام، بڑی طاقتوں کی کشمکش سے آزاد فیصلہ سازی، تجارت میں سہولت اور باہمی تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
فورم کے اختتام پر شرکا نے چین اور آسیان کی دوستی، علاقائی تعاون اور مشترکہ ترقی کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔



