اہم خبریںکاروبار

مقامی پیداوار اور سستی گاڑیاں: پاکستان کی نئی آٹو پالیسی کی ترجیحات کیا ہیں؟

انہوں نے تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور ملکی معیشت کی حساسیت کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کےفروغ کو بھی حکومت کی ایک اہم ترجیح قرار دیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان میں آٹو انڈسٹری کے فروغ، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور الیکٹرک وہیکلز کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے نئی آٹو پالیسی متعارف کرادی گئی ۔ حکومت کا مقصد کارسازی کے شعبے میں اجارہ داری کا خاتمہ، مقابلے کا رجحان بڑھانا اور متوسط طبقے کو سستی اور معیاری سواری فراہم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تمام مراعات کے باوجود مقامی آٹو انڈسٹری صارفین کو بہتر گاڑیاں فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ متوسط طبقے کے لیے گاڑیوں کی صنعت میں سہولت پیدا کی جائے۔ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کا ایک انقلابی قدم ہے، جس کا مقصد ہر شہری کو سستی اور معیاری سواری کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضاء میں کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی اور ماحول کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ درآمدی پٹرولیم بل میں بھی نمایاں کمی ممکن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں ایک ہزار سی سی تک پٹرول پر چلنے والی گاڑیوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ دنیا بھر کی کار ساز کمپنیوں کے لیے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کا بہترین موقع ہے۔ حکومت کی ترجیح مہنگے درآمدی پٹرولیم بل میں کمی اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر صنعت و پیداوار ہارون اختر نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ہارون اختر نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، نئی آٹو پالیسی کی تیاری میں طویل مشاورت اور محنت کی گئی ہے۔ پالیسی میں برآمدات کے فروغ، صارفین کو معیاری گاڑیوں کی فراہمی اور مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ہارون اختر کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے نفاذ سے گاڑیوں کی قیمتوں اور تیاری کے اخراجات میں کمی آئے گی، ٹیکسوں میں کمی کا فائدہ براہِ راست صارفین کو پہنچے گا، جبکہ کار ساز کمپنیوں کے درمیان مقابلے کا رجحان بھی بڑھے گا۔ پالیسی کا ایک اہم مقصد آٹو انڈسٹری میں اجارہ داری کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت گاڑیاں برآمد کرنے والوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چارجنگ اسٹیشنز کے آلات پر سیلز ٹیکس ایک فیصد کردیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر متوسط طبقے کو خصوصی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں الیکٹرک بائیکس کی خریداری میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ نئی آٹو پالیسی کی وفاقی کابینہ سے منظوری حاصل کی جائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button