انٹرٹینمینٹپاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان سمیت دنیا بھر کی ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد، مذہبی رواداری، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کا اعادہ

دیوالی نفرت، عدم برداشت اور مایوسی کی تاریکی پر روشنی، امید اور پرامن بقائے باہمی کی فتح کی علامت ہے، پاکستان کی ہندو برادری قومی تانے بانے کا قابلِ احترام اور لازمی حصہ ہے، تمام شہریوں کے مذہبی و شہری حقوق کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے: وزیراعظم شہباز شریف

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد (وائس آف جرمنی اردو نیوز): وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے دیوالی کے پرمسرت موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم ہندو برادری کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیوالی محض روشنیوں کا تہوار نہیں بلکہ انسانیت، محبت، امید، برداشت اور پرامن بقائے باہمی کی ان اقدار کی علامت ہے جو ایک مہذب، ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دیوالی کا تہوار نفرت، عدم برداشت اور مایوسی کی تاریکی پر روشنی، امید اور امن کی فتح کا پیغام دیتا ہے۔ یہ موقع انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے، اختلافات کے باوجود باہمی احترام کو فروغ دینے اور معاشرے میں محبت و بھائی چارے کی روایات کو مضبوط بنانے کی یاد دہانی کراتا ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری ہونے والے خصوصی تہنیتی پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے ہندو برادری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے شہری قومی زندگی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور ملک کی ترقی و خوشحالی میں برابر کے شریک ہیں۔

دیوالی روشنی، امید اور پرامن بقائے باہمی کی علامت ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں دیوالی کی مذہبی، سماجی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس تہوار کی روشنیاں انسانی تعلقات اور معاشرتی زندگی میں امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیوالی کی بنیادی روح ایک ایسے روشن، خوشحال اور پرامید مستقبل پر یقین رکھنا ہے جہاں انسان ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور معاشرتی اختلافات کو نفرت کے بجائے برداشت، مکالمے اور باہمی تعاون کے ذریعے حل کیا جائے۔

وزیراعظم کے پیغام کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ معاشرے کی حقیقی ترقی صرف معاشی وسائل اور مادی کامیابیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے انسانی وقار، سماجی انصاف، مذہبی رواداری اور باہمی احترام جیسی اقدار کا فروغ بھی ناگزیر ہے۔

پاکستانی ہندو برادری قومی تانے بانے کا اہم اور قابلِ احترام حصہ ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی ہندو برادری کے قومی کردار اور خدمات کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ ہندو شہری پاکستان کے قومی تانے بانے کا ایک محترم، لازمی اور قابلِ قدر حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سماجی، ثقافتی اور اقتصادی ترقی میں ہندو برادری کی خدمات قابلِ ستائش ہیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

پاکستان میں ہندو برادری بالخصوص سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں آباد ہے اور تجارت، تعلیم، طب، صنعت، زراعت، سماجی خدمات اور دیگر شعبوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

ہندو برادری کے مذہبی تہوار، ثقافتی روایات اور سماجی سرگرمیاں پاکستان کے ثقافتی تنوع کا حصہ ہیں۔ دیوالی جیسے تہوار نہ صرف متعلقہ مذہبی برادری کے لیے اہمیت رکھتے ہیں بلکہ ملک میں مختلف ثقافتوں کے درمیان رابطے، احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

آئین پاکستان اقلیتوں کے مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے

وزیراعظم نے اپنے تہنیتی پیغام میں اقلیتوں کے آئینی حقوق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کے مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مذہب، رنگ، نسل یا کسی بھی دوسرے امتیاز سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانی شہریوں کی عزت، وقار اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان کے آئین میں شہریوں کی مساوات، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق اہم ضمانتیں موجود ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 20 شہریوں کو قانون، امنِ عامہ اور اخلاقیات کے تابع اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور مذہبی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 تمام شہریوں کی قانون کے سامنے برابری کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح آرٹیکل 36 ریاست کو اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کی ہدایت کرتا ہے۔

وزیراعظم کے پیغام میں ان آئینی اصولوں کی اہمیت نمایاں رہی اور انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ہر شہری کو اس کے مذہبی عقائد سے قطع نظر عزت اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع میسر ہونے چاہییں۔

بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کا فروغ مشترکہ ذمہ داری ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینا معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مختلف مذہبی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے شہریوں کے درمیان مثبت تعلقات، مکالمے اور تعاون کے ذریعے ایک مضبوط اور متحد معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جہاں مختلف مذہبی برادریاں طویل عرصے سے ایک مشترکہ سماجی اور ثقافتی ماحول کا حصہ ہیں۔

مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں ایک دوسرے کے عقائد، روایات اور مذہبی تہواروں کا احترام کیا جائے اور اختلافات کو معاشرتی تقسیم یا نفرت کا ذریعہ بننے سے روکا جائے۔

وزیراعظم کا پیغام اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ قومی اتحاد کی بنیاد تمام شہریوں کی مساوی عزت، مذہبی آزادی اور ایک دوسرے کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے کے عزم پر استوار ہونی چاہیے۔

پرامن، جامع اور خوشحال پاکستان کی تعمیر ہمارا اجتماعی عزم ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اور قوم کا اجتماعی عزم ایک ایسے پاکستان کی تعمیر ہے جو پرامن، جامع، ترقی یافتہ اور خوشحال ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایک مثالی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں مختلف ثقافتوں، مذاہب اور روایات کا احترام کیا جاتا ہو اور ہر شہری کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔

وزیراعظم نے خصوصی طور پر تعلیم اور معیشت کے شعبوں میں مساوی مواقع کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اسی وقت پائیدار بنیادوں پر استوار ہو سکتی ہے جب تمام شہری قومی ترقی کے عمل میں مؤثر انداز میں شریک ہوں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہوں۔

اس تناظر میں اقلیتی برادریوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی شمولیت ایک اہم قومی ضرورت ہے۔ مساوی مواقع کی فراہمی نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں معاون ہوتی ہے بلکہ قومی معیشت، سماجی استحکام اور معاشرتی اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

مذہبی آزادی اور انسانی وقار کا تحفظ ریاستی ذمہ داری

وزیراعظم کے تہنیتی پیغام میں مذہبی آزادی اور انسانی وقار کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور ملک میں ایسا ماحول فروغ دینا چاہتی ہے جہاں ہر فرد اپنے مذہبی عقائد اور ثقافتی روایات کے مطابق زندگی گزار سکے۔

مذہبی آزادی کے عملی تحفظ کے لیے آئینی ضمانتوں کے ساتھ مؤثر قانونی عمل درآمد، مذہبی عبادت گاہوں کا تحفظ، امتیازی رویوں کی حوصلہ شکنی اور تمام شہریوں کے لیے انصاف تک مساوی رسائی اہم تقاضے ہیں۔

ماہرین کے نزدیک مذہبی ہم آہنگی صرف تہنیتی پیغامات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے تعلیمی اداروں، سرکاری پالیسیوں، سماجی رویوں اور روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔

وزیراعظم کے پیغام میں بیان کردہ اصول اسی وسیع تر قومی مقصد سے ہم آہنگ ہیں جس کے تحت پاکستان میں تمام مذہبی برادریوں کے لیے احترام، تحفظ اور ترقی کے مواقع کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

دیوالی کی تقریبات پاکستان کے ثقافتی تنوع کی عکاس

دیوالی ہندو مذہب کے اہم تہواروں میں شمار ہوتی ہے، جسے روشنیوں کے تہوار کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

اس موقع پر ہندو خاندان اپنے گھروں اور مذہبی مقامات کو چراغوں اور روشنیوں سے سجاتے ہیں، خصوصی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور اہلِ خانہ، دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ خوشیاں مناتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ہندو برادری دیوالی کو اپنی مذہبی روایات کے مطابق مناتی ہے۔ سندھ کے مختلف شہروں اور علاقوں میں یہ تہوار خصوصی ثقافتی اور مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔

دیوالی کی تقریبات معاشرتی روابط کو مضبوط بنانے اور مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان خیرسگالی کے جذبات کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔

دیوالی کے موقع پر امن، خوشحالی اور امید کا پیغام عام کرنے کی اپیل

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی پیغام کے اختتام پر امید ظاہر کی کہ پاکستان میں دیوالی منانے والے تمام شہری اس پرمسرت موقع کی مذہبی اور ثقافتی روایات کو بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منائیں گے۔

انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ دیوالی کی خوشیاں معاشرے میں امن، حسنِ ظن، بھائی چارے، خوشحالی اور امید کا پیغام عام کرنے کا ذریعہ بنیں۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ تمام شہری باہمی احترام، رواداری اور قومی یکجہتی کے اصولوں کو مضبوط بنائیں۔

قومی یکجہتی اور مذہبی رواداری کے لیے اہم پیغام

وزیراعظم شہباز شریف کا دیوالی کے موقع پر تہنیتی پیغام پاکستان میں مذہبی رواداری، سماجی ہم آہنگی اور اقلیتی برادریوں کی قومی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ پیغام اس بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی ہے کہ پاکستان کی قومی شناخت میں مختلف مذہبی اور ثقافتی برادریوں کی شرکت ایک اہم حقیقت ہے اور ان کے حقوق، وقار اور مذہبی آزادی کا تحفظ ایک مضبوط معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔

دیوالی کے موقع پر وزیراعظم کی جانب سے امن، محبت، برداشت اور مساوات پر زور اس امید کا اظہار ہے کہ پاکستان میں تمام شہری اپنے مذہبی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود قومی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ مقاصد کے لیے متحد رہیں گے۔

وزیراعظم کے پیغام کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ روشنیوں کا تہوار دیوالی صرف مذہبی خوشیوں کا موقع نہیں بلکہ ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کے عزم کی تجدید بھی ہے جہاں نفرت کی جگہ محبت، عدم برداشت کی جگہ رواداری اور تقسیم کی جگہ قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button