
اسلام آباد: پاکستان کے ایک سرکاری ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوگا، جس کے لیے دونوں ممالک کے وفود کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
منگل کے روز عرب نشریاتی اداروں "العربیہ” اور "الحدث” سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ اس وقت جنگ بندی میں کسی ممکنہ توسیع کے حوالے سے کوئی باضابطہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ ذریعے کے مطابق، "ہمارے پاس فی الحال امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں”، تاہم مذاکراتی عمل کو شیڈول کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے CNN نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بدھ، 22 اپریل کی صبح اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی محمد باقر قالیباف کے سپرد ہوگی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل ایران کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس متضاد صورتحال نے سفارتی حلقوں میں غیر یقینی کیفیت کو جنم دیا ہے اور مذاکرات کے نتائج سے متعلق سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلا مذاکراتی دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جس میں دونوں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔ تاہم بعد ازاں تہران اور واشنگٹن نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مختلف امور پر شدید اختلافات کے باعث کسی طویل المدتی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مذاکرات کے دوسرے دور کا انعقاد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہو سکتی ہے، تاہم کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا دونوں ممالک اپنے اختلافات میں کمی لا کر کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو پاتے ہیں یا نہیں۔ موجودہ حالات میں اعتماد سازی، مستقل مزاجی اور سفارتی سنجیدگی کو کلیدی عوامل قرار دیا جا رہا ہے، جو اس پیچیدہ تنازع کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔


