
قرضوں سے اونچی اڑان ۔۔عوام پریشان ۔۔۔!!تحریر و تحقیق ۔مشتاق رضوی
حکومت پاکستان نے رواں مالی سال جولائی سے اپریل 2026ء تک 11 ارب ڈالر قرض حاصل کیا گیا دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال کی نسبت 83 فیصد زائد قرض لیا گیا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2025ء یعنی 30 جون 2025ء تک پاکستان کے ذمہ 94.197 ٹریلین روپے کا قرض واجب الادا ہے۔ اس میں سرکاری اداروں، پی ایس ایز وغیرہ کا قرضہ بھی شامل ہوتا ہے جو کہ ملک کے جی ڈی پی کا 73.2% سے 70.2% کے درمیان ہے جبکہ قانونی حد 60% ہے، یعنی پاکستان قرضہ لینے کی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ ہر پاکستانی 3,18,252 روپے کا مقروض ہےگذشتہ 10 سال قبل 2014ء میں فی کس قرضہ 90,047 روپے تھا، 2025ء میں 3,18,252 روپے ہو گیا۔یعنی 10 سال میں 3.5 گنا اضافہ ہوا ہے رپورٹس کے مطابق پاکستان پر بیرونی قرضہ 134.97 ارب ڈالرہے، جس میں سے بیرونی قرضہ 103.75 ارب ڈالر ہے۔جبکہ اندرونی قرضہ بیرونی سے دگنا ہے:54.47 ٹریلین بمقابلہ 23.42 ٹریلین روپے ہے گذشت مالی سال 2025ء میں 9.46 ٹریلین روپے سود دیا گیا، جس میں 8.07 ٹریلین صرف اندرونی قرضے کا سود تھا جون 2025ء تک ہر پاکستانی بشمول بچے اور بوڑھے، تقریباً 1,150 سے 1,190 ڈالر یعنی 3.18 لاکھ روپے کا مقروض ہے۔کل قرضہ 286 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جس میں 70% اندرونی اور 30% بیرونی قرضہ شامل ہے۔
حکومت پاکستان نے رواں مالی سال جولائی سے اپریل 2026ء تک 11 ارب ڈالر قرض حاصل کیا گیا دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال کی نسبت 83 فیصد زائد قرض لیا گیا، گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران 6 ارب ڈالر قرض لیا گیا تھا، رواں مالی سال کیلئے مجموعی طور پر تخمینہ 19 ارب 39 کروڑ ڈالر ہے، اپریل میں ساڑھے 4 ارب ڈالر موصول ہوئے جبکہ حکومت رواں ماہ جون کے دوران مزید قرض لے گی۔ گزشتہ سال کی نسبت 5 ارب ڈالر زیادہ قرضہ ملا۔ رواں مالی سال ایشیائی ترقیاتی بینک سےایک ارب 92 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، عالمی بینک گروپ سے 1 ارب 66 کروڑ 39 لاکھ ڈالر، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے 86 کروڑ ڈالر کا تخمینہ ہے جس میں سے 70 کروڑ ڈالر شارٹ ٹرم کیلئے موصول ہوں گے، رواں مالی سال پراجیکٹ فنانسنگ کی مد میں باہمی معاہدوں اور کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت مجموعی طور پر 6 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض حاصل کیا جائے گا۔اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق رواں سال میں آئی ایم ایف سے 2,340 ارب روپے قرضہ لیا گیا جبکہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے 2,725 ارب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مارا گیا ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے قرض رقم سے زیادہ رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی گئی۔ اور حکمرانوں کا دعوی’ ہے کہ پاکستان اونچی اُڑان کی طرف گامزن ہے قیام پاکستان سے لے کر 2026ء تک بیرونی قرضے کی کہانی دراصل پاکستان کی معاشی، سیاسی اور عالمی حالات کی کہانی ہے۔ 1947ء میں خزانہ خالی اور قرضہ صفر تھا، جبکہ جون 2025ء تک یہی قرضہ تقریباً 138 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ 1947ء تا 1958ء لیاقت علی خان سے اسکندر مرزا تک پاکستان کسی مالیاتی ادارہ کا مقروض نہ تھا جبکہ ابتدائی 11 سال میں پاکستان کا بیرونی قرضہ نہ ہونے کے برابر، تقریباً 0.1 ارب ڈالر رہا۔اس دوران پاکستان نے مغربی جرمنی کو بھی قرضہ دیا تھا نئی مملکت کو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں سے بڑی فنڈنگ نہ ملی۔ کوریا جنگ کی وجہ سے جوٹ اور کپاس کی برآمد سے کچھ زرمبادلہ آیا اور معیشت چلتی رہی۔ قرضے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی 1958ء تا 1969ء ایوب خان کا دورمیں پیداواری قرضہ لیا گیا ایوب دور میں پہلی بار بڑے پیمانے پر قرض لیا گیا، تقریباً 1.5 ارب ڈالر۔ یہ رقم منگلا ڈیم، انڈس واٹر ٹریٹی کے منصوبوں اور صنعت کاری پر خرچ ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے اوپر رہی اس لیے معاشیات دان اس قرضےکو "اچھا قرضہ” کہتے ہیں کیونکہ اس سے اثاثے بنے۔ 1969ء تک کل بیرونی قرضہ 1.6 ارب ڈالر کے قریب تھا۔1971ء تا 1977ءبھٹو دور میں قومی معشیت پر جنگ اور نیشنلائزیشن کا دباؤ تھا
ذوالفقار علی بھٹو کے 6 سالہ دور میں 4.5 ارب ڈالر قرضہ لیا گیا۔ 1971ء کی جنگ، سقوطِ ڈھاکہ، 1973ء کا عالمی تیل کے بحران اور بڑے پیمانے پر نیشنلائزیشن نے معیشت کو ہلا دیا۔ بینک، انشورنس اور بڑی صنعتیں سرکاری تحویل میں لینے سے نجی سرمایہ کاری رک گئی۔ نتیجتاً قرضہ بجٹ خسارہ پورا کرنے میں لگا۔ 1977ء تک کل قرضہ 6 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔
1977ء تا 1988ء جنرل ضیاء الحق کے دورمیں تقریباً 8 ارب ڈالر قرض لیا گیا۔ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کی وجہ سے امریکہ اور سعودی عرب سے "امداد” آئی، لیکن اس کا بڑا حصہ قرضے کی شکل میں تھا۔ دفاعی اخراجات بڑھے اور معیشت "ڈالر انجیکشن” پر چلتی رہی۔ 1988ء تک کل قرضہ 14 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔1988ء تا 1999ء: بے نظیر اور نواز شریف کے ادوار میں سیاسی عدم استحکام کا سامنا تھا
11 سال میں 4 بار حکومتیں تبدیل ہوئیں۔ ہر نئی حکومت آتے ہی آئی ایم ایف کے پاس گئی۔ اس عرصے میں 16 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد عالمی پابندیوں نے مزید دباؤ ڈالا۔ مالیاتی خسارہ 7 فیصد سے اوپر رہا۔ 1999ء تک کل قرضہ 30 ارب ڈالر ہو گیا۔ یہ قرضہ زیادہ تر پرانے قرضے اتارنے کے لیے لیا گیا، 1999 تا 2008ء پرویز مشرف دور میں 20 ارب ڈالر قرض لیا گیا، مگر یہ دور "ریلیف” کا دور تھا۔ 9/11 کے بعد پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا اور امریکہ نے 33 ارب ڈالر کی امداد و قرضے دیے۔ قرضے ری شیڈول ہوئے اور نجکاری سے آمدن ہوئی۔ جی ڈی پی خسارہ 80فیصد سے کم ہو کر 55 فیصد پر آ گیا۔ 2008ء تک کل قرضہ 50 ارب ڈالر تھا۔ اسی دور میں پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا اعلان بھی کیا۔2008ء تا 2013ء: پیپلز پارٹی کا دور حکومت عالمی بحران کی زد میں تھاعالمی مالیاتی بحران 2008ء، توانائی کا بحران، دہشتگردی اور 2010ء کے سیلاب نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔ ان 5 سال میں 20 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور کل قرضہ 70 ارب ڈالر ہو گیا۔ جی ڈی پی گروتھ اوسطاً 3 فیصد رہی۔ 2013ء تا 2018ءمیاں نواز شریف کے دور میں 30 ارب ڈالر قرض لیا گیا۔ CPEC کے تحت چینی کمرشل قرضے 6 فیصد سے زائد شرح سود پر لیے گئے۔ میٹرو، موٹروے اور بجلی کے منصوبے لگے۔سی پیک ایک گیم چینجر میگا پراجیکٹ تھا جو کہ پاکستان کے معاشی استحکام اور خود کفالت میں ایک سنگ میل کی اہمیت کا حامل ہے اثاثے تو بنے، مگر قرضے کی واپسی کا بوجھ بعد کی حکومتوں پر آیا۔ 2018ء تک کل قرضہ 80 ارب ڈالر تھا میاں نواز شریف نے آئی ایم ایف کو مستقلا” خیر آباد کہنے کی جامع حکمت عملی بنائی تھی لیکن عالمی استعمارکے سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی طور مستحکم پاکستان کی شاید کوئی جگہ نہیں ہے سی پیک کو رول بیک کرنے اور پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج اور باج گزار بنانے کے لئے آئی ایم ایف نے عمران خان کے دور حکومت میں قرضوں کے منہ کھول دئے گئے 2018ء تا 2022ء کے دوران عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت میں قرضوں تاریخ کا تیز ترین اضافہ ہوا،عمران خان کے 3 سال 8 ماہ میں تقریباً 40 ارب ڈالر قرض لیا گیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت کا سب سے بڑا اضافہ تھا۔ پاکستان کے گذشتہ 76 سالوں میں جتنا مجموعی قرض لیا گیا عمران خان کی حکومت نے اس دوگنا قرضہ لیا اس دوران 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، روپے کی قدر میں 60 فیصد کمی آئی سٹیٹ بنک آف پاکستان کو آئی ایم ایف کے کنٹرول میں دے کر ملک و قوم کومکمل طور پر گروی رکھ دیا گیا COVID-19، 2019ء اور 2021ء کے آئی ایم ایف پروگرام اور اس کے بعد نگران حکومت محسن نقوی کے 6 ماہ میں مزید 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اگست 2022ء تک کل قرضہ 130 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ 2022ء تا 2026ء شہباز شریف کی PDM دور سب سے کم نیٹ قرضہ ملا
یہ دور اعداد کے لحاظ سے منفرد ہے۔ 4 سال میں نیٹ بیرونی قرضہ صرف 8 ارب ڈالر بڑھا، جو ضیاء الحق کے 11 سالہ دور کے برابر ہے۔ جون 2025ء تک کل بیرونی قرضہ 138 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
قرضہ کم کیوں رہا؟ اس کی بڑی وجوہات یہ رہیں کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے ٹحت نیا کمرشل قرضہ لینے پر پابندی تھی صرف پرانے قرضے رول اوور ہوئے۔ملک کو ڈیفالٹ کا خطرہ لاحق تھا: 2022ء میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ عالمی مارکیٹ اور دوست ممالک نیا قرضہ دینے کو تیار نہ تھے۔ سعودی عرب، چین، یو اے ای نے رقم "رول اوور” کی، "فریش کیش” نہیں دیا۔ ایل سیز بند ہونے سے درآمدات کم ترین سطح پر پہنچ گئیں ، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا اور ڈالر کی طلب کم ہوئی۔ بیرونی قرضوں پر فی الوقتی کنٹرول ہوا مگر اندرونی قرضہ 2022ء کے 31 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2025ء میں 50 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا۔ یعنی بوجھ ڈالر سے روپے پر منتقل ہوگیا
اس دوران پاکستان نے 25 ارب ڈالر سے زائد قرضہ واپس بھی کیا۔ اس لیے "Gross Borrowing” زیادہ ہونے کے باوجود "Net Borrowing” ملکی تاریخ میں سب سے کم رہی۔ 2018-2022 ء، پی ٹی آئی دور میں 40 ارب ڈالر حاصل کیا گیا جو کہ 76 سالوں میں لئے گۓ قرضوں کا دوگنا تھا 2022ء-2026ء شہباز شریف دور میں 8 ارب ڈالر نیٹ کم قرضہ لیا گیا۔ 2022ء-2026ء میں قرضہ اس لیے کم رہا کیونکہ پاکستان کی "کریڈٹ ورتھینیس” ختم ہو چکی تھی۔ مہنگائی 38 فیصد تک گئی اور جی ڈی پی گروتھ 0 سے 2 فیصد رہی۔اصل مسئلہ قرض لینا نہیں، قرض واپس کرنے کی اہلیت ہے۔ پاکستان کی سالانہ برآمدات 30 ارب ڈالر اور قرض کی قسط 25 ارب ڈالر ہے۔ جب تک برآمدات 100 ارب ڈالر، ترسیلات 50 ارب ڈالر اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری سالانہ 10 ارب ڈالر نہ ہو، ہر حکومت قرضے کی محتاج رہے گی۔جنرل ایوب کا 1.5 ارب ڈالر ڈیموں میں لگا تو قوم نے 40 سال فائدہ اٹھایا۔ 2018ء-2022ء کا 40 ارب ڈالر خسارہ اور کرنسی بچانے میں لگا تو بوجھ بنا۔ شہباز دور کا 8 ارب ڈالر مجبوری کا ثبوت ہے، کامیابی کا نہیں۔اصل کامیابی قرضہ کم لینا نہیں، بلکہ اس قابل ہونا ہے کہ قرضے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ وہ دن جب پاکستان آئی ایم ایف کے بغیر اپنا بجٹ چلا لے گا، وہی اصل معاشی آزادی کا دن ہو گا۔


