یورپتازہ ترین

جرمنی میں ’ڈیٹ ریپ‘ دواؤں کے استعمال پر سخت سزاؤں کا مطالبہ

جرمنی کی وزیر انصاف اشٹیفانی ہُوبگ نے کہا ہے کہ اس طرح کے جرائم انتہائی خطرناک اور سنگین نوعیت کے جنسی تشدد ہی کی ایک شکل ہیں

اولیور پیپر

جرمنی کی وزیر انصاف نے جنسی حملوں میں استعمال ہونے والی ’ڈیٹ ریپ‘ ادویات کے استعمال پر سخت سزاؤں کی تجویز دی ہے، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

2013 میں فُکس کو ریپ کا نشانہ  اس وقت بنایا گیا، جب وہ ‘ڈیٹ ریپ‘ ادویات کے زیر اثر تھیں۔  بعد ازاں استغاثہ نے کیس ختم کر دیا، حالانکہ ڈی این اے شواہد موجود تھے جو ملزم کے اس حملے میں ملوث ہونے کا پتا دیتے تھے۔ 2020 میں انہوں نے چھ دیگر خواتین کے ساتھ مل کر اپنی تنظیم ‘ناک آؤٹ‘ کی بنیاد رکھی اور تب سے وہ متاثرین کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہی ہیں۔

جب انہیں پتا چلا کہ اس  جرم کے خلاف مجوزہ سخت قانون کے تحت ‘ڈیٹ ریپ‘ ادویات کے استعمال کو ہتھیار کے برابر جرم قرار دے کر کم از کم پانچ سال قید کی سزا دینے کی تجویز دی گئی ہے، تو نینا فُکس نے اسے کامیابی نہیں سمجھا۔ ان کے مطابق یہ اقدام متاثرین کے لیے عملی فائدہ دینے کے بجائے محض علامتی سیاست ہے، جس سے حقیقی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

تنظیم'ناک آؤٹ، نو وِکٹم‘ ( Knockout — No Victim) کی بانی اور سربراہ نینا فُکس
‘ڈیٹ ریپ‘ ادویات یا ناک آؤٹ ڈراپس تیزی سے اثر دکھاتے ہیںتصویر: Andreas Gregor

ناک آؤٹ ڈراپس کے اثرات

‘ڈیٹ ریپ‘ ادویات یا ناک آؤٹ ڈراپس تیزی سے اثر دکھاتے ہیں مگر اتنی ہی جلد جسم سے  غائب بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ بے رنگ اور بے بو مادے ہوتے ہیں جنہیں مجرم خفیہ طور پر متاثرہ فرد کے مشروب میں ملا دیتے ہیں یا بعض اوقات کپڑوں کے اوپر سے سوئی کے ذریعے جسم میں داخل کر دیتے ہیں۔ یہ 10 سے 20 منٹ کے اندر اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتے ہیں اور متاثرہ انسان مزاحمت کے قابل نہیں رہتا، یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو سکتا ہے۔ تاہم صرف 12 گھنٹوں کے اندر خون یا پیشاب میں ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔

جرمنی کی وزیر انصاف اشٹیفانی ہُوبگ نے کہا ہے کہ اس طرح کے جرائم انتہائی خطرناک اور سنگین نوعیت کے جنسی تشدد ہی کی ایک شکل ہیں، جن کا زیادہ تر نشانہ خواتین بنتی ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر تحفظ کے لیے سخت سزائیں ضروری ہیں اور حکومت خواتین کو ایسے حملوں سے بچانے کے لیے قانونی اور دیگر سطحوں پر جامع اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہمیں خاص طور پر خواتین کو حملوں سے بہتر طریقے سے تحفظ فراہم کرنا ہے اور ہم ایسا کریں گے۔ اور اس مقصد کے لیے ہم فوجداری قانون سمیت مختلف سطحوں پر جامع اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘

اس تصویر میں برلن کے ایک نائٹ کلب میں گلاسوں میں مشروبات رکھے دکھائی دے رہے ہیں
یہ بے رنگ اور بے بو مادے ہوتے ہیں جنہیں مجرم خفیہ طور پر متاثرہ فرد کے مشروب میں ملا دیتے ہیںتصویر: Jens Kalaene/dpa/picture alliance

پولیس اکثر متاثرین کی بات پر یقین نہیں کرتی

2013ء میں نینا فُکس کے ساتھجو کچھ ہوا، وہ آج بھی ہو سکتا ہے، حالانکہ جرمنی میں ‘ڈیٹ ریپ‘ ادویات کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب وہ اُس وقت میونخ میں پولیس کے پاس گئیں، جہاں جنسی جرائم کے خلاف ایک خصوصی یونٹ بھی موجود ہے، تو پولیس اہلکاروں نے ان کی بات پر یقین نہیں کیا تھا اور ان کے لیے یہ ان کے ”منہ پر طمانچہ ‘‘ تھا۔

فُکس کے مطابق آج بھی ایسی شکایات سامنے آتی ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ریپ کے بعد پولیس نے چھ گھنٹے تک اس سے پوچھ گچھ کی اور یہ سوال کیا کہ کیا وہ ڈیٹنگ پلیٹ فارم ‘ٹنڈر‘ استعمال کرتی تھی۔

آج 2026 میں بھی کئی پولیس اسٹیشن فوری طور پر شکایت کنندہ کے پیشاب کے نمونے نہیں لیتے، کیونکہ وہ ‘ڈیٹ ریپ‘ ادویات کا پتا لگانے کی صلاحیت کا ضرورت سے زیادہ اندازہ لگاتے ہیں۔

’اپنے مشروب پر نظر رکھیں‘

تنظیم ‘کے او ‘ کی سربراہ فُکس نے اس تصور کو بھی رد کیا کہ کسی کلب میں صرف اپنے مشروب پر کڑی نظر رکھنے سے بھی ہر خطرے سے بچا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر والدین کی طرف سی ملنے والی اس ہدایت پر عمل درآمد غیر مؤثر ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ مادہ پہلے سے گلاس میں موجود ہو سکتا ہے یا کسی باریک سوئی کے ذریعے جسم میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول صرف کسی گروپ میں موجود رہنے سے ہی ایسے ممکنہ حملوں سے بچا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button