
عرب اور خلیجی ممالک ہوش کے ناخن لیں۔…….حرف حق /حافظ شفیق الرحمان
ایران گذشتہ 45 سالوں سے امریکی قدغنوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ عرب ممالک امریکا کے سامنے بچھ چکے ہیں
حالات و حقائق بتاتے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کی سرے سے کوئی پلاننگ نہیں کی تھی۔ یہ ایک غیر قانونی جارحانہ اور قاتلانہ جنگ ہے جو ٹرمپ نے محض اپنی دھاک بٹھانے کے لیے شروع کی۔ اب وہ اس جنگ سے نکلنے کے لیے انر ایبل ایگزٹ مانگ رہا ہے ۔ یہ کل کی بات ہے کہ اسے امریکی بحری بیڑے ابراہام لنکن کی بحری ، زمینی اور فضائی اسلحی طاقت پر بے پناہ غرور تھا۔ جب 28 فروری کی شب جنگ شروع ہوئی تو یکم مارچ کو ایران نے سستے ترین ڈرونز اور میزایلوں کی بارش کا آغاز کیا تو امریکی بحری بیڑے ابراہام لنکن نے ایرانی پانیوں سے تین ہزار کلو میٹر دور دم دبا کر بھاگنے ہی میں عافیت جانی۔ اج جنگ کے 25 ویں دن ہی پوری دنیا جان چکی تھی کہ روز اول سے ایران نے اسرائیل اور امریکہ کی فضائی بالا دستی کے رعب داب کے غبارے میں سے کمال سرعت و مہارت کے ساتھ ہوا نکال دی۔ سپر پاور امریکہ کا عالنی تشخص دیکھتی انکھوں زمیں بوس ہوتا نظر آیا۔
یہ امر لائق توجہ ہے کہ ایران سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں صرف اور صرف امریکی اڈوں ، مفادات اثاثوں اور تنصیبات پر حملہے کر رہا ہے نہ کہ عرب ممالک پر۔ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ یہ امریکی اڈے عرب ممالک کی جغرافیائی حدود میں ہیں۔ امریکی اپنے ان اڈوں کے لیے زمین تو عرب اور خلیجی ممالک کی استعمال کر رہے ہیں لیکن درحقیقت اخری نتیجے میں ان کا مقصد 100 فیصد اسرائیلی مفادات اور دنیا کی پہلی ناجائز ریاست اسرائیل کا تحفظ ہے۔ ایران ان اڈوں پر حملے کر کے عرب ممالک کو نہیں اسرائیلی مفادات کو زک پہنچا اور یوں باالواسطہ عرب ممالک کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں جب اسرائیل نے قطر پر حملہ کیا تو اس وقت ان اڈوں سے ایک بھی امریکی ڈرون اور میزائل اسرائیلی حملہ روکنے کے لیے فائر نہیں ہوا۔ ان اڈوں پر موجود ایک بھی امریکی جہاز نے اڑان بھر کر اسرائیل کے کسی ایک شہر کو بمباری کا نشانہ نہیں بنایا۔ وقت اگیا ہے کہ عرب اور خلیجی ممالک ہوش کے ناخن لیں ، خواب غفلت سے بیدار ہوں اور امریکہ سے کہیں کہ وہ بندے کا پتر بنے اور ان اڈوں سے اپنا بوریا بستر گول کر کے ان کی جغرافیائی حدود سے باہر نکل جائے۔
وطن عزیز کے نامور ، محقق کالم نگار جناب حیات عبداللہ کے ایک کالم کے دو اقتباسات ملاحظہ ہوں: "ایران گذشتہ 45 سالوں سے امریکی قدغنوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ عرب ممالک امریکا کے سامنے بچھ چکے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال کے لیے عورتوں کے فحش ڈانس کروانے والے عربوں کو اب اپنی اس غلطی کا احساس بھی ہو رہا ہے”۔ ان کی مزید تحقیقات کے مطابق: ” عین اس جنگ کی شروعات کے وقت قطر میں 10 ہزار، بحرین میں 9 ہزار اور متحدہ عرب امارات میں 3 ہزار 5 سو امریکی فوجی موجود تھے۔یہی نہیں بلکہ سعودی عرب، کویت اور اردن سمیت خطے کے دیگر ممالک میں بھی ہزاروں امریکی فوجی تعیینات تھے۔مجموعی طور پر اس خطے میں 40 ہزار سے زائد امریکی فوجی موجود تھے، مگر طعن و تشنیع ایران پر کی جاتی رہی ہے”۔
ارڈر اف دی ڈے ( فرمان امروز) یہی ہے کہ یہ عرب ممالک ایران دشمنی کی پرانی اور دیرینہ روش کو بالائے طاق رکھنے کا حکیمانہ فیصلہ کریں۔ انہیں ایران دشمنی میں اس حد تک اگے نہیں جانا چاہیے کہ وہ خطے میں شیعہ سنی فسادات کو فروغ دینے کے لیے سلسلہ جنباں ہو جائیں۔ اس قسم کی سلسلہ جنبانی کا نقصان جہاں خطے کے ممالک کو پہنچے گا ، وہاں مجموعی طور پر عالم اسلام بھی ابتری اور انارکی کا شکار ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف اور صرف عالمی غنڈے امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کو پہنچے گا۔ حالیہ دنوں میں امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل میں شایع ہونے والی یہ رپورٹ خلیجی اور عرب ممالک کے امریکی ساختہ و پرداختہ بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں کی انکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ بشرطے کہ وہ بصارت و بصیرت کی نعمت سے مالا مال ہوں۔ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران پر جتنے بھی حملے کیے جارہے ہیں وہ عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں ہی سے کیے جارہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان ممالک کے حکمران سب جانتے ہوئے بھی کمال ڈھٹائی کے ساتھ انکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ ان ممالک کے امریکی تابع فرمان حکمران بعد میں معصوم میمنے بن جاتے ہیں۔ ایران پر امریکی حملے اس کے کسی بحری بیڑے سے نہیں کیے جا رہے۔ امریکی بحری بیڑا ابراہام لنکن تو ایران کی سرحدوں سے تین ہزار کلومیٹر دور کھڑا ہے۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی از بس ضروری ہے کہ اکتوبر 2001 میں افغانستان اور مارچ 2003 مین عراق پر بمباری کے لیے انہی اڈوں کا استعمال کیا جاتا رہا اور دو مسلم ممالک کے لاکھوں شہریوں کو شہید اور بیسیوں شہروں کو کھنڈر بنا دیا گیا۔ اس تناظر میں مذکورہ ممالک کو ایران پر ہونے والے حالیہ وحشیانہ اور بد معاشانہ حملوں کے حوالے سے کلین چٹ نہیں دی جا سکتی۔

