
ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز اور اے پی کے ساتھ
میرس نے کہا، ”جرمنی اس مقصد کی حمایت کرتا ہے، اگرچہ ہم دونوں جانتے ہیں کہ اسے فوری طور پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
انہوں نے صدر زیلنسکی پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک میں بدعنوانی کے خاتمے اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کے عمل کو تیز رفتاری سے جاری رکھیں۔ فریڈرش میرس نے کہا، ”یہ کوشش قابل قدر ہے۔ اس سمت میں اٹھایا جانے والا ہر قدم یورپ کی طرف ایک قدم ہے۔‘‘
چانسلر میرس کے مطابق یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت ”یورپ میں زیادہ سلامتی اور خوشحالی کے لیے ایک اسٹریٹیجک طور پر اہم قدم‘‘ ثابت ہو گی۔

دفاع اور تعمیر نو میں تعاون پر اتفاق
جرمنی اور یوکرین نے دفاع اور تعمیر نو کے شعبوں میں تعاون سے متعلق متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جبکہ برلن نے ابھی تک جاری روسی فوجی حملے کے خلاف یوکرین کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
یہ معاہدے منگل کی صبح برلن میں جرمن چانسلر میرس اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پائے، جن میں دونوں ممالک کی حکومتوں کے وزرا بھی شریک تھے۔
چانسلر میرس نے کہا کہ دونوں ممالک نے ڈرونز کے ڈیزائن اور تیاری کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میدان جنگ کے ڈیٹا ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کے ساتھ قریبی تعاون جرمنی کی اپنی سلامتی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہم یوکرینی فوج کی مضبوطی اور ثابت قدمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘ میرس نے زور دے کر کہا کہ روس کے لیے یہ جنگ جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ڈرونز سے متعلق معاہدہ
وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرین اور جرمنی نے ایک یورپی اینٹی بیلسٹک میزائل پروگرام اور ڈرونز سے متعلق ایک جامع دوطرفہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
جرمن چانسلر میرس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران زیلنسکی نے کہا کہ ڈرونز سے متعلق یہ معاہدہ یورپ کا سب سے بڑا معاہدہ بن سکتا ہے اور دونوں ممالک کی ٹیمیں اس کے عملی پہلوؤں پر پہلے ہی کام شروع کر چکی ہیں۔
اس دوران جرمن چانسلر نے اعلان کیا کہ جرمنی یوکرین کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی اور میدان جنگ کے ڈیٹا کے شعبوں میں تعاون کرے گا۔
یوکرین کی روس کے خلاف جنگ، جو اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے، کے دوران برلن کییف کا سب سے بڑا حامی بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ نے یوکرین کے لیے اپنی حمایت کم کر دی ہے۔

جنگ کے خاتمے کے معاہدے میں یورپ کی شمولیت ضروری
جرمن چانسلر میرس نے کہا کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے میں یورپ کی شمولیت ضروری ہو گی۔
مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران میرس نے کہا، ”امریکی حکومت جانتی ہے کہ اگر وہ چاہتی ہے کہ یورپ کسی بھی ممکنہ معاہدے پر دستخط کرے، اور یہ دستخط ضروری ہیں، تو یورپ کو اس عمل کا حصہ بنانا ہو گا اور اسے امن معاہدے میں بھی شامل ہونا چاہیے۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ یوکرین کی جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی عمل اور ممکنہ امن معاہدے میں یورپ کا کردار ناگزیر ہے۔
یوکرینی صدر اور جرمن چانسلر کی ملاقات ایسے وقت پر ہوئی ہے جب یہ امید بڑھ رہی ہے کہ یورپی یونین جلد ہی یوکرین کو دسمبر میں طے پانے والا 90 بلین یورو (105 بلین ڈالر) کا قرض فراہم کر سکے گی۔
یہ قرض ہنگری کے قوم پسند وزیر اعظم وکٹور اوربان کی جانب سے روکا گیا تھا، تاہم گزشتہ ہفتے انتخابات میں ان کی قدامت پسند رہنما پیٹر موجور کے ہاتھوں شکست کے بعد یورپی رہنما اب امید کر رہے ہیں کہ یہ فنڈز جلد ہی جاری کر دیے جائیں گے۔
جرمن حکومت کے ترجمان اشٹیفان کورنیلیئس نے پیر کے روز کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ یہ امداد یوکرین کو ”بہت جلد‘‘ فراہم کر دی جائے گی۔



